ڈلاس، امریکہ ۔۔۔ ایک افغان شخص، جس نے امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ کام کیا اور طالبان کے اقتدار کے بعد امریکہ میں پناہ لی تھی، ICE (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کی حراست میں ایک دن سے بھی کم عرصے میں چل بسا۔ اہل خانہ اور وکالتی گروپس کا کہنا ہے کہ 41 سالہ محمد نذیر پکتیاوال کے کوئی معلوم طبی مسائل نہیں تھے اور وہ امریکہ میں قانونی پناہ کا منتظر تھا۔
محمد نذیر کو جمعہ کے روز ڈلاس کے قریب اپنے اپارٹمنٹ کے باہر گرفتار کیا گیا۔ DHS کے مطابق، حراست میں میڈیکل انٹیک کے دوران اس نے سانس لینے میں دشواری اور سینے میں درد کی شکایت کی۔ اسے فوراً ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ہفتے کی صبح اس کی حالت بگڑ گئی اور CPR اور دیگر طبی اقدامات کے باوجود وہ انتقال کر گیا۔
ڈلاس کاؤنٹی میڈیکل ایکزامینر کی ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجہ یا نوعیت نہیں بتائی گئی۔ اس واقعے نے ٹیکساس میں افغان برادری میں شدید غم اور تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں 2021 کے بعد امریکہ آنے والے ہزاروں افغان آباد ہیں۔
افغان ایوک کے مطابق، نذیرنے 2005 سے امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ خدمات انجام دی تھیں اور اس کے چھ بچے ہیں، سب سے چھوٹا امریکی شہری ہے۔ اس کے بھائی نصیر کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے لیے ہیرو تھا، اور ایک دن سے بھی کم عرصے میں ہم اسے کھو بیٹھے۔
یہ واقعہ امریکی پناہ گزین پالیسی اور افغان پناہ گزینوں کے سکریننگ عمل پر سوالات بھی اٹھا رہا ہے، اور کمیونٹی میں انصاف اور شفافیت کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔




