سمیر ا سلیم کا بلاگ
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے گذشتہ دنوں 18 سال عمر کے ووٹرز پر اعتراض اٹھایا کہ Gen-Z نسل پاکستان کے حالات کے مطابق منشور کا درست جائزہ لینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ حیرت کی بات ہے کہ کائرہ صاحب 19 سالہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنی پارٹی کا چیئرمین تسلیم کر سکتے ہیں مگر 18 سالہ عام نوجوان کے ووٹ ڈالنے پر ان کو اعتراض ہے۔ کائرہ صاحب کے اس سسپنس سے بھرپور بیان سے قبل اسٹیبلشمنٹ کے قریبی سمجھے جانے والے صحافی نے خبر دی تھی کہ سیاسی حلقوں میں ووٹرز کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے پر غور ہو رہا ہے۔اب کائرہ صاحب کی حالیہ گفتگو کو اس پس منظر میں دیکھیں تو بظاہر یہ خبر کی تصدیق کرتی ہے کہ ایسا کچھ ہونے جارہا ہے جس سے آئندہ الیکشن میں 24 سال کے باخبر نوجوانوں کو ووٹنگ عمل سے باہر کر دیا جائے گا۔ اس سب سوچ کے پیچھے یہ منطق کارفرما ہے کہ اس سے عمران خان کی ووٹ کی طاقت میں کمی آئے گی۔اقوام عالم کا رجحان قومی انتخابات کے لئے ووٹرز کی عمر 18 سال سے کم کرنے کی طرف ہے اس کے برعکس ہمارے بومرز کو 18 سال کی عمر پر بھی اعتراض ہے۔ ہم بھی عجیب قوم ہیں 18 سال کے نوجوان سے "شعور کی کمی” کو جواز بنا کر ووٹ کا حق چھیننے کا سوچ رہے ہیں جبکہ اسی "شعور سے عاری” نوجوان کو شادی جیسے زندگی کے انتہائی اہم فیصلے کا حق بخوشی دیتے ہیں۔ گاڑی چلانے کا لائسنس حاصل کرنے کیلئے بھی یہ عمر اہل ہے جس نے روڈ پر نا صرف اپنی زندگی بلکہ دوسری جانوں کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یہ کیسا شعور ہے جو سرحدوں، عوام کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کیلئے کام کرتے وقت تو موجود ہوتا ہے مگر جب معاملہ ووٹ کے استعمال کا آجائے تو کہیں تحلیل ہو جاتا ہے۔
اس وقت مغربی دنیا کے کئی ممالک میں ووٹرز کی عمر 18 سال سے بھی کم کر دی گئی ہے۔ آسٹریا، ارجنٹائن، برازیل، جرمنی کے کچھ حصوں، برطانیہ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں 16 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو پہلے سے ہی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے۔ بلکہ برطانیہ کے اگلے انتخابات میں تو باقاعدہ 16 سے 17 سال کی عمر کے افراد ووٹ ڈالیں گے۔برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ایک ریسرچ کے مطابق آنے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ بڑھ سکتا ہےاور اس کی وجہ 16 سے 17 سال کے پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹرز ہونگے جن کی تعداد 18 سے 20 سال کی عمر کے دوسرے ووٹرز کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ ہو گی۔ تاہم برطانیہ میں انتخابی نتائج میں کوئی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی کیونکہ انتخابی حلقوں میں اس ایج بریکٹ کے افراد کی تعداد 1.5 فیصد ہے۔ مغربی ممالک انتخابات میں ٹرن آؤٹ بڑھانے اور بچوں کے سیاسی اور شہری حقوق پورے کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ 18 سالہ پختہ ذہن نوجوانوں سے اس کا سیاسی رائے دہی کا حق چھیننے کا پلان بنا رہے ہیں۔
جنوبی ایشیائی ممالک میں جنریشن زی نے جس طرح عوامی طاقت سے اپنی حکومتوں کا تختہ الٹ کر جو کارنامے سر انجام دیئے ہیں یہی خوف ہمارے ملک کی اشرافیہ کو چین نہیں لینے دے رہا۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر جو بیانیہ یہ بیچنا چاہتے ہیں جنریشن زی وہ خریدنے کو تیار نہیں۔ ڈیجیٹل دور کے ساتھ پروان چڑھنے والی یہ نسل جمہوریت کی روح کو اس کے پورے لوازمات کے ساتھ سمجھتی ہے اور فقط کھوکھلے نعروں، وعدوں اور اعداوشمار میں ردوبدل کر کے بنائے گئے بیانیہ کو ماننے سے انکاری ہے۔ حکمران یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ یہ نسل تبدیلی کی عالمی رفتار کو تیز کر رہی ہے اور اس نسل کی ترجیحات کو سمجھے بغیر ان کے اعتماد کو محض نعروں سے نہیں جیتا جا سکتا۔
گزشتہ ایک برس سے کرپشن، اقتصادی عدم مساوات اور روزگار کے مواقع میں کمی کے خلاف متعدد ممالک مڈغاسکر، پیرو، مراکش جیسے ممالک میں جنریشن Z اکثر سڑکوں پر آجاتی ہے جبکہ نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں اس نے حکومتیں الٹ دیں۔شعور سے محروم اس نسل سے بچنے کا حل ہمارے ان ڈرے سہمے حکمرانوں کے پاس یہ ہے کہ اٹھائیس ویں ترمیم کے ذریعے 25 سال تک کے نوجوانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا جائے تاکہ ووٹ کے ذریعے پرامن تبدیلی کی کسی بھی خواہش کو روکا جا سکے۔ حالانکہ ووٹ کی طاقت تو پہلے بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکی۔ 8 فروری کا عوامی فیصلہ ان کے خلاف ہوتے ہوئے بھی اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے۔
پاکستان میں کل ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 34 لاکھ 17 ہزار 500 ہے جن میں سے 18 سے 25 سال کے ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 46 لاکھ 68 ہزار بنتی ہے۔ اگر 13 کروڑ ووٹرز میں سے 2 کروڑ کو نکال بھی دیا جائے تو بھی گارنٹی نہیں کہ نتائج ان کے حق میں آئیں گے۔ اس وقت 26 سے 35 اور 36 سے 45 سال کے عمر کے ووٹرز کی تعداد تقریباً 6 کروڑ ہے اور یہ گروپ بھی نظام کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ حکمرانوں کے پاس دو تہائی اکثریت بھی ہے پھر اتنے جتن کرنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ آئین میں ترمیم کرکے موجودہ پارلیمنٹ، حق حکمرانی اور نظام کو تاحیات قرار دے دیا جائے۔ اس سے الیکشنز پر عوام کا وقت اور اربوں روپے ضائع ہونے سے بچ جائیں گے ۔الیکشن پٹیشنز سے عدالتوں پر کیسز کا بوجھ بھی نہ ہوگا۔ججز بھی قائم و دائم رہیں گے یوں ہر طرف خوشی کا دور دورہ ہوگا۔





