سمیرا سلیم کا بلاگ
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی نے جہاں ایک طرف خطے کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے پاگل پن اور تباہی سے بچایا ہے وہیں پاکستان نے عالمی افق پر ایک شاندار سفارتی کامیابی سمیٹی ہے۔ جنگ عظیم تھری ہوتے ہوتے بچ گئی اور دنیا کو اس تباہی سے بچانے کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ ایٹمی جنگ سے خطے کو اقوام متحدہ نے نہیں بلکہ پاکستان جو آئی ایم ایف سے قرضوں پر چلتا ہے نے بچایا۔ ایران میں تباہی روک کر پاکستان نے ان سب لوگوں کو غلط ثابت کر دیا جو شکوک وشبہات میں پڑے ہوئے تھے ، جن کو لگتا تھا کہ پاکستان کے اندر اتنے پیچیدہ اور انتہائی اہم کارنامے کو سر انجام دینے کی صلاحیت ہی نہیں۔ خاص طور پر پاکستان کو تنہا دیکھنے کی خواہش رکھنے والا بھارت جو خود کو عظیم طاقت اور Vishwa guru سمجھتا تھا اس موقع پر کہیں نظر نہیں آیا، یقیناً مودی کے لئے بڑی سبکی کا مقام ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں پاکستان نے وہ کر دکھایا جو تقریباً ناممکن نظر آ رہا تھا اس کامیابی پر پاکستان کی سول ملٹری قیادت تعریف کی مستحق ہے۔ ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچھے روابط نے ایران جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔ اس معاملے میں چین بھی آن بورڈ رہا، مگر آخری لمحے میں چین کی انٹری نے اس ڈیل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر ایرانی قیادت کو مذاکرات کی ٹیبل تک لانے میں چین کا خاص کردار سامنے آ رہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آخری لمحات میں چین نے ایران پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ کچھ لچک دکھائیں. اس کا مطلب یہی ہے کہ ایران کی قیادت کو چین اور پاکستان نے اس ڈیل پر آمادہ کیا۔ اس طرح پاکستان اور چین نے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔نیویارک ٹائمز نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی سے چند منٹ قبل صدر ٹرمپ نے دو فون کالز کیں، ایک کال پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کی اور دوسری اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کی۔امریکی وقت کے مطابق یہ ٹیلی فون کالز صدر ٹرمپ نے شام 5 بجے کے بعد کیں۔ جنرل عاصم منیر مسلسل ایرانی فوج کے ساتھ رابطے میں رہے اور ان کو پیغامات پہنچاتے رہے۔ اس جنگ بندی میں پاکستان کے آرمی چیف کا کلیدی کردار رہا ہے۔ دوسری جانب ایک خدشہ اسرائیل کی جانب سے ابھی بھی مڈلا رہا ہے، نیتھن یاہو جسے میں انسانیت کی بقاء کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہوں نے کہا ہے کہ سیز فائر میں لبنان شامل نہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ٹوئٹ میں واضح طور پر لبنان کا بھی ذکر ہے۔ مطلب اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا اور خطے میں امن نہیں ہونے دے گا۔ امریکی صدر اور پاکستان کو اس کا بھی بندوبست کرنا چاہیے تاکہ امن معاہدہ سبوتاژ نہ ہو۔
حیرت انگیز طور پر اس جنگ بندی کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ کا لہجہ یکسر ہی بدل گیا ہے۔ جو چند گھنٹوں پہلے پوری ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دے رہا تھا اب امن اور تعمیر نو کی بات کر رہا ہے، یہ ایک ڈرامائی ڈویلپمنٹ ہے۔ مگر پاکستان کے لئے تاریخی ، خطے اور معیشت کے لئے ایک اچھا دن ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھنے کو آئی ہے۔ یو ایس کروڈ کی قیمت تقریباً 15 فیصد گر کر تقریباً 96 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے جبکہ برینٹ، جو کہ بین الاقوامی بینچ مارک ہے اس کی بھی قیمت تقریباً 15 فیصد گر کر 93 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بعد یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جہاں ایک طرف مشرق وسطیٰ میں آگ کے شعلے جلد بجھ جائیں گے، وہیں دوسری طرف تیلنکی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستانی عوام تک بھی جلد پہنچایا جائے گا۔



