سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان کی فضائیں ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں کسی تبدیلی کا پیغام دے رہی ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں ایسی اہم ڈویلپمنٹس ہوئی ہے کہ جس کے بعد conspiracy theories نے جنم لیا ہے۔ وفاق اور خیبرپختونخوا میں ہوئی حالیہ پیشرفت سے نقطے ملائے جا رہے ہیں کہ جیسے کچھ بڑا ہونے کو ہے، جیسا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان ڈیل۔ وزیر اعلیٰ کے پی کی وزیر اعظم سے ملاقات، پھر سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی ایپکس کمیٹی میٹنگ اور پشاور میں چیف منسٹر کے پی ، محسن نقوی ، ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر پشاور کا سیکیورٹی اجلاس میں ایک میز پر بیٹھنا کسی معجزے سے کم نہ تھا ، اس ڈویلپمنٹ سے یہ تاثر پیدا ہوا جیسے دال میں کچھ کالا ہے۔ اہم فیصلوں نے ہواؤں کا رخ اچانک بدل دیا ہے۔ صوبہ میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے باعث سیکیورٹی پالیسی اور تیراہ میں ملٹری آپریشن پر صوبائی حکومت کے اختلافات سول ملٹری تعلقات میں بہتری کیلئے ایک بڑی روکاوٹ بن گئے تھے۔
صوبے کی بہتری، فلاح و بہبود اور سیکیورٹی کے حوالے سے سہیل آفریدی کا وفاق اور عسکری قیادت کے ساتھ مل بیٹھنا بظاہر درست سمت کی جانب ایک قدم ہے۔ علی امین گنڈاپور ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ احتجاج کے دوران اہم موقع پر میدان چھوڑ کر بھاگنے کی وجہ سے کے پی کی عوام بدظن ہو گئی اور گنڈاپور عوامی اعتماد کھو بیٹھے تھے۔ عوامی رائے ان کے بارے یہی رہی کہ علی امین گنڈاپور رانگ نمبر ہیں، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے کام کر رہے ہیں نہ کہ عمران خان کی رہائی اور صوبے کی بہتری کے لئے۔ تاہم اس کے برعکس تحریک انصاف کے کارکنان اور صوبے کی عوام نے سہیل آفریدی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کی چند جھلکیاں سٹریٹ موومنٹ میں دیکھی گئیں۔ سہیل آفریدی نے ذاتی انا کو پس پشت ڈال کر صوبے کے آئینی حقوق سمیت قومی سلامتی پر یکسوئی، پی ایس ایل میچز کی میزبانی اور امن و اعتماد کی بحالی کے لیے عسکری قیادت اور مرکز کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کے حل کی بات کی ہے۔ مگر اس پیشرفت کو ممکنہ ڈیل کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
ایک نہ ختم ہونے والی ٹینشن عمران خان ، کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ملٹری قیادت کے درمیان پائی جا رہی تھی اس کا یوں ٹھنڈا ہونا بظاہر بیک ڈور رابطوں اور مذاکرات کا کمال دکھائی دے رہا تھا ، مگر سلمان صفدر کی رپورٹ میں جو ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں وہ سیاسی اعتبار سے اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھیانک منظر کشی کر رہے ہیں۔ جس کے بعد عسکری قیادت اور عمران خان کے درمیان برف پگھلنے کی خبریں اور افواہیں دم توڑنے لگی ہیں۔ کیونکہ سلمان صفدر کی رپورٹ نہ صرف جیل انتظامیہ بلکہ پورے نظام کے خلاف سنگین چارج شیٹ ہے۔
عمران خان کی آنکھ کی بگڑتی صورتحال کے بعد اچانک عمران خان کو عدالت کی جانب سے ریلیف ملا ہے اسکے پیچھے ایگزیکٹو آرڈرز ہی کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ماضی میں بھی سیاستدانوں کو ڈیل کے تحت جب ریلیف دیا گیا تو اس میں عدالتوں نے کردار ادا کیا۔ مگر سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات کی تشویشناک اندرونی کہانی سامنے آنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بار عدالت ایک سیاست دان کو بچانے نہیں بلکہ نظام کو بچانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ عدالتوں کے بروقت ایکشن نہ لینے پر وکلاء برادری تو اسے بھٹو کی طرح کے ایک اور عدالتی قتل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ بھٹو کو عدالت کے فیصلے سے ختم کر دیا گیا جبکہ خان کو عدالت کی خاموشی اس نہج پر لے آئی، کہ عمران خان کی آنکھ 85 فیصد کام ہی نہیں کر رہی، ان کو اندھا کیا جا رہا ہے ، پمز میں ہونے والے علاج کے بعد بھی آنکھ کی حالت بہت خراب ہے۔ اب فیس سیونگ کے لئے عدالت کے ذریعے راستہ تلاش کیا جا رہا ہے جہاں عمران خاں کو رہا کر دیا جائے یا پھر انھیں اندرون یا بیرون ملک علاج کی غرض سے بھیج دیا جائے۔ مگر بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ڈیل کی آفرز کے باوجود خان ڈیل کرنے کو تیار ہے؟
صحافیوں کی جانب سے ڈیل سے متعلق سوالات پر جس طرح خان کی بہنیں تلملا اٹھی ہیں اور سخت ردعمل دیا ہے کہ عمران خان کبھی ڈیل نہیں کریں گے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان نواز شریف کی طرح بیماری کو وجہ بنا کر ڈیل کرنے کو تیار نہیں۔ بلکہ عمران خان نے تو یہ بھی نہیں کیا اپنے وکیل کو کہ مجھے ہسپتال منتقل کرواؤ۔ فقط اتنا کہا کہ میری جیل میں کوئی خواہش نہیں سوائے اس کے کہ جینے کیلئے بنیادی ضروریات پوری کر دی جائیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ عمران خان خراب صحت کے باوجود ڈیل لینے کے لئے بے تاب نہیں۔
کہا جا رہا تھا کہ ڈیل سے پہلے جو ڈھیل دی جا رہی ہے اس کے پیچھے کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ واقعی کھچڑی تو پک رہی تھی، کہ خان کی صحت کو لیکر جو دانستہ غفلت برتی گئی ہے اب اس کا کفارہ کیسے ادا کیا جائے۔ موجودہ نظام کو سمجھ نہیں آ رہا کہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہونے کی صورت میں عوامی اور بین الاقوامی ردعمل سے کیسے بچیں ۔کیونکہ بین الاقوامی میڈیا پر خان کی آنکھ کی بینائی متاثر ہونے اور ان کو جان بوجھ کر اندھا کرنے کی خبریں سرگرم ہیں۔ اس لئے خان کو جیل سے نکالنے کے لئے ڈیل اور این آر او جیسے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔ موجودہ نظام نے بنیادی حقوق سلب کر کے جو ٹارچر کیا ہے، اب کوئی بیچ کا راستہ نکالا جا رہا ہے، تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ کل صدر ہاؤس میں ہوئی میٹنگ سے لگتا ہے سپریم کورٹ کی رپورٹ نے ایک سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ دوسری جانب سہیل آفریدی پشاور میں کنٹینر تیار کر کے بیٹھے ہیں۔ اب تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان تشویش میں مبتلا ہونگے کہ خان کو کیسے بچایا جائے۔ اگر عمران خان کو شوکت خانم یا الشفاء ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ خیبرپختونخوا میں جو کنٹینر تیار کھڑا ہے جلد اس کا رخ اسلام آباد کی جانب مڑ جائے۔





