سمیرا سلیم کا بلاگ
جب سے ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر،صیہونی لابی اور نیتن یاہو کے دباؤ میں ایران پر جنگ مسلط کی ہے، ٹرمپ کی امریکی میڈیا پر خفگی بڑھتی جا رہی ہے۔ایران جنگ کو لیکر ٹرمپ اپنے حق میں کوریج چاہتے تھے مگر امریکی میڈیا نے ٹرمپ کی خواہش کے مطابق کوریج نہیں کی۔ ایران پر حملے کے پہلے روز امریکا نے تہران کے ایک سکول کو نشانہ بنا کر 168 کم عمر بچیوں کو قتل کیا تو امریکہ سمیت دنیا بھر کا میڈیا ٹرمپ پر برس پڑا ۔ یہ بربریت اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی وار کرائم سے کم نہ تھی۔ایپسٹین فائلز کے مبینہ اہم کردار ٹرمپ کی جانب سے اسکول کی 168 معصوم بچیوں کے سفاکانہ قتل کے بعد میڈیا کیسے اپنے صدر کا دفاع کرے اور اسے ایک مہان اور بہترین لیڈر کے طور پر پیش کرے۔ اس وقت ٹرمپ کے خلاف نہ صرف امریکی عوام ، میڈیا بلکہ کانگریس کی اکثریت اور ٹرمپ انتظامیہ کے اپنے سرکاری عہدیدار بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔
جیسے جیسے یہ جنگ بڑھتی جا رہی ہے اس کی تپش یورپ سمیت ساری دنیا محسوس کرنے لگی ہے۔انرجی کرائسس کے بڑھتے عالمی اثرات پر ٹرمپ سے میڈیا بھی چبنے والے سوالات کر رہا ہے ، کہ آخر کیوں اسرائیلی وزیراعظم کی خاطر ایک خودمختار ملک پر جنگ مسلط کی، وہ بھی ایسے وقت میں جب امریکا کی اپنی انٹیلجنس ایجنسیاں ٹرمپ کو رپورٹ پیش کر چکی تھیں کہ ایران سے امریکا کو اگلی ایک دہائی تک بھی کوئی خطرہ نہیں۔ ادھر برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول جو امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حتمی مذاکرات میں شامل تھے، انھوں نے بیان دیا کہ مذاکرات میں جوہری پروگرام پر تہران کی جانب سے پیش کردہ پروپوزل حیران کن تھا۔ اس طرح کے معاہدے بارے شاید امریکا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایران اتنی نرمی دکھائے گا۔ڈیل ٹرمپ کی ریچ میں تھی کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اور یورپی حکام بھی اس جنگ کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہاں تک ضمیر کی آواز سنتے ہوئے ٹرمپ کے اپنے مقرر کردہ انسداد دہشت گردی کے اعلیٰ عہدیدار جو کینٹ مستعفی ہو گئے۔ یہ صرف استعفیٰ نہیں تھا بلکہ ٹرمپ انتظامیہ اور جنگ کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔ جو کینٹ کے ایک ایک لفظ نے امریکا کو ایکسپوز کیا ہے۔ اب جب امریکا کے آفیشلز بھی اس جنگ کے خلاف بات کر رہے ہیں تو میڈیا اگر کچھ تھوڑی بہت حقیقت دکھا رہا ہے تو ٹرمپ کی شکایتیں ہیں کہ ختم نہیں ہو رہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے امریکی نیوز میڈیا کی ایران جنگ کی کوریج کے بارے غصہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ٹرمپ ان کے لئے”مجرم” اور "غیر محب وطن” جیسے سخت الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ یہاں تک کے ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ تو اتنے آپے سے باہر تھے کہ پینٹاگون کے پریس بریفنگ پوڈیم میں میڈیا پرسنز پر برس پڑے اور ان کی توہین کی۔ یہ حالت ہے ایک ایسے ملک اور سپر پاور کی جو دنیا میں خود کو جمہوریت ، آزادی رائے اور آزادی صحافت کا علمبردار سمجھتا ہے۔جو چین پر ہر وقت الزام لگاتا ہے کہ وہ اپنی عوام کو آزادی اظہار کا حق نہیں دیتا۔امریکی وزیر جنگ کی حالت سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ لگ رہا تھا کہ کہیں میڈیا والوں کو دو چار تھپڑ ہی نہ رسید کر دیں۔ پیٹ ہیگستھ چاہتے ہیں کہ امریکی میڈیا چیخ چیخ کر یہ ثابت کرے کہ ٹرمپ کا جنگ فیصلہ نہ صرف درست تھا بلکہ امریکا یہ جنگ جیت بھی چکا ہے۔ان کی کوشش ہے کہ امریکی عوام کو جنگ سے متعلق صرف اچھی خبریں ہی سننے کو ملیں۔ ایران کے خلاف اس جنگ میں عوامی سپورٹ مل رہی ہے اور نہ ہی فتح جس سے ٹرمپ انتظامیہ اضطراب کا شکار ہے اور سارا غصہ میڈیا پر نکل رہا ہے۔
ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع کے دھمکی اور توہین آمیز رویے پر میڈیا کمپنیوں نے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ CNN کے چیئرمین اور سی ای او مارک تھامسن نے اپنے ایک بیان میں سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ یہ سیاستدانوں کا وطیرہ ہے کہ وہ ان کے فیصلوں پر سوالات اٹھانے والی صحافت کو غلط سمجھتے ہیں۔ انھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہماری واحد دلچسپی امریکہ اور دنیا بھر میں اپنے دیکھنے اور سننے والوں کو سچ بتانے میں ہے، اور ہم سیاسی دھمکیوں یا توہین آمیز رویے سے جھکنے اور ڈرنے والے نہیں۔ یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ اپنے دوسرے دور اقتدار میں ٹرمپ کا میڈیا ، خاص طور پر ایسے میڈیا ہاؤسز جو اختلاف رائے رکھتے ہیں، کے ساتھ سوتیلے پن والا سلوک رہا ہے۔ گذشتہ سال بھی وزیر دفاع جنھیں اب وزیر جنگ کہا جاتا ہے نے پینٹاگون پریس روم میں بڑی نیوز آرگنائزیشنز کو اپنی ڈیسک خالی کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔ میڈیا کی رپورٹنگ کی تپش اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اب پیٹ ہیگستھ ایران جنگ کی کوریج کرنے والے رپورٹرز کو جھاڑ پلا رہا ہے۔ امریکہ جو اظہار رائے کی آزادی پر فخر کرتا تھا اب ٹرمپ کی قیادت میں اسی کا گلا گھونٹنے کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔





