رپورٹ : رافعہ زاہد
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آج صبح سے سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف ایک بڑے اور مربوط کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی تقریباً 12 مختلف مقامات پر کی گئی، جن میں خاص طور پر نوشکی، گوادر اور کوئٹہ شامل تھے۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد حملے ناکام بنائے اور علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے اور تاحال کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
بلوچستان کے کلیئرنس آپریشن کی تازہ ترین تفصیلات وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا اور سیاسی امور، شاہد رند نے عوام کے سامنے بیان کیں اور کہا کہ بلوچستان میں آج سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑے کلیئرنس آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں اور اس وقت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم اور سرفراز بگٹی ایک ہی کنٹرول روم سے آپریشن کی نگرانی اور فیصلہ سازی کر رہے ہیں۔
شاہد رند نے یہ بھی بتایا کہ گوادر میں سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو ہوا، جن میں مزدور، خواتین اور بچے شامل تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ کے ریڈ زون میں پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث دہشت گردوں کی کارروائی محدود رہی، اور آپریشن مکمل ہونے کے بعد سرفراز بگٹی عوام کے سامنے شواہد پیش کریں گے کہ کس طرح پولیس نے دہشت گردوں کی گاڑیوں کو آخری لمحے تک روکا اور شہریوں کی حفاظت کی۔
ماضی میں بلوچستان میں مختلف حملوں میں مختلف شدت پسند گروہوں کے نام زیرِ بحث رہے ہیں، جن میں داعش خراسان، بی ایل اے اور دیگر گروہ شامل ہیں۔
پاکستان میں داعش خراسان کے اہم رہنما اور میڈیا نیٹ ورک کے سربراہ سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری 16 مئی 2025 کو عمل میں آئی تھی۔ تاہم، وہ افغانستان کا کوئی سرکاری یا سیاسی لیڈر نہیں تھا بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم کا مرکزی رکن اور ترجمان تھا۔ اس گرفتاری کی تصدیق پاکستان ٹیلی وژن (PTV)، روزنامہ ڈان، ڈیلی پاکستان اور اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ میں کی گئی ہے، جن کے مطابق سلطان عزیز اعظّام داعش خراسان کے پروپیگنڈا اور میڈیا ونگ الاعظائم فاؤنڈیشن سے وابستہ تھا اور اس کی گرفتاری پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت تھی۔
پاکستان سلطان عزیز اعظّام سے انویسٹی گیشن کے ذریعے مزید تفصیلات سامنے لا سکتا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ داعش خراسان کے اصل ماسٹر مائنڈ کون ہیں اور ممکنہ بین الاقوامی روابط کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
سلطان عزیز اعظّام کے علاوہ، پاکستان کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے دہشت گرد عناصر کے خلاف متعدد اہم کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں محمد شریف اللہ (جعفر)، جو داعش کے اعلیٰ کمانڈروں میں شامل تھا، اور ابو یاسر الترکی، جو داعش خراسان کے میڈیا اور لاجسٹک آپریشنز میں ملوث تھا، کی گرفتاری قابلِ ذکر ہے۔ اس کے علاوہ مختلف دھماکوں اور حملوں میں ملوث مبینہ دہشت گرد، بی ایل اے سے وابستہ عناصر اور دیگر شدت پسندوں کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں بعض بلوچستان اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان گرفتاریوں کا مقصد ملک میں امن قائم رکھنا اور شدت پسند گروہوں کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے، اور یہ کارروائیاں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی مستقل کوششوں کا حصہ ہیں۔
حتمی طور پر اس بات کا تعین کلیئرنس آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا کہ ان حملوں کے اصل ذمہ دار کون تھے، اور اس کے بعد ہی ریاستِ پاکستان آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔





