بھارت کے ریاست اترپردیش میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جہاں ایک 50 سالہ خاتون وینیتا شکلا، جسے ڈاکٹروں نے تقریباََ “برین ڈیڈ” قرار دے دیا تھا، اچانک زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ معجزانہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایمبولینس، جس میں وینیتا کو گھر واپس لایا جا رہا تھا، بریلی ہریدوار قومی شاہراہ (NH-74) کے گڑھے سے ٹکرائی۔
اہلِ خانہ کے مطابق وینیتا شکلا 22 فروری کی شام گھر کے کام کے دوران اچانک بے ہوش ہو گئیں۔ انہیں ابتدائی طور پر پِلی بھیت کے آٹونومس اسٹیٹ میڈیکل کالج لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے حالت کو سنگین قرار دیتے ہوئے انہیں مزید علاج کے لیے بریلی کے ایک جدید اسپتال بھیج دیا۔ وہاں ڈاکٹرز نے انہیں تقریباً زندگی کی کوئی علامت نہ ہونے پر “برین ڈیڈ” قرار دیا اور اسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔
24 فروری کو ان کے شوہر کلدیپ کمار شکلا انہیں گھر لے جا رہے تھے کہ ایمبولینس ایک گڑھے سے ٹکرائی، جس سے گاڑی کو شدید جھٹکا لگا۔ کلدیپ کے مطابق اسی لمحے وینیتا نے دوبارہ سانس لینا شروع کر دی اور فوری طور پر انہوں نے گھر والوں کو آخری رسومات روکنے کی اطلاع دی۔
بعد ازاں وینیتا کو نیورو سٹی اسپتال، پلی بھیت منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر راکیش سنگھ اور ٹیم نے انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا۔ ڈاکٹر سنگھ کے مطابق ابتدائی طبی معائنے میں وینیتا کے برین اسٹیم ریفلیکس غائب تھے اور گلاسگو کوما اسکیل میں صرف 3 پوائنٹس رہ گئے تھے جو مکمل بے حسی کی علامت تھے۔ آنکھوں کے معائنے میں پپلس کا غیر معمولی پھیلاؤ دیکھا گیا، جبکہ خون اور لمفی نظام میں زیادہ نیوروٹاکسنز بھی موجود تھے۔
ڈاکٹروں کی محنت اور درست علاج کے بعد وینیتا شکلا اب نہ صرف ہوش میں ہیں بلکہ اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کر رہی ہیں اور مکمل طور پر صحت یاب ہو رہی ہیں۔
کلدیپ کمار شکلا نے میڈیا کو بتایا، یہ ایک حقیقی معجزہ تھا، میں نے پہلے ہی اہلِ خانہ کو تیاری کرنے کو کہا تھا، لیکن آج میری بیوی ہم سے بات کر رہی ہیں، یہ ہمارے لیے خوشی اور شکر کا لمحہ ہے۔
وینیتا شکلا پِلی بھیت کے عدالتی دفاتر میں سینئر اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں اور اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اب دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف واپس آ رہی ہیں۔





