سمیرا سلیم کا بلاگ
اقتصادی ترقی کا جو پیمانہ اور اکاؤنٹنگ سسٹم سرمایہ دارانہ نظام نے ترتیب دیا ہے، وہ اب عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہے۔ دہائیوں سے سیاست دانوں اور پالیسی سازوں نے بڑے معاشی ہدف اور ترقی کو جی ڈی پی گروتھ سے ماپنے کا پیمانہ سیٹ کر رکھا تھا۔آج ترقی ماپنے کیلئے وضع کردہ یہ معیار انسانیت کے مستقبل اور بقاء کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔اس اقتصادی ماڈل پر یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کرہ ارض کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے عالمی معیشت کو جی ڈی پی سے آگے بڑھ کر سوچنا چاہیے۔ دنیا میں جی ڈی پی گروتھ کا جنون ہمارے سیارے کے درجہ حرارت کو ہر گزرتے سال مزید بڑھا رہا ہے، جس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ فقط جی ڈی پی گروتھ کو ہی انسانی ترقی اور فلاح و بہبود کا پیمانہ سمجھنا کئی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے حامل سیارے پر لامتناہی، اندھا دھند ترقی نہ صرف آب و ہوا اور فطرت کے بحران کو جنم دے رہی ہے بلکہ عدم مساوات کو بھی بڑھا رہی ہے۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ہماری دنیا کوئی بہت بڑی کارپوریشن نہیں ہے۔وقت آگیا ہے کہ انسانی بقاء کے لیے نفع اور نقصان سے آگے بڑھ کر سوچا جائے۔
اقوام متحدہ نے نوبل انعام یافتہ جوزف اسٹگلٹز، معروف ہندوستانی ماہر اقتصادیات کوشک باسو اور نورا لسٹگ پر مشتمل ایک گروپ بنایا تھا جسے یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ انسانی فلاح و بہبود، پائیداری اور مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی کامیابی کے اقدامات کا ایک نیا ڈیش بورڈ وضع کریں۔ اسی گروپ نے گزشتہ برس ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں 2008 کے مالیاتی بحران سے لے کر کوویڈ 19 کی وبا تک عالمی معیشت جس طرح ہچکولے کھاتی رہی، اس بارے دلیل پیش کی کہ جس رفتار سے ٹیکنالوجی میں تبدیلی ہو رہی ہے، وہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب اس اقتصادی ماڈل میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس گروپ میں شامل بھارتی پروفیسر باسو نے بہت اہم بات کی کہ قومیں جی ڈی پی میٹرک کے لحاظ سے دوسری قوموں کو شکست دینے کے کھیل میں اس قدر مگن ہیں کہ عام شہریوں کی فلاح و بہبود اور استحکام کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی کو کبھی بھی انسانی ترقی کی پیمائش کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا، مگر پھر بھی کامیابی ماپنے کا یہ معیار عالمی سطح پر غالب رہا۔
انتونیو گوٹیرس کی یہ بات توجہ طلب ہے کہ جب ہم جنگل کو تباہ کرتے ہیں تو ہم جی ڈی پی بنا رہے ہوتے ہیں۔جب ہم ضرورت سے زیادہ مچھلی کی پیداوار کرتے ہیں تو بھی مقصد جی ڈی پی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منافع کی خاطر ہم وہ سب کام کر رہے ہیں جو ماحول دوست نہیں۔ سرمایہ درانہ نظام میں یہ منافع چند افراد کو ہی فائدہ دیتا ہے۔
شہر اقتدار میں بھی یہی کھیل حکومتی سرپرستی میں جاری ہے۔ ترقیاتی کاموں اور یادگاریں تعمیر کرنے کے نام پر شہباز سرکار اور سی ڈی اے نے جس طرح درختوں کا قتل عام کیا ہے وہ ترقی کے اسی ماڈل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وفاقی ترقیاتی ادارہ( سی ڈے اے) اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ڈنکے کی چوٹ پر دن رات آسلام آباد پر قہر ڈھانے میں مصروف ہے۔ سی ڈی اے کی ترقی کا انحصار اور دارومدار اسلام آباد کی زمین اور گرین بیلٹس پر ہے۔ جب بھی سی ڈی اے افسران کو اپنی بقاء خطرے میں نظر آتی ہے وہ جنگل کاٹ کر پلاٹ بنا کر بیچ دیتے ہیں۔ ابھی چند ماہ قبل سی ڈی اے نے تین روزہ نیلامی سے 17 ارب روپے پلاٹوں کو فروخت کر کے کمائے۔ ایک طرف جنگل کشی ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک بھاشن دے رہے ہیں کہ پاکستان کی ایک فیصد جی ڈی پی موسمیاتی تبدیلیوں کی نذر ہو رہی یے۔ عالمی ماہرین تو جی ڈی پی گروتھ ماڈل پر تنقید ہی اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ ماڈل موسمی تغیرات اور قدرتی آفات کے اثرات کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے جس سے عالمی معیشت کریش بھی کر سکتی ہے۔ ہمارے ان حکمرانوں کو کون سمجھائے جن کے قول و فعل میں تضاد ملک وقوم کو بہت بھاری پڑ رہا ہے۔
شہباز اسپیڈ کا ترقیاتی ماڈل پہلے باغوں کے شہر لاہور کو کھا گیا اور اب اس نے پوٹھوہار کے اس خوبصورت اور سرسبز و شاداب شہر اقتدار کا رخ کر لیا ہے۔ یونان کی فرم Doxiadis Associates نے
1960 کی دہائی میں اسلام آباد کا کیا خوب ماسٹر پلان بنایا تھا جس میں پارکس، کھیلوں کے میدان، گرین بیلٹس اور جنگل سمیت حیات انسانی کیلئے تمام ضروری چیزوں کا خیال رکھا گیا تھا ۔ اس فرم نے واضح ہدایت دی تھی کہ مستقبل میں شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر 20 سال بعد ماسٹر پلان پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ ہم نے نظرثانی کے نام پر کلہاڑے اٹھا لیئے اور گرین بیلٹس اور جنگلوں کا کام تمام کر دیا۔اسلام آباد کے اوریجنل ماسٹر پلان میں آئی ایٹ سیکٹر کو ٹرانسپورٹ کے سینٹر کے طور پر رکھا گیا تھا، ہم نے اسے بھی رہائشی علاقے میں بدل دیا۔
اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں اب تک 50 تبدیلیاں ہوچکی ہیں اور ہر حکومت نے ماہرین کی رائے کے بغیر اپنی مرضی سے اس میں تبدیلیاں کیں۔موجودہ حکومت اب تک اس کے بلیو پرنٹ میں 4 تبدیلیاں کر چکی یے۔ شہر کی خوبصورت شاہراہ کشمیر/ سری نگر ہائی وے پر جنگل بھی حکمرانوں کی اسی ترقی کے ویژن کی بھینٹ چڑھ گیا اور آج وہاں الیکٹرک بسوں کا ڈپو قائم ہے ۔ اب کس کس چیز کا ماتم کیا جائے۔ ہم بھی جنگل کاٹ کر جی ڈی پی بڑھا رہے ہیں اور عوام کو ترقی کا چورن بیچ رہے ہیں ۔

