سمیرا سلیم کا بلاگ
خواجہ آصف کے پرتگال میں بیوروکریٹس کا جائیدادیں بنانے کے بیان کے بعد بیوروکریسی میں دہری شہریت رکھنے کا معاملہ ایک موضوع بحث بن گیا ہے۔ اس معاملے نے پارلیمنٹرینز کو پھر اس امتحان میں ڈال دیا ہے جس میں وہ ہر بار فیل ہوتی رہی۔ہوا کچھ یوں کہ گذشتہ روز قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں سول سرونٹس بل زیر غور آیا۔ کمیٹی ارکان کی اکثریت نے سول سرونٹس کی دہری شہریت پر پابندی لگانے کے حق میں رائے دی حتی کہ اراکین نے مطالبہ کیا کہ دوہری شہریت پر پابندی کے قانون کو ججز تک بڑھایا جائے۔
اسی طرح کی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی تھی۔ جنوری 2014 میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور صغراں امام نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں آئین کی شقوں 177 اور 193 میں ترامیم کرتے ہوئے تجویز دی گئی کہ دہری شہریت کے حامل افراد سپریم کورٹ یا اعلیٰ عدلیہ کے جج نہیں بن سکتے۔ایک اور مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ سروس آف پاکستان کا کوئی بھی حصہ کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے کا مجاز نہیں۔اس ترمیم کے تحت سرکاری ملازمین و مسلح افواج کے اہلکاروں پر دہری شہریت رکھنے پر آئینی پابندی کی تجویز دی گئی۔تاہم اس میں دہری شہریت کے حامل افراد کو ججز یا سول و مسلح افواج میں شمولیت کااس شرط پر اہل قرار دیا گیا کہ اگر وہ اس قانون کے نفاذ کے بعد 60 دن کے اندر کسی دوسرے ملک کی شہریت سے دستبردار ہوجائیں۔یہ وہ دن تھے جب مختلف اعلیٰ عدالتوں نے دہری شہریت رکھنے والے ججز کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اس وقت بھی اگرچہ فوجی قوانین کے تحت افوج پاکستان میں کسی بھی فرد پر دہری شہریت رکھنے پر پابندی عائد تھی تاہم اس بل کی منظوری کے بعد یہ آئینی پابندی بھی بن جاتی۔ پارلیمینٹ نے یہ بھاری پتھر نہ اٹھانے میں ہی عافیت جانی۔ پھر چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کا دور آیا۔ انھوں نے 2018 میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے دوہری شہریت پر پابندی لگانے کی سفارش کی۔ مگر اراکین پارلیمنٹ کو بابوز پر پابندی لگانے کی جرات نہ ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب دہری شہریت کے حامل افراد کے الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کی اجازت کا معاملہ تھا تو اراکین پارلیمنٹ نے پابندی لگانے میں کوئی دیر نہ کی مگر جب جب سرکاری بابوز کی دہری شہریت پر پابندی کا مطالبہ ہوا تو ہمارے پارلیمنٹیرینز نے بیچ چوراہے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔
پاکستان میں ہر دوسرے سال بیوروکریٹس کی یورپ ،امریکہ، کینیڈا،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں پراپرٹی اور شہریت رکھنے کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ سیاستدان ان کے خلاف چند بڑھکیں مارتے ہیں اور جب قانون سازی کا وقت آتا ہے لیٹ جاتے ہیں۔سب بیوروکریٹس ایک جیسے نہیں ان میں کچھ بلند کردار کے بھی ہیں مگر اکثریت ملک کو مفتوحہ علاقہ سمجھ کر نوچتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تیس پینتیس سال قوم کی قسمتوں کے فیصلے کرنے کے بعد جیب میں شہریت لیئے اپنے اصل وطن کوچ کر جاتے ہیں۔یہ ملک کو اس قابل بھی نہیں چھوڑتے کہ ریٹائرمنٹ کی زندگی یہاں گزار سکیں۔اس ملک کیلئے کچھ بہتر کیا ہوتا تو کیوں دہری شہریت رکھنے اور بیوی بچوں کو وہاں منتقل کرنے کی نوبت آتی۔
ہم ایسے مہان ہیں کہ اتنے برسوں میں اب تک یہی فیصلہ نہ ہوا کہ حاضر سروس بیوروکریسی پر دہری شہریت کی پابندی لگائی جائے یا نہیں۔ادھر ہمارے دوست ملک چین نے اپنے تمام سرکاری حکام اور پارٹی عہدیداروں سے کہا کہ یا تو بیرون ملک مقیم اپنے بیوی بچے واپس لائیں یا پھر عہدے سے ہٹ جائیں۔ چین نے ملکی سیکیورٹی سب سے پہلے کی پالیسی کے تحت 2014 میں ناصرف ایسے تمام سرکاری حکام بلکہ پارٹی عہدیداروں کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا جن کے بیوی بچے بیرون ممالک بالخصوص کینیڈا ، امریکا ، آسٹریلیا یا یورپ میں مقیم تھے۔چین میں جن سرکاری افسران یا پارٹی عہدیداران کی فیملی دیگر ممالک میں مقیم ہو انھیں naked officials کہا جاتا ہے۔ ایسے افسران کی پروموشنز روک دی گئیں۔
بیجنگ نے دو ٹوک پیغام دیا کہ اپنے بیوی،بچوں کو واپس لائیں یا پھر اپنے عہدے سے ہٹ جائیں۔ چینی قیادت کا ماننا تھا کہ اہل خانہ کو بیرون ملک رکھنے والے حکام دباؤ، پابندیوں اور خفیہ ایجنسیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، لہذا ان کی وفاداری کسی بھی لمحے کمپرومائز ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چینی قیادت نے ایسا کرنے سے پہلے خود سے سوال کیا کہ اگر چینی حکمرانوں کے بچے مغربی ممالک میں رہیں تو کیا چین ملکی مفاد میں مغرب کے خلاف سخت فیصلہ کر پائے گا؟ ہم پاکستانی غور کریں تو چینی قیادت کے اس فیصلے میں گہری دور اندیشی اور بصیرت پائی جاتی ہے اگر یہی سوال خود سے کریں تو ہمارا جواب بھی یقینا وہی ہوگا جو چینی قیادت کا تھا۔
دوسری طرف ہمارے پاکستانی حکمران،بیوروکریٹس اور فیصلہ سازوں کے بچے مغربی ممالک کی ناصرف شہریت رکھتے ہیں بلکہ کاروبار، بینک بیلنس اور جائیدادیں بھی وہیں ہیں۔ ہمارے ہاں ملکی سلامتی کے معیار دنیا سے الگ ہیں۔ یہاں چند ٹویٹس، تنقیدی جملوں سے ہی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
چین نے2014 میں کریک ڈاؤن کے دوران اپنے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں 850 سے زائد ایسے سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جن کے بیوی اور بچے بیرون ممالک ہجرت کر چکے تھے ۔ بیجنگ نے Naked officials کو اعلیٰ عہدوں سے نکالنے کا عمل مزید تیز کر دیا یے اور نومبر 2025 تک چینی حکومت کم ازکم 20 اہلکاروں کو ان کے بنیادی عہدوں سے ہٹا چکی ہے۔ایک ہم ہیں کہ بیوی بچے تو کجا ان دہری شہریت کے حامل حاضر سروس بابوز کے بارے ہی اب تک فیصلہ نہیں کر پائے۔ایک بار پھر امتحان کا لمحہ آگیا ہے دیکھتے ہیں کہ اس بار پارلیمینٹیرینز امتحان پاس کر پاتے ہیں یا جیت پھر طاقتور بیوروکریسی کی ہوگی۔





