سمیرا سلیم کا بلاگ
آج سے تقریباً ایک سال قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں ٹرمپ نے کردار ادا کیا تھا، جس کا وہ بار بار کریڈٹ بھی لیتے رہتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارت کے غرور رافیل سمیت دیگر جنگی جہازوں کی تباہی پر ٹرمپ نے بھارت کو دنیا میں کافی رسوا کیا۔ بھارتی شرمندہ ہیں کہ آپریشن سندور کر کے انہوں نے بڑی غلطی کر دی۔ اب وہی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں یکسر ہی بدل گیا ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری پیس میکر کے طور پر سراہ رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مذاکرات’ تیسرے راؤنڈ میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم اس کا حتمی اور منطقی انجام واضح نہیں ہو سکا۔ مذاکرات انتہائی رازداری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور بند کمروں میں کیا کچھ طے پایا، اس بارے ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں ممالک کے فریقین پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔ تاحال مذاکرات کے ذریعے سفارتی حل کی کوششیں جاری ہیں مگر بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔ اگر ایران-امریکہ امن مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جو پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس لیے جہاں ایک طرف دنیا اپنی سانسیں روکے ان اہم مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا انتظار کر رہی ہے، وہیں ہمارا پڑوسی ملک اور روایتی حریف بھارت حسد کی آگ میں جل رہا ہے۔ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلوانے کی کوششیں کرنے والے بھارت سے یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ پاکستان دنیا میں عالمی امن کا پیامبر بن کر ابھرا ہے۔
اس لیے بھارتی چینلز زہر اگلنے سے باز نہیں آئے، مذاکرات کی ناکامی اور امریکی نائب صدر کی سیکیورٹی سے متعلق شکوک و شبہات کو ہوا دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن بھارت کے لیے وہ لمحہ کتنا ہی شرمسار کر دینے والا تھا، جب ایک سابق امریکی سفارت کار جیفری گنٹر سے بھارتی اینکر نے یہ سوال کیا کہ آیا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں محفوظ رہیں گے۔ سابق سفارت کار نے لائیو شو میں بھارتی اینکر کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جے ڈی وینس پاکستان میں بالکل محفوظ رہیں گے، اور اینکر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شٹ اپ کال دیتے ہوئے کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ مجھے ایک اسکول ٹیچر کی طرح آپ لوگوں کو ڈسپلن کرنے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات زندگیوں کے بارے میں ہیں، یہ لاکھوں افراد کی روزی روٹی کے بارے میں ہیں، یہ روزمرہ کے ہندوستانیوں اور امریکیوں کے لیے مہنگے پٹرول سے متعلق ہیں۔ گنٹر نے ایک سنجیدہ جغرافیائی سیاسی لمحے کو پاکستان بمقابلہ بھارت تنازع بنانے کی کوشش کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ بھارتی چینل ٹائمز ناؤ پر “Pakistan Mediation Stunt Fails” اور “Postman Fails to Deliver” جیسے ہیڈرز چل رہے تھے۔ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ کس طرح بھارتی میڈیا نے ایک سنگین نوعیت کے معاملے پر پروفیشنلزم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف مسلسل زہر اگلا۔
تاہم وقت اور حالات کی نزاکت سمجھتے ہوئے ششی تھرور جیسے چند لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے امن مذاکرات کو خوش آئند کہا، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر یہ جنگ ٹل جاتی ہے تو اس کا بڑا بینیفشری بھارت ہو گا، جہاں انرجی کرائسس بہت حد تک سنگین ہو چکا ہے۔ اگر یہ جنگ بندی مستقل نہیں ہوتی تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ امریکا، یورپ سمیت ہر خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ تجارت اور توانائی کے بحران کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے، مگر بھارت کو صرف یہ جلن سکون نہیں لینے دے رہی کہ بھارت کی بجائے پاکستان کیوں عالمی افق پر چمک رہا ہے۔ سابق امریکی سفارت کار نے جتنی بے عزتی کی، اس کے بعد بھارتی بھی شرمندگی محسوس کرنے لگے کہ ہمارے ٹی وی چینلز نفرت میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ ایک سابق امریکی سفارت کار کو دو ٹوک الفاظ میں ہمارے اینکرز کے اسلام آباد میں ایران-امریکہ امن مذاکرات کے دوران پاکستان مخالف ایجنڈے کی مذمت کرنا پڑی۔ بین الاقوامی سطح پر بھارت ایک اہم اور نازک معاملے پر پروپیگنڈا کر کے رہی سہی عزت بھی گنوا بیٹھا ہے۔ بھارت میں ایک طرف ارناب گوسوامی جیسے کئی اینکرز ایک عالمی مذاق بن چکے ہیں، تو دوسری طرف عالمی سیاست میں بھارت ذلت آمیز شکست سے دوچار ہے۔





