ڈاکٹر حسنات خان برطانیہ سے مستقل طور پر پاکستان واپس آ گئے ہیں اور انہیں لاہور میں قائم ہونے والے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس ادارے میں بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور ڈین، دوہری ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
یہ تقرری پاکستان کے صحت کے شعبے، بالخصوص امراضِ قلب کے علاج کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور میں دل کے امراض کے علاج کے لیے ایک جدید اور بڑے اسپتال کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، جو شہر میں اس نوعیت کا دوسرا بڑا ادارہ ہوگا۔ اسپتال کی عملی تیاریوں اور انتظامی ڈھانچے پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ ابتدائی طور پر بھرتیوں اور تقرریوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر حسنات خان کا شمار دنیا کے ممتاز ماہرینِ امراضِ قلب میں ہوتا ہے۔ وہ 1958 میں ضلع جہلم میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے وہ بعد ازاں برطانیہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے رائل برومپٹن اسپتال لندن میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ رائل برومپٹن اسپتال کو دنیا کے معروف کارڈیک اداروں میں شمار کیا جاتا ہے، اور ڈاکٹر خان نے وہاں اپنی مہارت اور تجربے کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔
ڈاکٹر حسنات خان کو بین الاقوامی سطح پر اس وقت مزید شہرت حاصل ہوئی جب 1995 میں برطانیہ کی شہزادی ڈیانا رائل برومپٹن اسپتال میں ایک دوست کی عیادت کے لیے آئیں۔ اسی دوران ان کی ڈاکٹر خان سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد ان کا نام عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ رپورٹس کے مطابق شہزادی ڈیانا انہیں محبت سے “مسٹر ونڈرفل” کے نام سے پکارتیں، جس نے ان کی شخصیت کو مزید عالمی پہچان دی۔
برطانیہ میں طویل اور کامیاب طبی خدمات انجام دینے کے بعد ڈاکٹر حسنات خان نے اب پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی واپسی کو نہ صرف طبی حلقوں بلکہ حکومتی اور تعلیمی شعبوں میں بھی ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے تجربے اور بین الاقوامی مہارت سے پاکستان میں کارڈیالوجی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی قیادت سنبھالنے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر حسنات خان ملک میں دل کے امراض کے علاج، تحقیق اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کریں گے، جس سے لاہور سمیت پورے ملک کے مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔
(بشکریہ مرتضیٰ علی شاہ )

