• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

قومی کھیل یرغمال،فیڈریشن بابوز کے آگے حکومت بے بس، ہاکی فیڈریشن میں مالی بے ضابطگیوں کے سنگین انکشافات

by ویب ڈیسک
فروری 19, 2026
in بلاگ, کھیل
0
قومی کھیل یرغمال،فیڈریشن بابوز کے آگے حکومت بے بس، ہاکی فیڈریشن میں مالی بے ضابطگیوں کے سنگین انکشافات
0
SHARES
18
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

رافعہ زاہد کا بلاگ

قومی کھیل ہاکی کا موجودہ تنازع صرف ایک دورے یا کھلاڑیوں کی شکایت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مالی شفافیت، ادارہ جاتی احتساب اور حکومتی مداخلت کے سوالات تک پہنچ چکا ہے۔ آسٹریلیا میں FIH Pro League کے دوران قومی ٹیم کو دی جانے والی غیر معیاری رہائش اور فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات نے معاملے کو قومی گورننس کے اہم سوال میں بدل دیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ قومی ٹیم کے دورے کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ سے ایک کروڑ پندرہ لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ذرائع کے مطابق ٹیم کو فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کے لیے ایک کروڑ پانچ لاکھ چون ہزار سات سو بہتر روپے کا چیک جاری کیا گیا تھا۔ تاہم انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ رقم ٹیم کی رہائش پر خرچ نہیں ہوئی اور فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی اور متعلقہ انتظامیہ ذمہ دار پائی گئی۔ رانا ثناءاللہ کے مطابق رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کی جا رہی ہے جو بطور پیٹرن ان چیف حتمی فیصلہ کریں گے۔

رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ ہاکی فیڈریشن کو سیاسی تقرریوں سے آزاد ہونا چاہیے اور بین الاقوامی اسپورٹس باڈیز کی ہدایات کے مطابق حکومت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہر فیڈریشن میں سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے ایسے افراد برسوں تک قابض رہ جاتے ہیں اور نظام میں اصلاح ممکن نہیں ہوتی۔ انہوں نے مثال دی کہ ہماری ایتھلیٹک ایسوسی ایشن پر 11 سال ایک شخص قابض رہا اور اس کے بعد اس کے رشتہ دار انتظامی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں۔ فٹبال میں بھی طویل عرصے تک عہدیداران کی غیر شفاف گرفت رہی، جس کے بعد آزاد انتخابات کرائے گئے۔

اسی تناظر میں رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ فیڈریشن کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے باوجود احتساب ناگزیر ہے۔ اگر انکوائری میں مالی بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو اقدامات بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی افراد فیڈریشن میں اپنی مرضی سے تعینات ہوتے ہیں، جس سے ادارہ جاتی کمزوری اور قومی کھیل کا نقصان ہوتا ہے۔

ادھر دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ہاکی ٹیم نے کھیلنے سے انکار کر دیا اور کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ ان کے مطابق جب تک ہاکی فیڈریشن کو سیاسی تقرریوں سے آزاد نہیں کیا جاتا، قومی کھیل کی بحالی ممکن نہیں۔ خواجہ آصف نے مالی معاملات کی چھان بین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اسمبلی اور متعلقہ کمیٹیوں میں بھی اٹھایا جائے گا۔

حکومت کا ایکشن

حالیہ بحران کے بعد حکومت نے اس معاملے پر عملی اقدام بھی کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لیتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ سے انکوائری رپورٹ طلب کی، جس میں دورے کے دوران انتظامات اور فنڈز کے استعمال کا تفصیلی جائزہ شامل تھا۔ رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم نے حکم دیا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کی موجودہ مینجمنٹ، بشمول فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری، کو عہدوں سے ہٹا دیا جائے تاکہ ادارے میں نظم و ضبط اور احتساب کا عمل بحال ہو سکے۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کھلاڑیوں کی عزت، کھیل کی ساکھ اور مالی شفافیت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

مالی بے ضابطگی اور گرانٹس کا غلط استعمال

پی ایچ ایف نے گزشتہ دو مالی سالوں میں 119.667ملین روپے کی گرانٹس وصول کیں، مگر صرف 32.317ملین روپے کا درست حساب فراہم کیا گیا، باقی 87.549 ملین روپے مشکوک طور پر استعمال ہوئے۔ آڈٹ رپورٹ نے اسے غیر مجاز خرچ قرار دیا ہے۔ جن میں عہدے داران کے بھاری TA/DA بھی شامل ہیں جبکہ کھلاڑیوں کو معمولی الاؤنس تک نہیں دیا گیا۔

کھلاڑیوں اور تربیتی کیمپوں کے ڈیلی الاؤنسز اور واجبات کئی ماہ تک ادا نہیں کیے گئے، کچھ کھلاڑیوں نے خود تنخواہوں اور کیمپ فیسوں کے بغیر ٹریننگ جاری رکھنے کی جدوجہد بیان کی۔ بعض رپورٹس کے مطابق، کھلاڑیوں کو پرو لیگ میچوں کے لیے 11 ہزار روپے روزانہ الاؤنس کی توقع تھی مگر ادائیگی مکمل نہ ہوئی جس سے ٹیم میں شدید ناراضگی پھیلی۔

PHF میں ملازمین بھی چھ ماہ سے زائد عرصے تک تنخواہیں نہیں لے سکے اور بعض کو میڈیکل فوائد تک نہیں ملے، جس سے ادارہ خود اندرونی بحران میں پڑ گیا۔ مارچ 2024 میں بھی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20+ PHF کے ملازمین پانچ ماہ تک تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، جو ادارے کے مالی بحران کو اجاگر کرتا ہے۔

سال 2024–25 میں پاکستان اسپورٹس بورڈ نے PHF سے فنانشل ریکارڈ، غیر ملکی ٹور اخراجات، اسلام آباد میں نئے آفس اور آمدن کے استعمال کی تفصیل طلب کی۔ PHF کے جواب نہ دینے پر سخت نوٹس بھی جاری کیا گیا۔ مالی بدانتظامی اور غیر شفاف رویے کی وجہ سے پاکستان ٹیم کو 2025 کے سُلطان ازلان شاہ کپ میں مدعو نہیں کیا گیا کیونکہ منتظمین نے فنڈز سے متعلق سوالات اٹھائے۔

اسی طرح سال 2015/16کی ایک آڈٹ رپورٹ میں سامنے آیا تھا کہ PHF نے 2010 South Asian Games میں پانچ افسران کے انعامی رقم کو دو بار نکال کر دوبارہ وائوچر کیا، جس پر آڈیٹر جنرل نے استفسار کیا۔ اسی رپورٹ میں 2010 کے ایک ورلڈ کپ دورے کے لیے 48 افراد کی غیر ضروری ڈیلگیشن کے لیے فنڈز نکالنے کی بات بھی سامنے آئی، جس میں غیر کھلاڑی شامل تھے۔

سال 2026 کے جنوری میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے PHF کی اسکروٹنی اور انتخابات پر غور کیا اور انفارمیشن مانگی۔ کمیٹی نے فیڈریشن انتخابات کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا۔

اس پورے معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا فیڈریشن کی خودمختاری احتساب سے بالاتر ہو سکتی ہے؟ اگر حکومت براہِ راست مداخلت نہیں کر سکتی تو شفافیت اور جوابدہی کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور اگر انکوائری میں مالی بے ضابطگی ثابت ہو جاتی ہے تو اصلاحات بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے کس طرح ممکن ہوں گی؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ معاملہ صرف ایک کھیل کی خبر سے بڑھ کر قومی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاح کی بحث میں بدل جاتا ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
بڑی بیٹری اور بہتر کیمروں کے ساتھ بڑی اپ گریڈ کی خبر،نیا آئی فون 17 پرو میکس کن خصوصیات کا حامل ہوگا؟

تاریخی پیشرفت ،ایپل پاکستان میں آئی فونز تیار کرے گا، 100 ملین ڈالر کی ری ایکسپورٹ متوقع

صدر ہاکی فیڈریشن ،کپتان عماد شکیل پر پابندی لگانے کے بعد مستعفی، دھواں دار پریس کانفرنس میں چونکا دینے والے انکشافات

صدر ہاکی فیڈریشن ،کپتان عماد شکیل پر پابندی لگانے کے بعد مستعفی، دھواں دار پریس کانفرنس میں چونکا دینے والے انکشافات

عوامی فنڈز پر اربوں کا VIP جیٹ: گلف اسٹریم G500، ضرورت یا شاہانہ سہولت؟مکمل تفصیلات

عوامی فنڈز پر اربوں کا VIP جیٹ: گلف اسٹریم G500، ضرورت یا شاہانہ سہولت؟مکمل تفصیلات

شیرخوار بچوں کے دودھ اور عام دودھ سمیت میک اپ کا سامان بھی مہنگاہو گیا ، نیا بجٹ نافذ ، کون سی چیز کتنی مہنگی ہوئی ؟ 

کالعدم تنظیموں کو زکوٰۃ و خیرات دینے والے قانون

راولپنڈی :چھٹی پر گھر والوں سے ملنے آیا پاک فوج کا جوان ڈکیتی کی واردات میں جاں بحق

راولپنڈی :چھٹی پر گھر والوں سے ملنے آیا پاک فوج کا جوان ڈکیتی کی واردات میں جاں بحق

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In