تحریر : سمیرا سلیم
گذشتہ برس مئی میں پاک بھارت محدود جنگ کے بعد سے جنوبی ایشیائی خطے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد ایک بڑا فلیش پوائنٹ بن چکی تھی۔ اکتوبر میں جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے انڈیا کا غیر معمولی دورہ کیا تو پاکستان میں اس بارے گہری تشویش پائی گئی اور یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بھارت اب افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔طالبان حکومت کی انڈیا سے بڑھتی قربت پاکستان کے لئے سیکیورٹی تھریٹ تھا۔ مئی میں جس طرح پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو شکست ہوئی اب اپنا بدلہ لینے کے لئے اور اپنے مذموم مقاصد افغان رجیم اور ٹی ٹی پی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کو تقریباً 20 سالوں سے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹی ٹی پی کے حملوں میں شدت آئی ہے، یہ دہشت گرد گروپ پاکستان میں بھی افغان طرز کی نام نہاد اسلامی حکومت چاہتے ہیں۔چند ماہ قبل بھی پاک افغان کشیدگی کم کرانے کے لئے برادر ممالک ترکی، چین، قطر، سعودی عرب نے سفارتی اور سیاسی سطح پر کوششیں کیں جو کامیاب نہ ہو سکیں۔ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں میں استعمال ہونے سے روکے۔مگر افغان طالبان نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ملک میں دہشتگردی کی حالیہ خوفناک لہر نے پاکستان کو مجبور کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بھرپور ردعمل دے
دونوں اسلامی ممالک کے درمیان غیر متوقع تنازعہ اب ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت یہ فیصلہ تو پہلے ہی کر چکے ہیں کہ اب نہ کوئی گڈ طالبان ہے اور نہ ہی کوئی بیڈ۔ یہ صرف طالبان ہیں۔ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال ہونے پر خواجہ آصف نے افغانستان پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ہمارے صبر کا پیالہ لبریز ہو چکا ہے اور اب ہم آپ کے ساتھ کھلی جنگ میں ہیں۔ اس بیان اور رات کو پاک فضائیہ کی جانب سے کابل، قندھار ، پکتیا پر فضائی حملوں کے بعد یہ بات واضح ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہا تھا اب وہ جنگ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ادھر طالبان کمانڈر نے افغان سرکاری ٹی وی پر آکر پاکستان کو کھلی دھمکی دی ہے کہ "اگر آپ کو اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں پر فخر ہے تو ہمارے پاس بھی خودکش بمباروں کی بٹالین ہیں”. اب سوال یہ ہے کہ کیا پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان مزید دہشتگرد اور خودکش بمبار پاکستان بھیجنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان 1600 میل طویل پہاڑی سرحد ہے. جس کا فائدہ طالبان حکومت کی حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیم ٹی ٹی پی اٹھاتی رہی ہے۔ سنہ 2002 سے لیکر اب تک پاکستان میں 600 سے زائد خود کش حملے ہو چکے ہیں۔ ابھی چند ماہ میں دو بدترین خود کش حملے تو ہمارے دارلحکومت میں ہی ہو گئے۔ لہٰذا سیکیورٹی اداروں بالخصوص انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اس وقت انتہائی چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔خود کش حملہ آور جب اپنے ٹھکانے سے نکل جائے تو اسے روکنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ہمیں ان خودکش حملہ آوروں کو ان کے گھروں میں ہی مارنا ہوگا اور اس کیلئے انٹیلیجنس کا کردار انتہائی اہم ہوگا ۔
پاکستان کی اب تک کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ آپریشن غضب للحق میں افغانستان کے صوبہ قندھار میں افغان طالبان کے کور ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔اس وقت افغان طالبان کے ملٹری انفراسٹرکچر کے تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اعلیٰ قیادت کے کچھ بڑے بڑے نام بھی سامنے آ رہے ہیں، جو پاک فضائیہ کے فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اوران کے داماد ندا محمد کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم افغان طالبان کی جانب سے جو دھمکی دی گئی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دھمکیاں آس بات کا بھی واضح ثبوت ہیں کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں جو خودکش حملے ہوتے رہے ہیں انھیں افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
پاک افغان خطرناک جنگ شروع ہو گئی ہے۔ اب ایک جوہری طاقت کا مقابلہ خودکش بٹالین سے ہے۔ ہمیں نہ صرف افغانستان کے ساتھ سرحد پر چوکنا رہنا ہو گا بلکہ بھارت سے ملحق سرحدی علاقوں پر بھی کڑی نگرانی کرنا ہو گی۔





