سمیرا سلیم کا بلاگ
خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو جیل میں قید عمران خان نے وزارتِ اعلیٰ کے منصب کیلئے نامزد کیا تھا،اس نامزدگی کو پارٹی کارکنان نے بھی بہت سراہا۔ خیال تھا کہ پارٹی کے ساتھ وفاداری اور مضبوط شخصیت کے باعث گنڈاپور ،عمران خان کی رہائی کیلئے مؤثر کردار ادا کریں گے مگر 19 ماہ کے اقتدار میں وہ عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ گنڈاپور کی حکومت کے پہلے ہی سال سے کرپشن، بیڈ گورننس اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔ مگر کے پی عوام کی اکثریت گنڈاپور پور سے اس لئے بھی خفا تھی، کہ ان کے دور میں عمران خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔ خان کی رہائی کے لئے ہونے والے احتجاج میں بھی گنڈاپور کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ۔خاص طور پر نومبر 2024 کے احتجاج میں جب کارکنان اپنی جانوں پر کھیل رہے تھے تو گنڈاپور کارکنوں کو بیچ چوراہے چھوڑ کر کے پی ہاؤس پہنچ گئے۔ یہ ایسا واقعہ تھا جس پر گنڈاپور کے خلاف پارٹی اور ورکرز کی جانب سے شدید ردعمل آیا۔ان پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر کھیلنے کے الزامات بھی لگے ۔
اب سہیل آفریدی میدان میں ہیں اور امتحان بھی وہی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ 5 ماہ سے زائد کے اقتدار میں پارٹی کے عام کارکنوں کا اعتماد ابھی بھی انھیں حاصل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کیلئے نرم گوشہ رکھنے جیسے الزامات کا بھی سامنا نہیں۔
عمران خان کی رہائی کیلئے ماضی میں کی جانے والی ناکام کوششوں کے بعد اب ایک بار پھر پی ٹی آئی اپنے لیڈر کی رہائی کے لئے احتجاج کی تیاری پکڑ رہی ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے چند سینئر رہنما احتجاج کے حق میں نہیں۔ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی نے کئی بار احتجاج بھی کر کے دیکھ لئے ہیں مگر ہر بار حالات پہلے سے زیادہ بدتر ہوتے گئے۔ حکومت نے طاقت کا بھرپور استعمال کیا، گولیاں تک چلائیں اب ایسی صورتحال میں ایک بڑی احتجاجی تحریک چلانا پارٹی کے لئے سود مند نہ ہوگا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالتوں سے مایوس ہونے کے بعد عمران خان کی رہائی کے لئے رہائی فورس بنانے کا اعلان تو کر دیا، مگر سینئر رہنماؤں نے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی مخالفت کر دی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور دنیا ایران جنگ کی وجہ سے مشکل وقت سے گزر رہی ہے، سینئر رہنما ٹاسک فورس کی جگہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اسی رہائی فورس کے اعلان نے وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ گذشتہ دنوں وفاقی آئینی عدالت نے رہائی فورس کے قیام سے متعلق سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے پی کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے 10دن کی مہلت دی گئی ہے۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ سزا یافتہ افراد کے لیے فورس نہیں بننی چاہیے۔ ۔معاملہ عدالت میں جانے کے بعد بظاہر رہائی فورس کی تشکیل ممکن نظر نہیں آ رہی۔
پارٹی کی سینئر قیادت نے بھی ماضی کے احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ اس بار اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی تو پارٹی کو شدید نقصان ہوگا۔ پی ٹی آئی کی صفوں میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس احتجاجی مہم کے لئے نہ کوئی واضح روڈ میپ ہے اور نہ ہی احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے مربوط حکمت عملی۔ خان کی رہائی کے معاملے پر سہیل آفریدی کو پارٹی ورکرز کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف نتیجہ خیز مذاکرات کے دروازے بند ہیں تو دوسری طرف کسی واضح روڈ میپ کے بغیر احتجاج کا رسک کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کو پہلے خود کو متحد کرنے کی ضرورت ہے ان کی ذاتی لڑائیوں نے عمران خان کی رہائی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
اپوزیشن کا پارلیمینٹ میں بھی کسی معاملے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔وہ بظاہر سیاسی منظر نامے سے غائب ہو چکی یے۔ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا گیا مگر ابھی تک وہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کوئی بریک تھرو کرانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ خیبر پختونخوا سے پارٹی راہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس اگر فیصلہ نہیں کر پا رہے تو ہی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا چاہیے، یہ لوگ ہمارا انتظار کر رہے ہیں اور ہم انکا انتظار کر رہے ہیں اور انتظار میں ہی وقت گزر رہا ہے۔ ادھر امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد سے عمران خان کی صحت اور رہائی کے معاملات بالکل ہی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ اوپر سے جیسا رویہ پارٹی قیادت اور رہنماؤں نے اختیار کر رکھا ہے ، اگر انھوں نے اپنے اختلافات کو ختم نہ کیا اور روش نہ بدلی تو پھر خان کی رہائی کو بھول جائیں۔


