فیصلکا: چار سال سے فرار سابق آرمی کپتان سندیپ تومر کو پولیس اور نیشنل انٹیلی جنس ایجنسیز کی مشترکہ کارروائی کے بعد مدھیہ پردیش کے ضلع پانڈھرنا سے گرفتار کر لیا گیا۔ تومر اپنی بیوی شویتا سنگھ کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کے جرم میں 2014 میں عمر قید کی سزا یافتہ تھا۔
تومر ابتدائی طور پر دعویٰ کرتا رہا کہ بیوی نے خودکشی کی، مگر فرانزک تحقیقات سے قتل ثابت ہوا۔ پانچ سال جیل میں رہنے کے بعد 2019 میں اسے ضمانت مل گئی، اور ستمبر 2022 میں ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا برقرار رکھی، جس کے بعد وہ فرار ہو گیا۔
فرار کے دوران تومر نے مختلف شہروں میں جعلی شناخت کے ساتھ زندگی گزاری، زیرکپور، اڑیسہ اور بنگلور میں رہا اور آخرکار پانڈھرنا میں جوس فیکٹری کا منیجر بن گیا۔ اس دوران اس نے دوبارہ شادی بھی کر لی۔
گرفتاری کی کامیابی میں دو ڈیجیٹل ٹریکس نے اہم کردار ادا کیا: تومر نے اصل PAN کارڈ سے بینک اکاؤنٹ کھولا اور اسی اکاؤنٹ سے ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کی، جس سے پولیس کو اس کا مقام معلوم ہوا۔ پولیس نے گیس ایجنسی اور موبائل ٹاور ڈیٹا کے ذریعے تومر کو لوکیشن کی تصدیق کے بعد گرفتار کیا۔

