• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 21, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

ہارڈ اسٹیٹ، دہشتگردی اور عمران خان

by ویب ڈیسک
فروری 7, 2026
in بلاگ
0
نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی دوران سماعت کیا کرتے رہے؟
0
SHARES
63
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

 ملک کو پھر دہشتگردی کی آگ کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت کی فضا بھی ماتم کا منظر پیش کر رہی یے۔ اسلام آباد میں تین مہینے کے وقفے کے بعد یہ دوسرا انتہائی دل سوز خودکش بم دھماکا ہے جس میں بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے، کئی خاندان اجڑ گئے ، مگر حکمرانوں کی توجہ ملکی سیکیورٹی کی بجائے سیاسی مخالفین کو فکس کرنے پر لگی ہے۔ بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں اتنی بڑی انٹیلیجنس ناکامی کی وجہ پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ نظام کی توجہ کامرکز عمران خان ہیں یا پھر تحریک انصاف کے کارکن ۔موجودہ نظام کو ملکی سیکیورٹی سے زیادہ یہ فکر لاحق ہے کہ عمران خان کی جھلک بھی عوام کو دکھائی نہ دے، ملک چاہے جلتا رہے۔ عمران خان کو آنکھ کی تکلیف کا مسئلہ ہوا تو کوشش کی گئی کہ جیل میں علاج ہو جائے۔ڈاکٹرز نے رسک فیکٹر کی بنیاد پر جیل میں علاج سے معذوری ظاہر کی تو رات کے اندھیرے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھوں کے پروسیجر کے لئے شفٹ کیا گیا۔ 

خوبصورت وطن کو ہارڈ اسٹیٹ بنانے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، ابھی تک اس پالیسی سے صرف عوام اور بے قصور لوگ ہی متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین میں عمران خان اور سیاسی مخالفین بھی شامل ہیں۔ اس لئے تو عمران خان کو پمز اسپتال چند گھنٹے رکھنے کے بعد واپس جیل منتقل کردیا گیا۔ پی ٹی آئی کی قیادت شش و پنج کا ہی شکار رہی کہ آیا خان کو پمز لیجایا گیا ہے بھی یا نہیں، جب تک کہ حکومتی وزراء اور ڈاکٹرز نے تصدیق نہیں کر دی۔ 

 جن سخت حالات میں عمران خان جیل کاٹ رہے ہیں، رانا ثناء اللہ بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ماضی میں ہمارے سیاستدانوں کو جیل پہنچتے ہی دنیا جہاں کی بیماریاں لاحق ہوجاتی۔نواز شریف، آصف علی زرداری سے لیکر شہباز شریف تک سب کا زیادہ تر وقت علاج کی غرض سے ہسپتالوں میں ہی گزرتا رہا۔ نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دسمبر 2018 سے نومبر 2019 کے دوران نواز شریف دل کی تکلیف کے باعث لاہور کے مختلف اسپتالوں، خاص طور پر سروسز اسپتال میں زیر علاج رہے۔ انھیں زاتی معالج رکھنے کی اجازت بھی تھی۔ نواز شریف کو ہر سہولت فراہم کی گئی مگر نواز شریف کے ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں تو لندن کے ڈاکٹروں سے ہی افاقہ ہو گا، یوں نومبر 2019 کو نواز شریف اپنے اصلی ٹھکانے پر پہنچ گئے۔ وفاقی کابینہ کی 7 ارب کے ضمانتی بانڈ کے عوض ای سی ایل سے نام نکالنے کی مشروط اجازت شریف خاندان نے مسترد کر دی۔ پھر عدالت نے بڑا ریلیف دیتے ہوئے 50 روپے کے اسٹام پیپر پر شہباز شریف کے بیان حلفی پر جانے کی اجازت دے دی، چار ہفتے گزر گئے مگر عدالتوں نے مڑ کر نہ پوچھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم ملک واپس لوٹا یا نہیں۔ نہ ہی شہباز شریف سے جواب طلبی ہوئی۔ اسی طرح ہمارے صدر آصف علی زرداری بھی جیل پہنچتے ہی ویل چیئر پر آ جاتے تھے، اب اقتدار میں ہیں تو آئے دن کسی نہ کسی ملک دورے پر پہنچ جاتے ہیں۔ بیماری ان کا کچھ نہیں بگاڑ رہی۔ 2019 میں جب جیل جانا پڑا تو بیماری اتنی بڑھ گئی کہ پمز اسپتال منتقل ہو گئے۔ فیملی ان سے بلا روک ٹوک ملاقاتیں کرتی رہی۔

 ہارڈ اسٹیٹ پالیسی شاید یہ ہے کہ  عمران خان کو اپنے ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دینی۔ عدالتیں خاموش تماشائی ہیں۔جس ملک کا چیف جسٹس یقین دہانی کے باوجود عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ خاندان کے حوالے نہ کروا سکے، وہاں باقی عوام بھی اپنے لیے انصاف کی کیا توقع رکھ سکتی ہے۔ اب شہباز شریف کی ہدایت پر جو میڈیکل ریکارڈ عدالت اور فیملی کو دیا گیا ہے، وہ پمز اسپتال کی پریس ریلیز ہے جس میں عمران خان کے میڈیکل ٹیسٹ اور ان کی رپورٹ شامل نہیں ہے۔

 خان کی رہائی کیلئے سہیل آفریدی کی سڑیٹ موومنٹ بظاہر تو کامیاب نظر آتی ہے مگر "ڈی ڈے” پر یہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی اس بارے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دہشتگردی کے اس المناک واقعے کے بعد تحریک انصاف کو فلحال پہیہ جام ہڑتال کی کال آف کر دینی چاہیے۔ ویسے بھی پارٹی کے اندر دھڑے بندی اورایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کا کلچر عام ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف بطور پارٹی بھی عمران خان کی رہائی کے لئے متحد نہیں۔ پی ٹی آئی والے عمران خان کی گرفتاری سے بیماری تک ہر امتحان میں فیل ہوئے ہیں۔ جو عمران خان کی میڈیکل رپورٹ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے وہ عمران خان کو کیا رہائی دلوائیں گے؟

ملک کے ممتاز معاشی رپورٹر و اینکر پرسن شہباز رانا نے گذشتہ دنوں خبر بریک کی تھی کہ یو اے ای نے حکومت کی دو ارب ڈالر قرض کو دو سال کے لیے رول اوور کرنے کی درخواست کی تھی اور شرح سود کو بھی کم کرنے کی درخواست کی تھی جو یو اے ای نے مسترد کر دی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ بھی کمٹمنٹ کی ہوئی تھی کہ دو ارب ڈالر پاکستان یو اے ای کو واپس نہیں کرے گا بلکہ یہ دو سال کے لیے روول اوور یو جائے گا۔ اب یو اے ای نے پاکستان کے دو ارب ڈالر قرض میں ایک سال کی بھی توسیع نہیں کی ، بمشکل صرف ایک ماہ کی توسیع کی ہے۔ مطلب جو قرض 16 جنوری 2026 کو میچور ہو رہا تھا وہ اب 15 فروری 2026 کو میچور ہو جائے گا۔ مطلب ایک ہفتے بعد اگر یو اے ای حکومت قرض کو دوبارہ رول اوور نہیں کرتی تو حکومت پاکستان کو قرض واپس کرنا ہو گا۔ ملک دہشتگردی ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی اور بدانتظامی کی لپیٹ میں ہے، مگر موجودہ سیٹ اپ کو فکر صرف عمران خان کی پڑی ہے کہ خان کو اقتدار اور عوام سے دور رکھنا ہے چاہے اس کی کچھ بھی قیمت چکانا پڑے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
بھارتی پنجاب میں قانون کے طالب علم کی کلاس روم میں اپنی کلاس فیلو کو گولی مار کر اپنی جان لینے کی کوشش

بھارتی پنجاب میں قانون کے طالب علم کی کلاس روم میں اپنی کلاس فیلو کو گولی مار کر اپنی جان لینے کی کوشش

شنگھائی کا خواب ،درختوں کی قربانی، شجرکاری کا ڈھونگ۔۔اسلام آباد کی بنجر حقیقت

ترقی کے نام پر ماحولیات کی تباہی

بھارت میں ہر طرف ” محمد دیپک ” کے نام کی گونج ، ہندو مسلم نام سے پورے بھارت میں مشہور ہونے والا یہ نوجوان دپیک کمار عرف محمد دیپک کون ہے ؟

بھارت میں ہر طرف " محمد دیپک " کے نام کی گونج ، ہندو مسلم نام سے پورے بھارت میں مشہور ہونے والا یہ نوجوان دپیک کمار عرف محمد دیپک کون ہے ؟

9مئی واقعات میں ملوث افراد کو کڑی سزا ، کورکمانڈرزکانفرنس کے اعلامیے پر عمران خان کا رد عمل بھی سامنے آگیا ، بڑا اعلان

عمران خان اور مقتدرہ کے درمیان برف پگھلنے لگی؟

بھارتی ٹی وی اینکر نے جب محسن نقوی کو ٹرافی ۔۔۔ کہا تو شعیب اختر نے کیسے جواب دیا

بھارتی ٹی وی اینکر نے جب محسن نقوی کو ٹرافی ۔۔۔ کہا تو شعیب اختر نے کیسے جواب دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In