ٹیکساس: امریکہ میں وفاقی ججز اب سماعت کی تیاری اور فیصلوں کے مسودے تیار کرنے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکساس کے جج زیویئر روڈریگز کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کی متعلقہ فائلیں AI میں ڈال کر فوری طور پر کیس کی ٹائم لائن اور فریقین کے دعووں کا جائزہ لیتے ہیں، جس سے قانونی معاونین کا وقت بچتا ہے۔
روڈریگز نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا: "یہ ٹول وہ کام لمحوں میں کر دیتا ہے جس کے لیے میری ٹیم کو 30 سے 60 منٹ لگتے۔” سماعت سے قبل وہ AI سے وکیل سے پوچھے جانے والے سوالات یا دلائل میں ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی بھی کروا سکتے ہیں۔ تاہم، وہ فیصلہ خود کرتے ہیں اور AI صرف تیاری میں مددگار ہوتا ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 112 وفاقی ججز میں سے 60 فیصد کم از کم ایک بار AI استعمال کر چکے ہیں، جبکہ 22 فیصد روزانہ یا ہفتہ وار AI کا استعمال کرتے ہیں۔
عدالتی ادارے بھی AI ٹولز تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رہے ہیں۔ لاس اینجلس کاؤنٹی سپیریئر کورٹ نے مارچ میں اسٹارٹ اپ "Learned Hand” کے ساتھ پائلٹ پروگرام کا آغاز کیا، جبکہ Thomson Reuters اور LexisNexis وفاقی عدلیہ کو AI ٹول فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کے استعمال سے عدلیہ زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے اور بھاری مقدمات جلد نمٹائے جا سکتے ہیں، لیکن غلطیوں کے امکانات بھی موجود ہیں۔ مسیسیپی اور نیو جرسی میں دو وفاقی ججز کی فائلنگ میں جعلی حوالہ جات اور دعووں کی غلط تفصیل سامنے آئی تھی۔
ججز کا کہنا ہے کہ انسانی نگرانی لازمی ہے اور AI کو فیصلے کے اختیار کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ فلوریڈا کے جج کرسٹوفر پیٹرسن نے کہا: "AI صرف ایک مددگار اوزار ہے، فیصلہ لینے کے لیے آپ کی اپنی رائے لازمی ہے۔”
