• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 12, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

دہشت گردی اور پختون بچوں کا مستقبل

by ویب ڈیسک
جنوری 16, 2026
in بلاگ
0
دہشت گردی اور پختون بچوں کا مستقبل
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ
پیارے وطن میں بچوں کی زندگیاں بھی بے رنگ اور مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب چکی ہیں۔ چائلڈ لیبر ایک نیشنل کرائسس ہے مگر ملک اتنے گمبھیر مسائل میں الجھ چکا ہے کہ ان پھولوں کی زندگیوں میں رنگ بھرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں جگہ نہیں بنا سکا۔ دنیا بھر میں 138 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر سے متاثر ہو رہے ہیں، وہیں پاکستان میں پانچ سے چودہ سال کی عمر کے تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بچے کسی نہ کسی طرح کی مشقت میں مصروف ہیں۔ زیادہ تر بچے زراعت، اینٹوں کے بھٹوں، قالین بُننے، گھریلو ملازمین، ورکشاپس، ڈھابوں پر کام کرتے ہیں۔ اب تو بہت سارے بچے گلی، بازاروں اور ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتے بھی نظر آتے ہیں۔ 

 خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر حوالے سے گذشتہ دنوں ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں تقریباً 73.8 فیصد بچے سخت ترین قسم کی مشقت کا شکار ہیں۔ جس صوبے میں ایک سال کے دوران 71 فیصد واقعات دہشتگردی کے ہونگے وہاں بچوں کا مستقبل کتنا روشن ہوگا۔ حیران کن طور پر خیبرپختونخوا کے جس اہم اور تاریخی ضلع بنوں میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 430 واقعات ہوئے ، اسی بنوں ڈویژن میں چائلڈ لیبر کی شرح بھی سب سے زیادہ 11.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی دہشتگردی نے بچوں کی آنکھوں میں سجے حسین خواب اجاڑ کر انہیں مشقت کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔چائلڈ لیبر پر تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 28.5فیصد بچے رات گئے تک مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، 16.2 فیصد بچوں کو کام کے دوران شدید گالم گلوچ اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رپورٹ میں چائلڈ لیبر کی جو بنیادی وجوہات بتائی گئی ہیں وہ اس معاشرے کے بڑے اہم مسائل میں سے چند ایک ہیں جن میں غربت، قدرتی آفات، معاشی بدحالی اور مہنگائی شامل ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی صحافیوں سے ایک ملاقات میں جب معروف تحقیقاتی صحافی رؤف کلاسرا صاحب نے ان سے سوال کیا کہ 13 سال سے پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے لیکن اسلام آباد میں پختون بچے سارا دن محنت مزدوری کرتے ہیں ان کی تعلیم کے لئے کیوں کچھ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں یہ بچے ہوتے تو ڈرون حملے میں مارے جاتے، اور دوسری بات انہوں نے وفاق سے 3 ہزار ارب کے بقایاجات کی کہ اگر وہ لے دیں تو پھر وہ ان بچوں کے لئے سکول بنائیں گے۔

مانا کہ وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ جو امتیازی سلوک کر رہا ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر وفاق قومی مالیاتی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کا لاہور سے بہاولنگر تک کے 465 ارب روپے لاگت کے موٹر وے منصوبہ کو فنڈ کرنے کے لئے تیار سکتا ہے تو خیبرپختونخوا کو اپنا جائز حق کیوں نہیں دے سکتا جو افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے اب تک کسی نہ کسی شکل میں دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ اب وادی تیراہ میں بھی دہشتگردوں کے خلاف ملٹری آپریشن کے باعث انخلاء کروایا جا رہا ہے۔ اس سے بچوں کی تعلیم کا کتنا بڑا نقصان ہو گا۔ کتنے خاندان اپنا گھر بار، کاروبار اور بچوں کی پڑھائی کا نقصان ہو گا۔ سہیل آفریدی کو معلوم ہوگا کہ مصائب میں ہی لیڈر سامنے آکر قوم کی راہنمائی کرتا ہے۔ انھیں اس تکلیف دہ صورتحال میں ان بچوں کی زمہ داری لینا ہوگی۔خیبرپختونخوا میں شرح خواندگی 51.09 فیصد ہے۔ دہشتگردی اور تعلیمی زوال صوبے کی ترقی اور بچوں کے بہتر مستقبل میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ 

 عمران خان کی رہائی تو تب تک ممکن نہیں جب تک موجودہ نظام نہ چاہے، عدالتیں تو خود نظام کی اسیر ہو چکیں، عوام بھی جبر کے اس موسم میں کپتان کی رہائی کے لئے انقلاب لانے کے موڈ میں نہیں۔ لہذا سہیل آفریدی کو چاہیے کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں ان بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ کریں، کچھ وظیفہ لگائیں ، ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھمائیں اور ان کو مزدوری سے نجات دلائیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
دہشت گردی اور پختون بچوں کا مستقبل

دہشت گردی اور پختون بچوں کا مستقبل

Omegle Chat Site Shuts Down After 14 Years And An Abuse Victim's Lawsuit : Npr

کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ

کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ

جنریشن زی سے ڈرے سہمے لوگ

جنریشن زی سے ڈرے سہمے لوگ

سپریم کورٹ کے 4 ججوں کو بھی دھمکی آمیز خط ملنے کا انکشاف

ڈھائی ہزار روپے کے تنازع پر قتل،سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزم کو بری کردیا، کیس تھا کیا ؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In