رپورٹ : رافعہ زاہد
صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) طارق بگٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہاکی کے لیے مختص کیے گئے 25 کروڑ روپے فوری ریلیز تو کیے گئے، لیکن پرو لیگ کے لیے جاری فنڈز Pakistan Sports Board کے پاس رکھ لیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کا شیڈیول فراہم کرنے کے باوجود رانا ثنا اللہ کے ماتحت لوگوں نے ارجنٹینا میں ہوٹل کی ادائیگی نہیں کی۔ جب ٹیم کو پانچ تاریخ کو روانہ ہونا تھا تو نہ کوئی ریزرویشن موجود تھی، نہ بکنگ ہوئی اور نہ مطلوبہ ادائیگی کی گئی۔ پچاس ہزار ڈالر کی جگہ ستر ہزار ڈالر مانگا گیا، جس پر بگٹی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اضافی بیس ہزار ڈالر کہاں سے لاتی۔
طارق بگٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلائی گئیں جس سے پاکستان کی بدنامی ہوئی، اور انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست کی کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے غیر جانبدار کمیٹی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں ان کا قصور ہے تو وہ سب سے پہلے جوابدہ ہوں، لیکن صرف استعفیٰ دینا کافی نہیں، کیونکہ یہ ذاتی نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم پاکستان کو بھی بھیج دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے براہِ راست فنڈز اپنے پاس رکھ کر معاملات چلانے کا فیصلہ کیا، جبکہ ماضی میں یہی ادارہ فیڈریشنز پر کرپشن کے الزامات لگاتا رہا ہے۔ قومی کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ فنڈز بورڈ کے پاس رہیں گے اور وہ خود اخراجات کرے گا۔ فیڈریشن نے اسے قبول کیا تاکہ حقائق سامنے آئیں، اور بورڈ کو اندازہ ہو کہ عملی طور پر کتنے وسائل اور اقدامات درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے باوجود “ویل مینیجڈ اور ویل آرگنائزڈ” کے دعوے عملی میدان میں ثابت نہیں ہوئے، اور یہ حقیقت دنیا اور پاکستان کے سامنے واضح ہو چکی ہے۔
طارق بگٹی نے الزام کیا کہ بچوں کو بھی اس معاملے میں استعمال کیا گیا اور کھلاڑیوں، خصوصاً کم عمر بچوں کو دھمکیاں دی گئی۔ کپتان نے بااثر شخصیات کے موبائل فونز اور کالز دکھا کر دباؤ ڈالا۔ اس مس کنڈکٹ کے نتیجے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے عماد شکیل بٹ کو دو سال کے لیے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ہاکی سے معطل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے دور میں کسی کھلاڑی یا آفیشل کا ٹی اے/ڈی اے بقایا ہو تو وہ آگاہ کرے، کیونکہ وہ اس کی جوابدہی کے لیے تیار ہیں۔
قانونی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے طارق بگٹی نے بتایا کہ قومی کمیٹی کے اجلاس میں ان کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا گیا، اور ڈی جی یاسر پیرزادہ نے فوری طور پر مؤقف دیا کہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ تاہم دو دن بعد اٹارنی جنرل اور لیگل ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ تقرری قانونی اور درست تھی، جس سے معاملات مزید الجھ گئے۔
انہوں نے پاکستان کی تمام اسپورٹس فیڈریشنز کے ساتھ ناانصافی کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ فنڈز سب کے پاس ہوتے ہیں لیکن براہِ راست فراہم نہیں کیے جاتے۔ قائداعظم گیمز کے نام پر تین دن میں تقریباً 28 کروڑ روپے خرچ ہو جاتے ہیں، لیکن کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی، جبکہ ہاکی فیڈریشن کو دو سال میں اتنی رقم فراہم نہیں کی گئی۔
طارق بگٹی نے فیڈریشنز کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ “بھکاری کلچر” ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان ہاکی کے لیے ایک خودمختار بورڈ قائم کیا جائے، جیسا کہ Pakistan Cricket Board میں موجود ہے، جہاں مارکیٹنگ، میڈیا اور دیگر پیشہ ورانہ شعبے فعال ہوں۔ بورڈ کو اسٹیڈیمز اور ریونیو جنریٹ کرنے والے اثاثے دیے جائیں تو پانچ سے چھ سال میں ہاکی دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے مقام پر پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت یا متعلقہ حکام کے فیصلے ابھی واضح نہیں، اور دو ماہ قبل بیلجیئم اور انگلینڈ کے آئندہ ایونٹس کے لیے ای میلز بھیجی گئی تھیں، لیکن پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ جواب نہیں آیا۔





