ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں واقع پہلی جنگِ عظیم کی برطانوی یادگار کو ڈویلپرز کی جانب سے مسمار کر دیا گیا، جسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ یادگار کو منہدم کیے جانے پر محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر (ڈوام) اور وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
گزشتہ اتوار تک یہ تاریخی یادگار کوری روڈ پر گاؤں ریہارہ کے قریب تقریباً 40 فٹ بلند ایک ٹیلے پر قائم تھی۔ یادگار کے اطراف کی زمین کو ایک مجوزہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے کمرشل ایریا کی تعمیر کی غرض سے صاف اور ہموار کیا جا رہا تھا۔
محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر نے اس سے قبل ہاؤسنگ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو یادگار کی منتقلی یا چھیڑ چھاڑ سے روک رکھا تھا۔ تاہم منگل کے روز جب ڈوام کے حکام نے موقع کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلے کو مکمل طور پر ہموار کر دیا گیا ہے جبکہ یادگار کو توڑ کر ختم کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں یادگار کے چند پتھر اور بلاکس تازہ ہموار کی گئی زمین پر بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ یادگار برطانوی سلطنت نے 1914 کے بعد پہلی جنگِ عظیم میں حصہ لینے والے مقامی سپاہیوں کی یاد میں تعمیر کی تھی۔ یہ یادگار نہ صرف تاریخی اہمیت کی حامل تھی بلکہ ریہارہ اور گردونواح کے ان افراد کی قربانیوں کی علامت بھی سمجھی جاتی تھی جنہوں نے عظیم جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ذرائع کے مطابق، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم نے تقریباً چھ ماہ قبل ڈوام سے یادگار کو اس کی اصل جگہ سے تقریباً 100 میٹر دور ایک مجوزہ چوک میں منتقل کرنے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) کی درخواست کی تھی۔ سی ڈی اے نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یادگار کو چوک میں منتقل کرنے سے اس کی نمائش اور عوامی رسائی بہتر ہو جائے گی، جبکہ چوک کو پہلی جنگِ عظیم کی یادگار کے نام سے منسوب کر کے اس کی تاریخی اہمیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
تاہم محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یادگار کو اس کے اصل مقام سے ہٹانا اس کے مقصد اور معنویت کو ختم کر دے گا۔ ڈوام کے مطابق یہ یادگار خاص طور پر ان مقامی دیہات کے شہداء کے اعزاز میں تعمیر کی گئی تھی، اس لیے اس کا تحفظ اسی مقام پر ضروری تھا۔
محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ یادگار کو اسلام آباد کے محفوظ تاریخی مقامات کی فہرست میں شامل کیا جائے، جس کے لیے سی ڈی اے کی جانب سے زمین اور ریکارڈ سے متعلق ضروری دستاویزات فراہم کی جانی تھیں۔
ڈان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق، ڈوام 2020 سے مسلسل سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا اور شہری ادارے کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو خطوط لکھتا رہا ہے تاکہ جنگی یادگار اور دیگر تاریخی مقامات کا ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔ ان مقامات میں مغل دور کی ریہارہ مسجد بھی شامل ہے، جو یادگار سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، تاہم سی ڈی اے کی جانب سے کسی خط کا جواب نہیں دیا گیا۔
وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران ڈوام کی جانب سے بھیجے گئے متعدد خطوط کا سی ڈی اے نے ایک بار بھی جواب نہیں دیا۔
اہلکار کے مطابق قومی ورثہ و ثقافت کے وزیر اورنگزیب خان کھچی کو اس واقعے پر خاصی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، بالخصوص اس وقت جب یونیسکو کے نمائندے پاکستان کے دورے پر موجود تھے اور انہیں یادگار کی مسماری کی خبر موصول ہوئی۔ واقعے کی مکمل رپورٹ مزید کارروائی کے لیے وزیر کو ارسال کر دی گئی ہے۔
وزیر اورنگزیب خان کھچی سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے فون کال کا جواب نہیں دیا۔



