دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق لندن/کیمبرج / برطانیہ میں مقیم پاکستانی اختلافی رہنماؤں پر ہدف بنا کر کیے گئے منظم حملوں کے سلسلے میں تین افراد پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہےجبکہ برطانوی کاؤنٹر ٹیررازم پولیس نے معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ حملے کیمبرج شائر اور بکنگھم شائر میں سابق پاکستانی وزیرِاعظم عمران خان کے دو نمایاں حامیوں پر کیے گئے، جن میں انسانی حقوق کے معروف وکیل اور عمران خان کی کابینہ کے سابق رکن مرزا شہزاد اکبر بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملوں کا آغاز کرسمس کی شب ہوا اور اس کے بعد چار مختلف واقعات پیش آئے۔ واقعات کی سنگینی اور منظم نوعیت کے باعث لندن، ایسکس اور مڈلینڈز میں مجموعی طور پر سات مقامات پر چھاپے مارے گئے اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
تحقیقات ابتدائی طور پر مقامی پولیس کر رہی تھی، تاہم حملوں کی ’’انتہائی ہدف شدہ‘‘ نوعیت کو دیکھتے ہوئے کیس کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے سپرد کر دیا گیا۔
مرزا شہزاد اکبر نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا کہ ایک شخص ان کے گھر آیا، دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ان کی شناخت کی تصدیق کی اور پھر اچانک ان پر حملہ کر دیا۔ان کے مطابق حملہ آور نے انہیں تقریباً 30 گھونسے مارے، جس کے بعد وہ شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہو گئے۔
کاؤنٹر ٹیررازم پولیس لندن کے مطابق جن تین افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے، وہ تمام برطانوی شہری ہیں۔
بیڈورتھ کے رہائشی چالیس سالہ کارل بلیک برڈ پر 24 دسمبر کو ہونے والے دو مبینہ حملوں میں جسمانی نقصان پہنچانے کی سازش کا الزام ہے ۔کووینٹری کے رہائشی 39سالہ کلارک میکالے پر چیشرم میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث ہونے اور حملے کی سازش کا الزام ہے جبکہ ووڈ گرین، لندن کے رہائشی 21 سالہ ڈونیٹو بریمر پر 31 دسمبر کو مرزا شہزاد اکبر کے گھر پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔
بریمر پر اس کے علاوہ ممنوعہ ہتھیار رکھنے، انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کے ارادے سے آتش زنی کی سازش اور خطرناک حد تک لاپرواہی کے ساتھ آتش زنی کی منصوبہ بندی جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
تینوں ملزمان کو جمعہ کے روز چارج کیا گیا اور انہیں آج ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
اس حوالے سے مزید گرفتاریاں اور چھاپے بھی عمل میں لائے گئے جس میں پولیس کے مطابق5 جنوری کو ایسکس سے 34 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا جسے بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
بدھ کے روز مزید پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے تین پر اب فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔
برمنگھم سے 30 سالہ شخص اور شمالی لندن سے 40 سالہ خاتون کو بھی گرفتار کر کے ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔
جمعہ کو وارک شائر سے 25 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا جو تاحال لندن کے ایک پولیس اسٹیشن میں زیرِ حراست ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم پولیس نے برمنگھم میں چار، کووینٹری میں ایک، وارک شائر میں ایک اور لندن میں دو مقامات پر تلاشی کارروائیاں بھی کیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حملوں کے پیچھے اصل محرک کیا تھا، اور آیا تمام واقعات ایک ہی منصوبے کا حصہ تھے یا نہیں۔
مرزا شہزاد اکبر نے بتایا کہ وہ حملوں کے بعد روپوش ہیں اور شدید خوف کا شکار ہیں۔انہوںنے کہا کہ وہ مجھے ڈرانا اور خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ میں اپنی اور اپنے خاندان کی جان کے لیے خوفزدہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہاکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والا پاکستانی اختلافی رہنما ہوں اور پاکستانی حکومت اور فوجی حمایت یافتہ نظام کا کھلا ناقد ہوں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ حملہ کس نے کروایا، لیکن یہ ایک منظم اور ہدف بنا کر کیا گیا حملہ تھا، اور حملہ آور ممکنہ طور پر کسی کے کہنے پر آئے تھے۔





