سمیرا سلیم کا بلاگ
پاکستان کی ایران جنگ میں خفیہ اور کامیاب سفارتی پالیسی پر بھارتی مودی حکومت سے خفگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مودی حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ اور تنہا کرنے کا جو منجن بیچ رہی تھی ، اب مودی کی قیادت میں خطے کی عظیم طاقت بننے کا خواب دیکھنے والا بھارت دنیا بھر میں isolate نظر آ رہا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بیک چینل ڈائیلاگ میں اہم کھلاڑی کے طور پر مصر اور ترکی کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ابھرنا نئی دہلی کے لیے ایک زبردست اسٹریٹجک دھچکا ہے۔ مودی کی قیادت میں حکومت نے پاکستان کو تنہا کرنے اور ہندوستان کو ایک Vishwa guru کے طور پر پیش کرنا تھا، اب اس کی اپنی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔ بھارت کے دانشور ،سیاست دان اور عوام مودی حکومت پر سخت تنقید کر رہے ہیں، اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ پاکستان خارجہ پالیسی میں اہم مقام کیسے حاصل کر گیا۔ بھارت تو خود کو سفارتکاری میں پھنے خان سمجھتا تھا پھر یہ سب کیا ہو گیا۔
بھارتی اخبارات میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیشرفت کو مودی حکومت کی سیاسی اور سفارتی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا عالمی سطح پر یوں طاقتور بن کر سامنے آنا ہندوستان کی آزاد سفارتی تاریخ میں یہ سب سے ذلت آمیز نکات میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بھارتی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ حالیہ پیشرفت نے مودی کی بے سمت خارجہ پالیسی کو بری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے۔ خطے میں جنگی صورتحال میں انڈیا خارجہ محاذ پر بری طرح فلاپ ہواہے۔ جبکہ پاکستان کی بہترین سفارتکاری پر کانگریسی لیڈر ششی تھرور نے بھی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ اسرائیل کی حمایت پر مودی حکومت تنہا رہ گئی۔ اپوزیشن نے مودی پر امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں اہم دوستوں کو کھونے کا الزام لگایا تھا۔
اب بھارت میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ مودی کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے مودی کی خارجہ پالیسی کا محور پاکستان کو عالمی سطح پر اور علاقائی سطح پر تنہا اور الگ کرنا تھا، بین الاقوامی اخبارات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ سے گفتگو اور ایران امریکا جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے پر بھارتیوں کو یقین ہو گیا ہے کہ مودی کی شاندار پالیسی اب بری طرح سے فلاپ ہو گئی ہے۔ پاکستان ایک اہم ریاست ہے اور سفارتی طور پر غیر متعلق نہیں۔ بھارتی تنقید کر رہے ہیں کہ مودی حکومت کی پالیسیوں نے اسلام آباد کو بیانیہ بنانے اور موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہے، اب مودی کا اپنا ہندوستان ہی الگ ور تنہا ہو گیاہے۔ عالمی سپر پاور اور ایک علاقائی ہیوی ویٹ کے درمیان علاقائی تصادم کو روکنے جیسے اہم معاملے میں امریکہ نے مودی کی طرف نہیں بلکہ عاصم منیر کی طرف رجوع کیا، بیک چینل مذاکرات کا architecture نئی دہلی سے نہیں بلکہ انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد ہے۔ گزشتہ برس مئی میں پاک بھارت تنازع کے بعد یہ بھارت کے لئے دوسری بڑی شکست ہے۔
جب عالمی بیانیہ کی بات ہو تو ایک طرف پاکستان ہے جو کشیدگی کو روکنے میں مدد کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہندوستان ہے جو آبنائے ہرمز اور ٹیرف کے بارے میں پریشان ہے۔ سیاسی طور پر یہ ایک ایسے لیڈر کے لیے ذلت آمیز ہے جس نے بار بار اپنے آپ کو مقامی طور پر ایک ایسے لیڈر کے طور پر پیش کیا جس نے عالمی بحران کو مینج کرنے میں ہندوستان کو مرکزیت دلائی۔ مودی نے تو خود کو ایک عالمی امن ساز اور ایک وشوا گرو کے طور پر پیش کیا، مگر اس کے باوجود اس کے اپنے خطے میں ہندوستان کہیں نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان کا امریکہ ایران مذاکرات کار کے طور پر ابھرنا مودی کے بھارت کو عظیم الشان بنانے کے اس دکھاوے کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ حالیہ پیشرفت نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں سنگین اسٹریٹجک غلطیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مودی پر یہ بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کی ساکھ اور علاقائی اثر و رسوخ کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ نئی دہلی امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کے ہر اقدام کو کیلیبریٹ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان پر بیک وقت واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے حساس پیغامات پہنچانے کے لیے بھروسہ کیا جا رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ مودی کی قیادت میں بھارت کی اسٹریٹیجک خودمختاری کھوکھلی ہو چکی ہے۔
حقیقت سامنے آ گئی ہے کہ تہران نے پاکستان کے کردار کو قبول کیا ہے، بھارت پر نہیں بلکہ پاکستان پر بھروسہ کیا۔ بھارتی تو یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ پاکستان نے ایسی سفارتکاری کی ہے کہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی حالیہ سیکیورٹی سمجھوتوں کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اسلام آباد کو ایکworkable conduit کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ مودی صرف معمول کی کالز اور بیانات تک محدود ہیں۔ بھارتی دانشور کہہ رہے ہیں کہ نئی دہلی نے ایران اور چین کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کو کم کرنے کے لیے کیوں کچھ نہیں کیا۔
امریکہ کا پاکستان کے لیے ہندوستان کو نظرانداز کرنا ہندوستان کے علاقائی اثر و رسوخ پر عدم اعتماد کی جانب ایک واضح اشارہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سے امریکہ اور بھارت کے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی نزاکت کا بھی پتا چلتا ہے۔ مودی امریکی صدور کے ساتھ اپنی نام نہاد ذاتی کیمسٹری کو ایک اسٹریٹجک حقیقت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جس آسانی سے ٹرمپ نے گزشتہ مئی میں پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مودی کو جھکایا اس نے اس تاثر کو تقویت بخشی کہ 1.4 بلین کا ملک اپنے لئے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ بھارتی سیخ پا ہیں کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی پر ٹرمپ کی bullying پر مودی کے مطیع ردعمل نے واشنگٹن میں اس یقین کو مزید تقویت دی کہ ہندوستان اپنا دفاع کے لئے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ بھارتی اخبارات اب یہ کہہ رہے ہیں کہ واشنگٹن ہندوستان کو صرف ہتھیاروں اور سامان کے لیے ایک گاہک کے طور پر دیکھتا ہے، اور چین کے لیے صرف ایک کاؤنٹر ویٹ کے طور پر، جدید دنیا کی پیچیدہ سفارت کاری میں ایک سنجیدہ کھلاڑی کے طور پر نہیں۔
اسلام آباد نے نئی دہلی کے برعکس واشنگٹن اور تہران دونوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اعلیٰ سطح تک رسائی حاصل کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے ساتھ بہتر تعلقات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران میں اسلام آباد ایک قابل اعتماد سیکیورٹی مذاکرات کار کے طور پر پوزیشن میں ہے، پینٹاگون اور ایرانی سیکورٹی حلقوں میں اسلام آباد کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ پاکستان کو تنہا کرنے اور وسطی ایشیا تک تجارتی راہداری بنانے کے لیے بھارت نے ایران کی چابہار بندرگاہ پر اربوں روپے خرچ کیے، مگر بھارت پھر بھی ناکام رہا۔ اب بھارتی طاقتور حلقوں میں یہ بے چینی بڑھ گئی ہے کہ اگر پاکستان ہی امن کے لئے ثالثی کرتا ہے تو اسے ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی بھی خیر سگالی حاصل ہو جائے گی، جو بھارت کے لئے نیک شگون نہیں۔ بھارتی چینخ رہے ہیں کہ مودی کی اسرائیل نواز سفارتکاری نے بھارت کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، بلکہ ایک نئے سفارتی ٹرافیکا کا عروج ہو رہا ہے۔
ہندوستان میں شائع ہونے والے آرٹیکلز تو بھارتیوں کو یہ بتاتے رہے کہ مودی کا ہندوستان وہ واحد ملک ہے جو اس جنگ کو ختم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اب بھارتیوں کو معلوم پڑا کہ وہ تو صرف قیاس آرائیاں تھیں۔ جب کہ پاکستان، ترکی اور مصر وہ ممالک ہیں جو دراصل ان اہم دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات رسانی کرتے رہے۔ ان تینوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی ایک نئے درمیانی طاقت کے بلاک کی تشکیل کی نمائندگی کرتی ہے جس میں بھارت شامل نہیں۔ تہران کے لئے اہم سنی اکثریتی ریاستوں کو بیک چینلنگ کے لیے قبول کرنا بھارت کے لئے بالکل اچھا نہیں ۔ اب بھارت میں شور مچا ہوا ہے کہ مودی کا اسرائیل کی حمایت میں جارحانہ انداز اور پاکستان کے خلاف بیان بازی misfire ہوئی ہے۔ جس شخص نے گزشتہ 12 سالوں سے بھارت پر حکومت کی ، اس کی قیادت میں بھارت کے لیے، جو کہ ایک اہم طاقت بننے کی خواہش رکھتا ہے، کرائسس سے دوچار پاکستان کا بازی لے جانا مودی کے لئے ذلت کا مقام اور بھارت کے لئے قومی شرمندگی کا باعث ہے۔





