اسلام آباد:بینکر سٹی ہاؤسنگ اسکینڈل میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی طویل، جامع اور نتیجہ خیز تفتیش بالآخر منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ مؤثر قانونی کارروائی اور قیمتی اراضی کی کامیاب واگزاری کے بعد نیب نے متاثرین میں رقوم کی تقسیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس سے برسوں سے انصاف کے منتظر شہریوں کے دلوں میں امید کی نئی کرن جاگ اٹھی ہے۔

یہ کیس تقریباً بیس سال قبل منظرِ عام پر آیا تھا، جس میں ایک رہائشی منصوبے کے نام پر عوام سے بھاری رقوم وصول کی گئیں اور 12 ہزار سے زائد افراد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے تھے۔ متاثرین طویل عرصے تک مایوسی اور بے یقینی کا شکار رہے، تاہم نیب نے واضح کر دیا کہ عوامی رقوم کے تحفظ اور بدعنوانی کے خلاف احتساب کی کوئی معیاد (ایکسپائری ڈیٹ) نہیں ہوتی۔
پہلے مرحلے میں 476 متاثرین کو 341 ملین روپے کی ادائیگی
رقوم کی واپسی کے پہلے مرحلے میں نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان نے 476 متاثرین میں مجموعی طور پر 341 ملین روپے تقسیم کیے۔

نیب کے مطابق متاثرین کو ان کی اصل سرمایہ کاری کے تقریباً ڈھائی گنا رقوم واپس کی گئیں، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ طویل عرصے تک رقوم رکے رہنے کے باوجود متاثرین کے مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا گیا۔
متاثرین تک خود رسائی — نیب کی فعال حکمتِ عملی
چونکہ یہ ایک پرانا کیس تھا اور کئی متاثرین کے پتے اور رابطہ نمبرز تبدیل ہو چکے تھے، اس لیے نیب نے ازخود متاثرین کی نشاندہی، کلیمز کی جامع جانچ پڑتال اور براہِ راست رابطے کے لیے ایک منظم اور فعال حکمتِ عملی اپنائی۔ متاثرین کو بروقت آگاہ کیا گیا تاکہ کوئی بھی حق دار اپنے حق سے محروم نہ رہ جائے۔

تقریب میں جذباتی مناظر
تقریب کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ متاثرین نے بتایا کہ وہ اس کیس میں تقریباً تمام امید کھو چکے تھے، مگر نیب کی جانب سے اچانک رابطہ اور شفاف طریقۂ کار کے تحت رقوم کی واپسی نے انہیں آبدیدہ کر دیا۔
ایک غیر ملکی متاثرہ خاتون نے کہا:“مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ نیب کا عملہ خود رقم کی واپسی کے لیے مجھ سے رابطہ کرے گا۔ آج کا دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔”
احتساب کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں، چیئرمین نیب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ احتساب کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہوتی۔ عوامی رقوم لوٹنے والوں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرین کو ان کا حق دلانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

2026 کا آغاز بھی میگا ریکوری سے
ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان نے اپنے خطاب میں کہا:“ہم چاہتے ہیں کہ ہر متاثرہ فرد کو اس کا مکمل حق ملے۔ عوامی رقوم کی تیز رفتار اور شفاف ریکوری کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے سال 2025 کو چیٹنگ پبلک ایٹ لارج کیسز میں سب سے زیادہ کارکردگی دکھانے والے ریجن کے طور پر مکمل کیا، جبکہ سال 2026 کا آغاز بھی بینکر سٹی کیس میں تاریخی ریکوری سے کیا گیا، جو ادارے کی مستقل مزاجی اور عزم کا مظہر ہے۔
آن لائن کلیم ڈسبرسمنٹ سسٹم کا اعلان
نیب نے شفافیت اور عوامی سہولت کے لیے آن لائن کلیم ڈسبرسمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے تحت باقی متاثرین کی رقوم کلیم ویریفکیشن کے بعد براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی، تاکہ انہیں دور دراز علاقوں سے نیب دفاتر کے غیر ضروری چکر نہ لگانے پڑیں۔

آخری متاثرہ فرد تک انصاف کا عزم
تقریب کے اختتام پر نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بینکر سٹی کیس سمیت عوامی مفاد کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری متاثرہ فرد کو بھی اس کا مکمل اور قانونی حق ادا نہیں ہو جاتا۔






