سندھ کی تقسیم کے مسئلے نے وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے شروع ہو کر سندھ اسمبلی اور سینیٹ تک سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے یونیورسٹی میں ایک سیمینار منعقد کیا، جس پر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی سے سندھ کی وحدت کے حق میں قرارداد پاس کروائی۔ اس کے بعد یہ مسئلہ سینیٹ تک پہنچ گیا اور ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے اس پر بحث شروع کر دی۔
شیری رحمٰن کا مؤقف:
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں سندھ کو تقسیم کرنے کے خلاف قرارداد پاس کی گئی، جو سندھ کی وحدت کے لیے ایک واضح اشارہ ہے۔ ان کے مطابق سندھ اٹوٹ انگ ہے اور اسے تقسیم کرنے کی بات کرنا غداری اور غیر جمہوری سوچ ہے۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ صوبے کی تقسیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے، اور جو بھی سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتا ہے وہ سندھ اور جمہوریت کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا بنیادی صوبہ ہے، اور یہاں کے لوگوں نے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ بندرگاہ کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوششیں پاکستان کے خلاف سازش کے مترادف ہیں۔ شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ نسل کی بنیاد پر سندھ کی تقسیم کی بات کرنا جمہوریت اور پاکستان کے خلاف سازش ہے۔
وقار مہدی کا ردعمل:
وقار مہدی نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں تعلیم کی ترقی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ لسانیت اور تقسیم کی بات کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے اور ایم کیو ایم نے اقتدار میں رہتے ہوئے خون اور قتل و غارت پھیلائی، جبکہ پیپلز پارٹی نے کراچی کی ترقی کے لیے کام کیا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ اب سندھ کو تقسیم کر کے کیا حاصل کیا جائے گا۔
روبینہ قائم خانی کا موقف:
روبینہ قائم خانی نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے سندھ کی وحدت کے حوالے سے اکثریتی قرارداد سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھ کی تقسیم کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اگر بلدیاتی نظام کی بات کرتی ہے تو یہ شہر کے مسائل حل کر سکتا ہے، اس لیے سندھ کی تقسیم کیوں؟ ان کے مطابق سندھ پاکستان سے پہلے موجود ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔
خالدہ اتیب کی دلیل:
خالدہ اتیب نے کہا کہ ہم نے سندھ کو انتظامی طور پر تقسیم کرنے کی بات کی ہے، جو قانونی اور آئینی حق ہے۔ ان کے مطابق سندھ کو پہلے ہی اربن اور رورل سندھ میں تقسیم کیا جا چکا ہے اور کوٹہ سسٹم کے ذریعے شہری اور دیہی سندھ میں تفریق کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے 90 فیصد پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں اور ہم انتظامی یونٹ کی بات اس لیے کر رہے ہیں۔
کامران مرتضیٰ کا موقف:
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان مہنگائی اور دہشت گردی کا شکار ہے، یہ مسئلہ عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
دنیش کمار نے کہا کہ
پاکستان لہو لہان ہے۔ یہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔میں غیر مسلم ہوں ۔ لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ اسلام نے بھائی چارے کا سبق دیا ہے۔ یہ کیسے بھائی ہیںایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ماہ رمضان آیا ہے انھوں نے اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
فیصل جاوید کی رائے:
یہ پارٹیاں لڑ رہی ہیں ۔شائد الیکشن آنے والا ہےیا کوئی ترمیم آنے والی ہے۔ ہمارے صرف تین مطالبے ہیں۔1۔ الشفا انٹرنیشنل سے علاج2۔ذاتی ڈاکٹر3۔گھر والوں سے ملاقات۔وہ کرسمس سیل لگاتے ہیں، یہ رمضان آتے ہی لوٹ کھسوٹ شروع کر دیتے ہیں۔





