امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی حق شہریت (Birthright Citizenship) کے خلاف ایک بار پھر سخت اور متنازع مؤقف سامنے آیا ہے، جس نے امریکہ میں امیگریشن، آئینی تشریحات اور سیاسی بحث کو نئی شدت دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک قدامت پسند ٹاک شو کے مواد کو شیئر کرتے ہوئے اس پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سپریم کورٹ میں جاری قانونی بحث پر بھی سوالات اٹھائے۔
ٹرمپ نے جس پروگرام کا مواد شیئر کیا وہ سیاسی تجزیہ کار مائیکل سیویج کے شو سے منسوب تھا، جس میں بھارت، چین اور دیگر ممالک کو سخت اور توہین آمیز انداز میں “hellholes” یعنی “جہنم نما ممالک” کہا گیا۔ پروگرام میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان ممالک سے لوگ امریکہ آ کر حمل کے آخری مراحل میں بچوں کو جنم دیتے ہیں تاکہ انہیں فوری طور پر امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔ٹاک شو میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ عمل امریکہ کے امیگریشن نظام کے غلط استعمال کی ایک شکل ہے، جسے عام طور پر “برتھ ٹورزم” کہا جاتا ہے۔
پروگرام میں اور صدر ٹرمپ کے بیانیے میں یہ مؤقف نمایاں رہا کہ امریکہ میں موجودہ قانون کے تحت جو بھی بچہ سرزمین پر پیدا ہوتا ہے، اسے خودکار شہریت مل جاتی ہے، چاہے اس کے والدین کی حیثیت کچھ بھی ہو۔ اسے ناقابلِ عمل اور “آج کے دور کے لیے غیر متعلق” قانون قرار دیا گیا۔یہ بھی کہا گیا کہ آئین اس وقت لکھا گیا تھا جب نہ ہوائی سفر تھا، نہ جدید ٹیکنالوجی اور نہ ہی موجودہ عالمی ہجرت، اس لیے موجودہ حالات میں اس کی تشریح پر نظرثانی ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت امریکی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں برتھ رائٹ سٹیزن شپ کی آئینی حیثیت پر دلائل دیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے عدالت میں موجودگی کے دوران بھی اس بحث کو قریب سے دیکھا اور بعد میں اس پر سخت ردعمل دیا۔ان کے مطابق اس مسئلے کا فیصلہ صرف قانونی ماہرین کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پر براہِ راست عوامی رائے لی جانی چاہیے۔
ٹرمپ اور ان کے حامی بیانیے میں بار بار یہ مؤقف سامنے آیا کہ برتھ رائٹ سٹیزن شپ جیسے اہم معاملے پر قومی ریفرنڈم ہونا چاہیے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی پر عوام کی اکثریت سوالات رکھتی ہے اور یہ فیصلہ چند ججوں کے بجائے عوام کو کرنا چاہیے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض تارکینِ وطن، خاص طور پر چین اور بھارت سے آنے والے افراد، اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پروگرام میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ کچھ لوگ امریکہ میں بچے کی پیدائش کے ذریعے شہریت حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے خاندان کو بھی امریکہ منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے ایک ایسا ادارہ قرار دیا گیا جو عدالتوں کے ذریعے امیگریشن پالیسیوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور غیر قانونی تارکین وطن کے حق میں کام کرتا ہے۔مزید یہ الزام بھی سامنے آیا کہ یہ تنظیم امریکہ کے قانونی اور سماجی نظام کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
بیان میں خاص طور پر ریاست کیلیفورنیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں فلاحی نظام (ویلفیئر سسٹم) میں مبینہ طور پر بدعنوانی اور فراڈ پایا جاتا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کچھ گروہ اس نظام سے غیر قانونی طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ٹرمپ اور ان کے حامی بیانیے میں امریکی آئین کو “پرانے دور کی دستاویز” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عدالتی اور قانونی نظام عوامی رائے سے دور ہو چکا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں امیگریشن پالیسی پہلے ہی سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف برتھ رائٹ سٹیزن شپ کو آئینی حق سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس میں تبدیلی یا سختی کے مطالبات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

