سمیرا سلیم کا بلاگ
گزشتہ برس راولپنڈی کی بڑی جیل اڈیالہ میں گنجائش سے زیادہ افراد قید ہونے کے باعث قیدیوں میں متعدی بیماریوں، خاص طور پر لاعلاج مرض ایڈز کے تشویشناک پھیلاؤ کی خبر سامنے آئی تھی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں سب سے زیادہ 148 ایڈز کے مریض موجود ہیں۔ مگر اب معلوم ہوا ہے کہ بات صرف جیلوں تک محدود نہیں رہی، دارالحکومت سمیت ملک بھر کے سرکاری ہسپتال جو مریضوں کے علاج معالجے کی جگہ سمجھے جاتے ہیں، اب مریضوں میں لاعلاج بیماری ایڈز منتقل کرنے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور خاص طور پر بچوں کو استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اب ہمارے بچے صرف لاعلاج مرض ایڈز کا شکار نہیں بلکہ اس سے جڑے سماجی دباؤ اور سماجی بدنامی (سوشل سٹگما) کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ریاست کی سب سے بڑی ناکامی ہے کہ آنے والی نسل خطرناک وائرس کا شکار ہو رہی ہے۔
چند روز قبل تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں 331 بچے متاثر ہو گئے ہیں، اور یہ صرف ایک ہسپتال کی بات ہے۔ ملتان نشتر ہسپتال کے ڈائیلسز سینٹر کا واقعہ بھی لوگوں کو یاد ہوگا جہاں 25 مریضوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی تھی، اس کے باوجود مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے۔ تونسہ میں بچوں کی بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد ڈاکٹرز نے پنجاب حکومت کی انکوائری رپورٹ کو منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کو ملنے والی بین الاقوامی ہیلتھ فنڈنگ کے آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب اور ملک بھر کے ہسپتالوں میں سرنجز اور انجیکشن وافر مقدار میں موجود ہیں تو طبی عملہ ایسی مجرمانہ غفلت کے مرتکب کیوں ہوئے؟ اگر ہسپتال میں سہولیات میسر نہیں تھیں تو طبی عملے نے مریضوں کو کیوں نہ بتایا کہ سرنجز دستیاب نہیں، اگر انجیکشن لگوانا ہے تو نئی خرید کر لائیں؟ کیا مریض کے لواحقین سے استعمال شدہ سرنج کے استعمال کی اجازت لی گئی؟
پاکستان کا شمار ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ایڈز سے متاثرہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایڈز کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار سے زیادہ ہے۔ ایڈز اب عام آبادی اور خاص طور پر بچوں میں پھیل رہا ہے، جس کی وجہ ہسپتالوں میں برتی جانے والی مجرمانہ غفلت ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ 20، 20 بچوں کو ایک ہی سرنج کے ذریعے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ پنجاب، سندھ یہاں تک کہ وفاقی دارالحکومت بھی ایڈز کی آماجگاہ بن گئے ہیں۔ ایڈز کے یوں عام آبادی میں پھیلاؤ کے نتائج مزید خوفناک ہوں گے۔ جس ملک میں تقریباً 70 فیصد خون کی منتقلی مناسب اسکریننگ کے بغیر کی جاتی ہو، اسٹرلائزیشن کے اصولوں پر عمل درآمد نہ ہوتا ہو، حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں اور صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھا جاتا ہو، وہاں متعدی بیماریوں اور وائرس کا پھیلاؤ اچھنبے کی بات نہیں۔ پھر صوبوں میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر ایڈز سے متعلق کوئی آگاہی مہم بھی نہیں چلائی جاتی۔ پنجاب کے بعد سندھ میں ایڈز کے سب سے زیادہ مریض موجود ہیں۔ صرف سال 2026 کے دوران سندھ میں ایچ آئی وی کیسز کی مجموعی تعداد 894 تک جا پہنچی ہے، جس میں 329 بچے شامل ہیں۔ سندھ میں 2019 کے بدنامِ زمانہ ‘رتوڈیرو اسکینڈل’ کے بعد بھی حالات نہیں بدلے۔
ہماری حکومتوں کی ترجیحات دیکھیں: لگژری جہازوں میں سفر کرنا ہے، ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کر دینے ہیں، اب مری میں گلاس برج بنانے جا رہے ہیں، جبکہ عوام کی صحت اور تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے خزانہ خالی ہے، مگر عیاشیوں اور دکھاوے کے پراجیکٹس پر خرچ کرنے کے لیے قرضوں کے پیسے موجود ہیں، جو مزید ٹیکس لگا کر آپ سے ہی وصول کیے جائیں گے، ظاہر ہے سود بھی تو عوام نے ہی ادا کرنا ہے۔ ابھی حال ہی میں کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے 28.9 ملین ڈالرز کا لگژری جہاز خریدا، جیسے ہی خبر لیک ہوئی تو کینیڈین عوام، اپوزیشن اور میڈیا نے وزیر اعلیٰ کے بخیے اُدھیڑ دیے، بالآخر امیر صوبے کے وزیر اعلیٰ کو جہاز بیچنا پڑا۔ مگر یہاں حالات یکسر مختلف ہیں۔ عوام سوال نہیں کر سکتی کہ ہم اور ہمارے بچے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث ایڈز جیسے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، اور آپ حکمران ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمارے پیسوں سے اپنے لیے لگژری جہاز خرید رہے ہو، کیوں؟
اسلام آباد جہاں 600 سے زائد ایڈز کے مریض موجود ہیں، وہاں پمز جیسے سرکاری ہسپتالوں کی حالت اتنی بری ہے تو باقی جگہوں پر کیا حالات ہوں گے۔ میں یہاں اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرنا چاہوں گی۔ یہ 2016 کی بات ہے جب میری بیرون ملک سے واپسی ہوئی تو ماحول اور موسم کی تبدیلی کے باعث طبیعت ناساز ہو گئی۔ زیادہ طبیعت خراب ہونے پر میری فیملی مجھے ایمرجنسی میں پمز ہسپتال لے گئی۔ پمز اسپتال میں گزارے وہ چند لمحے مجھے آج تک نہیں بھولے، جہاں میرا بلڈ پریشر چیک ہونا تھا وہاں لوہے کی ایک بالٹی پڑی تھی جو انتہائی گندی تھی، اور اس بالٹی میں بلڈ کے نشانات، سرنجز، خالی بوتلیں اور دیگر استعمال شدہ آلات پڑے تھے۔ بالٹی پر کوئی شاپر تک نہیں چڑھایا گیا تھا، جسے دیکھ کر میری حالت مزید خراب ہونے لگی۔ میری حالت یا پھر ہسپتال کی حالت دیکھ کر میرے ساتھ گئے ایک فیملی ممبر نے کہا کہ یہاں علاج مناسب نہیں، پھر مجھے فوری طور پر ایک پرائیویٹ کلینک میں شفٹ کیا گیا، جہاں میرا علاج شروع ہوا اور یوں میں پمز میں مزید اذیت سے دوچار ہونے سے بچ گئی۔ مگر یہاں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی غرض سے خوار ہو رہے ہیں۔ اب تو یہ کہنا درست ہوگا کہ لوگ شفا لینے نہیں بلکہ ہسپتالوں سے مزید خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے جا رہے ہیں۔ یہ بڑے دکھ اور رنج کی بات ہے کہ پاکستانی عوام ہر طرح کی ریاستی پروٹیکشن سے محروم ہے۔


