• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, فروری 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

وفاقی دارالحکومت میں پہلی جنگ عظیم کی برطانوی یادگار مسمار

by ویب ڈیسک
فروری 4, 2026
in پاکستان
0
وفاقی دارالحکومت میں پہلی جنگ عظیم کی برطانوی یادگار مسمار
0
SHARES
47
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں واقع پہلی جنگِ عظیم کی برطانوی یادگار کو ڈویلپرز کی جانب سے مسمار کر دیا گیا، جسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ یادگار کو منہدم کیے جانے پر محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر (ڈوام) اور وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

گزشتہ اتوار تک یہ تاریخی یادگار کوری روڈ پر گاؤں ریہارہ کے قریب تقریباً 40 فٹ بلند ایک ٹیلے پر قائم تھی۔ یادگار کے اطراف کی زمین کو ایک مجوزہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے کمرشل ایریا کی تعمیر کی غرض سے صاف اور ہموار کیا جا رہا تھا۔

محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر نے اس سے قبل ہاؤسنگ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو یادگار کی منتقلی یا چھیڑ چھاڑ سے روک رکھا تھا۔ تاہم منگل کے روز جب ڈوام کے حکام نے موقع کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلے کو مکمل طور پر ہموار کر دیا گیا ہے جبکہ یادگار کو توڑ کر ختم کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں یادگار کے چند پتھر اور بلاکس تازہ ہموار کی گئی زمین پر بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ یادگار برطانوی سلطنت نے 1914 کے بعد پہلی جنگِ عظیم میں حصہ لینے والے مقامی سپاہیوں کی یاد میں تعمیر کی تھی۔ یہ یادگار نہ صرف تاریخی اہمیت کی حامل تھی بلکہ ریہارہ اور گردونواح کے ان افراد کی قربانیوں کی علامت بھی سمجھی جاتی تھی جنہوں نے عظیم جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ذرائع کے مطابق، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم نے تقریباً چھ ماہ قبل ڈوام سے یادگار کو اس کی اصل جگہ سے تقریباً 100 میٹر دور ایک مجوزہ چوک میں منتقل کرنے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) کی درخواست کی تھی۔ سی ڈی اے نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یادگار کو چوک میں منتقل کرنے سے اس کی نمائش اور عوامی رسائی بہتر ہو جائے گی، جبکہ چوک کو پہلی جنگِ عظیم کی یادگار کے نام سے منسوب کر کے اس کی تاریخی اہمیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

تاہم محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یادگار کو اس کے اصل مقام سے ہٹانا اس کے مقصد اور معنویت کو ختم کر دے گا۔ ڈوام کے مطابق یہ یادگار خاص طور پر ان مقامی دیہات کے شہداء کے اعزاز میں تعمیر کی گئی تھی، اس لیے اس کا تحفظ اسی مقام پر ضروری تھا۔

محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ یادگار کو اسلام آباد کے محفوظ تاریخی مقامات کی فہرست میں شامل کیا جائے، جس کے لیے سی ڈی اے کی جانب سے زمین اور ریکارڈ سے متعلق ضروری دستاویزات فراہم کی جانی تھیں۔

ڈان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق، ڈوام 2020 سے مسلسل سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا اور شہری ادارے کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو خطوط لکھتا رہا ہے تاکہ جنگی یادگار اور دیگر تاریخی مقامات کا ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔ ان مقامات میں مغل دور کی ریہارہ مسجد بھی شامل ہے، جو یادگار سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تاہم سی ڈی اے کی جانب سے کسی خط کا جواب نہیں دیا گیا۔

وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران ڈوام کی جانب سے بھیجے گئے متعدد خطوط کا سی ڈی اے نے ایک بار بھی جواب نہیں دیا۔

اہلکار کے مطابق قومی ورثہ و ثقافت کے وزیر اورنگزیب خان کھچی کو اس واقعے پر خاصی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، بالخصوص اس وقت جب یونیسکو کے نمائندے پاکستان کے دورے پر موجود تھے اور انہیں یادگار کی مسماری کی خبر موصول ہوئی۔ واقعے کی مکمل رپورٹ مزید کارروائی کے لیے وزیر کو ارسال کر دی گئی ہے۔

وزیر اورنگزیب خان کھچی سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے فون کال کا جواب نہیں دیا۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
پاکستانی نان فائلرز کو بڑا دھچکا ،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بڑی پابندی کی منظوری دیدی

25 لاکھ سے 52 لاکھ تک ،سینٹ فنانس کمیٹی میں پاکستان سنگل ونڈو اور PRAL کے سربراہان کو بھاری تنخواہیں دیے جانے کا انکشاف

آوارہ کتے سے حادثے میں ایک شخص کی موت ، شہری کو اپنی ہی موت کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کیخلاف مقدمہ درج

آوارہ کتے سے حادثے میں ایک شخص کی موت ، شہری کو اپنی ہی موت کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کیخلاف مقدمہ درج

نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی دوران سماعت کیا کرتے رہے؟

ہارڈ اسٹیٹ، دہشتگردی اور عمران خان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In