• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

قومیں اور ملک کیسے خوشحال بنتے ہیں؟

by ویب ڈیسک
اپریل 6, 2026
in بلاگ
0
قومیں اور ملک کیسے خوشحال بنتے ہیں؟
0
SHARES
323
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

سنہ 1814 میں آزادی پانے والا ملک ناروے یورپ میں نسبتاً خوشحال ملک تھا۔ نارویجین بنیادی طور پر ماہی گیری، جہازرانی اور زراعت سے وابستہ تھے۔ مگر 1969 میں کرسمس کے موقع پر شمالی سمندر کے منجمد پانیوں کے نیچے سے تیل دریافت نے ملک کی کایا ہی پلٹ دی۔ Ekofisk فیلڈ تاریخ کی سب سے بڑی آف شور تیل کی دریافتوں میں سے ایک تھی۔ ایک چھوٹی سی آبادی پر مشتمل قوم تیل کی اتنی بڑی دریافت کے بعد وہی راستہ اپنا سکتی تھی جس پر عرب ممالک گامزن ہیں۔ حکمران چاہتے تو کئی لگثری جہاز خرید سکتے تھے۔دفتر سے گھر آنا جانا بھی جہاز پر ہوتا۔اپنے لیئے دنیا بھر کے ممالک میں شاہانہ جائیدادیں خریدتے۔ دنیا کے طاقتور ترین سربراہ مملکت کی خوشنودی کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ جہاز تحفے کے طور پر نذر کرتے مگر انھوں نے ایسا نہ کیا۔ تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت پر جشن منایا، نہ محلات بنائے۔ عوام کے نام پر غیر تعمیری منصوبوں پر پیسوں کا ضیاع نہ کیا۔ ناروے کے سیاست دانوں نے کچھ ایسا کیا جو تاریخ میں کسی حکومت نے نہ کیا۔ انھوں نے تیل کی دولت سے مالا مال ان ممالک سے سبق سیکھا جن کے لئے تیل کی یہ دولت curse  بن گئی تھی۔ ناروے کے سیاست دانوں نے دانائی اور حکمت عملی سے کام لیا تاکہ ان کا حال بھی نائجیریا ، لیبیا اور وینزویلا جیسا نہ ہو جائے جہاں تیل کی وجہ سے پیسے کی ریل پیل نے بدعنوانی، افراط زر، عدم مساوات، اور بالآخر تباہی کو جنم دیا۔

1990 میں ناروے کی پارلیمنٹ نے نہ صرف انقلابی قانون پاس کیا بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کیا۔ اس قانون کے تحت تیل کے منافع کا ایک ایک نارویجن کرنسی کرون نئے سرکاری پٹرولیم فنڈ میں جائے گا،  جسے اب آئل فنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فنڈ نے دنیا بھر میں ہزاروں کمپنیوں میں چھوٹے پیمانے پر حصص خریدے جیسا کہ ایپل، مائیکرو سافٹ ، ایمازون ، نیسلے اور اسی طرح کی دیگر ان گنت کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس کے علاؤہ اس فنڈ سے مین ہٹن، لندن، پیرس اور ٹوکیو میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ وہ سیاست دان جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ان میں سے اکثریت اب زندہ بھی نہیں، مگر یہ فیصلہ نہ صرف انھوں نے اس وقت کی عوام کے لئے کیا بلکہ ان نارویجین کے لئے بھی کیا جو پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ نارویجین حکومتوں نے تیل کی دولت سے ایک ایسی معیشت کو پروان چڑھایا ہے جس سے دوسرے امیر ممالک بھی حسد کرتے ہیں۔ ناروے میں شاید غربت یا غریب کا تصور ہی نہیں۔ فی کس آمدنی 90 ہزار ڈالر ہے۔ سوئٹزرلینڈ جسے ٹیکس ہیون سمجھا جاتا ہے وہ ایک لاکھ 3998 ہزار ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ ناروے سے آگے ہے۔ ناروے کی کل آباد 56 لاکھ کے لگ بھگ ہے،سرکاری سکولوں کا معیار اس قدر بلند ہے کہ شاہی خاندان کے بچے بھی انھی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں عام پاکستانی نژاد نارویجن ٹیکسی ڈرائیور کے بچے جاتے ہیں ۔ اپنے شہریوں کے لیے نارویجین حکومت نے 2.2 ٹریلین ڈالرز (چار لاکھ ڈالر فی فرد) مالیت کا ایک خودمختار دولت فنڈ اکٹھا کیا ہے۔آج ناروے دنیا کی سب سے فیاض فلاحی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ 

اگر ہم پاکستان کے قدرتی وسائل کی بات کریں تو صرف معدنی وسائل 8 سے 10 ٹریلین ڈالرز کے لگ بھگ ہیں مگر ہم نے کبھی ان قدرتی وسائل سے حکمت اور دانائی استعمال کرتے ہوئے قوم کے فائدے کے لئے کچھ نہیں کیا۔  اس کی ایک مثال یہ ہے کہ  1952 میں سوئی کے مقام پر گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا۔ گیس کے اس ذخیرے سے 15 سال تک پورے ملک کو گیس سپلائی کی جاتی رہی, پھر اسی دوران پنجاب میں گیس دریافت ہوئی اور بعد میں 1981 میں سندھ میں بھی گیس کے ذخائر دریافت ہوئے مگر سوئی کے مقابلے میں گیس کی پیداراو اتنی زیادہ نہ تھی۔ جس صوبے اور علاقے سے گیس دریافت ہوئی تھی، اور جس سے پورا ملک مستفید ہو رہا تھا وہ علاقہ آج بھی پسماندہ اور گیس سے محروم ہے۔ اس کی بڑی وجہ صرف حکمرانوں کی نااہلی اور غلط ترجیحات نہیں بلکہ لالچ ، کک بیکس ، کمیشن اور کرپشن ہے۔ وفاقی حکومتوں ،سرداروں اور نوابوں نے عام عوام تک وسائل کے فوائد پہنچنے ہی نہ دیئے۔ اگر کوئی حکومت اس وقت توانائی کے ان ذخائر کو مناسب طریقے سے مینج کر لیتی تو ایل این جی کی ضرورت نہ پڑتی۔عوام نے  گیس سستی اور وافر ہونے کے باعث گھروں میں بھی بے دردی سےاس کا استعمال کیا۔ لوگ ماچس کی تیلی ضائع کرنے کی بجائے چولہا جلتے رہنے کو ترجیح دیتے۔ آج حالات یہ ہیں کہ توانائی کا بحران آئے روز ملک کو جکڑ لیتا ہے۔ ملک میں گیس، پٹرول ، بجلی سب کچھ مہنگا ہے۔ ٹیکسوں پر ٹیکس لگ رہے ہیں مگر یہ ہزار اقسام کے ٹیکس  عوام کی بہتری پر استعمال ہونے کی بجائے قرضوں کی ادائیگی اور حکمرانوں کے اللے تللوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ملک صرف وسائل ہونے سے خوشحال نہیں بنتے بلکہ ایماندار حکمرانوں کی بہترین حکمت عملی اور دانائی سے خوشحالی کی منازل طے کرتے ہیں۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
پاکستان جیت گیا

پاکستان جیت گیا

غلجو، ضلع اورکزئی: سیکیورٹی خدشات کے باعث تعلیمی ادارے غیر فعال، انتظامی غفلت پر افسران کی برہمی

غلجو، ضلع اورکزئی: سیکیورٹی خدشات کے باعث تعلیمی ادارے غیر فعال، انتظامی غفلت پر افسران کی برہمی

جے ڈی وینس: رسٹ بیلٹ سے وائٹ ہاؤس تک کا سفر

جے ڈی وینس: رسٹ بیلٹ سے وائٹ ہاؤس تک کا سفر

پاکستان عالمی امن کا پیامبر۔۔بھارتی میڈیا برداشت نہ کر سکا

پاکستان عالمی امن کا پیامبر۔۔بھارتی میڈیا برداشت نہ کر سکا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In