فرزانہ علی خان کا بلاگ
دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں آئی لیکن ناکام ہوگئی، پروڈیوسرز کا سارا سرمایہ ڈوب گیا۔ ان کی دوسری فلم پریتمہ 1945 میں آئی اور وہ بھی بری طرح فیل ہو گئی۔ اس کے بعد یہ سارا سارا دن ساری ساری رات فلمیں دیکھتے رہتے تھے اس دوران انہیں اپنی خامیوں کا اندازہ ہو گیا انہوں نے ان پر قابو پایا فلم امن میں کام کیا اور پورے ہندوستان میں طوفان مچا دیا۔ ان کی اگلی فلم میڈم نورجہاں کے ساتھ تھی اور وہ تھی جگنو۔ وہ بھی سپر ہٹ ثابت ہوئی اور اس کے بعد دلیپ صاحب نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
ہم اگر آج دلیپ صاحب کی کامیابی کا تجزیہ کریں تو ہمیں اس کے نیچے چار ستون ملیں گے۔
پہلا ستون: یہ شروع میں خوفناک ناکامی کے بعد مایوس نہیں ہوئے تھے، یہ پیچھے نہیں ہٹے تھے، یہ ڈٹے رہے تھے، لگے رہے تھے۔
دوسرا ستون: یہ ناکامی کے بعد رکے، اپنی خامیوں کا اعتراف کیا، ان پر قابو پایا، کامیاب اداکاروں کی فلمیں دیکھ کر ان کی کامیاب ٹیکنیکس کو کاپی کیا اور کامیاب ہو گئے۔
تیسرا ستون: دلیب صاحب نے اپنے پچاس سال کے فلمی کیریئر میں صرف 65 فلموں میں کام کیا، انہوں نے اپنے معیار کو نیچے نہیں آنے دیا۔
چوتھا اور آخری ستون: دلیب صاحب کی آخری فلم قلعہ 1988 میں آئی تھی، انہوں نے اس فلم میں اندازہ کر لیا تھا کہ میرا وقت ختم ہو چکا ہے، مجھے اب ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے اور انہوں نے اس کے بعد بائیس سال کسی سٹوڈیو میں قدم نہیں رکھا۔ یہ ان کی سمجھداری تھی۔
یہ اگر قلعہ کے بعد بھی فلموں میں آتے رہتے، ناکام ہوتے رہتے تو یہ معاشرے میں اپنا مقام کھو بیٹھتے۔ لہذا انہوں نے ایک باعزت خروج لے لیا۔
دلیپ کمار کامیابی کی ایک شاندار سٹوری تھے اور کامیابی کا ایک شاندار ماڈل بھی تھے اور اس ماڈل سے ہمارے لیے سیکھنے کی چند باتیں یہ ہیں۔
ہمیں ناکامی کے بعد مایوس نہیں ہونا چاہیے، کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
دنیا میں جو بھی پروڈکٹ اور شخص کامیاب ہوا، وہ شخص شروع میں ناکام ضرور ہوا۔ لہذا ناکامی کامیابی کا حصہ ہوتی ہے۔ اپنی خامیاں ٹٹولتے رہا کریں اور انہیں امپروو کرتے رہا کریں، یہ کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
کوالٹی پر کبھی کمپرومائز نہ کریں، کم کریں لیکن ستھرا کریں۔ اور آخری بات، اپنا ایگزٹ پلان بھی ضرور اپنی جیب میں رکھا کریں۔ فیلڈ کو جب بھی چھوڑیں، پیک پر پہنچ کر چھوڑیں، ناکام ہو کر گھر نہ جائیں، ٹرافی لے کر جائیں۔ یہ دلیپ صاحب کی کامیابی کا ماڈل کہہ رہا ہے۔
