سمیرا سلیم کا بلاگ
امریکہ میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ٹرمپ کی غیر قانونی جنگ کی نذر کیوں ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کو اسوقت اندرونی حلقوں سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔وینزویلا میں کامیاب آپریشن کے بعد ٹرمپ کی خوداعتمادی اتنی بڑھ گئی تھی کہ ایران جنگ کے اثرات کو کیکولیٹ کئے بغیر ٹرمپ نے جنگ کا آغاز کر دیا، ٹرمپ کا خیال تھا کہ اعلی مذہبی و فوجی قیادت کے خاتمے کے بعد ایران مزاحمت کرنے کے قابل نہیں رہے گا اور گھٹنے ٹیک دے گا۔ تاہم ایرانی مزاحمت سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ جنگ ٹرمپ انتظامیہ کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے،ایک ایسی جنگ میں امریکا پھنس چکا ہے جو اب جلد ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنگ مالی طور پر بھر بھی امریکہ کیلئے بھاری ثابت ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون نے اسرائیل کی اس جنگ کو جاری رکھنے کے لئے فوری طور پر 200 ارب ڈالرز فنڈ مانگا ہے۔ مارکو روبیو اس کوشش میں لگے ہیں کہ کانگریس کسی طرح بغیر روڑے اٹکائے مشرقی وسطیٰ میں عرب اتحادیوں کو 1.6 ارب ڈالرز کے ہتھیار فوری طور پر فروخت کرنے کی اجازت دے۔ یہ وہ اتحادی ممالک ہیں جو اس وقت امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف بلاجواز شروع کی گئی اس جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ امریکا اب انکو ہتھیار بیچ کر اربوں ڈالرز اس مد میں بھی وصول کرنا چاہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آمریکا کو اس وقت ایران جنگ 1.3 ملین ڈالر فی منٹ کے حساب سے پڑ رہی ہے۔ ہارورڈ ایکسپرٹ لنڈا بلمز کے مطابق ایران جنگ امریکی ٹیکس دہندگان کو 1 ٹریلین ڈالر میں پڑے گی۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو امریکا کو پہلے چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالرز میں پڑی۔ امریکی ماہرین جنگ کی قیمت پر تلملا اٹھے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جتنا پیسہ ہم یومیہ اس جنگ پر خرچ کر رہے ہیں،اگر دو ہفتوں کی لاگت کو اکٹھا کیا جائے تو ہم ان امریکی خاندانوںکو مفت کالج کی تعلیم دے سکتے ہیں جن کی سالانہ آمدن 125,000 ڈالر سے کم ہے۔
اسی طرح اگر اس جنگ کے تین ہفتوں کے خرچ کو جمع کیا جائے تو تقریباً 30 ارب ڈالرز بنتے ہیں جس سے 3 سے 4 سال کے بچوں کے لئے پورے امریکا میں (pre K) پروگرام (پریس کنڈر گارٹن )prekindergarten ایجوکیشنل پروگرام شروع کیا جا سکتا تھا۔ امریکی ڈاکٹرز، ریسرچرز اور معاشی ماہرین ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں کہ جتنا پیسہ اسرائیل کی خاطر شروع کردی اس جنگ پر خرچ ہو رہا ہے اور جو آگے چل کر ہو گا ، اس سے امریکی عوام کی زندگی بہت بہتر بنائی جا سکتی تھی۔ امریکا میں ہر دو گھنٹے میں ایک عورت cervical cancer سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ ایک ارب ڈالر کی لاگت سے اگر ایسی خواتین کی وقت سے اسکریننگ کر لی جائے تو سینکڑوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ مگر اس وقت تو ٹرمپ گریٹ امریکا کی بجائے گریٹ اسرائیل کی پالیسی جاری رکھنے پر بضد ہیں، اس لئے امریکی ماہرین کے اعدادوشمار اور مشورے ٹرمپ کے کسی کام نہ آئیں گے۔
ٹرمپ نے ایران پر جنگ مسلط کر کے جو جوا کھیلا ہے، وہ اسے ہر صورت جیتنے پر بضد ہیں، چاہیے امریکیوں کو یا دنیا کو اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ اس جنگ نے عالمی اقتصادی استحکام کو بری طرح سے جھنجھوڑ دیا ہے۔ توانائی بحران کے باعث جو معاشی دباؤ یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشاء میں محسوس کیا جا رہا ہے آنے والے دنوں میں اس کے نتائج تباہ کن ہونگے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ہیڈ فتح بیرول نے ایران جنگ کو تاریخ کے بدترین توانائی بحران کی وجہ قرار دیا ہے۔ دنیا میں یومیہ 11 ملین بیرل کا نقصان ہو رہا ہے۔ حالانکہ آئی ای اے نے جنگ کے پہلے ہی دو ہفتے میں ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل جاری کیا، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔
فتح بیرول کے مطابق سب سے اہم حل آبنائے ہرمز کا کھلنا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر جو جنگ شروع کی گئی وہ اس وقت بہت بڑے توانائی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت آبنائے ہرمز ایک اہم اسٹریٹجک مفادات کا گڑھ بن چکا ہے ، یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ اب اصل میدان جنگ آبنائے ہرمز کا کنٹرول بن چکا ہے۔ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو ہٹ کرے گا، اور پھر آج صبح ایسا ہی کیا۔ تہران میں انرجی انفراسٹرکچر پر امریکی و اسرائیلی بمباری سے تہران میں بلیک آؤٹ ہو گیا۔ ایران نے بھی جواب میں سخت ردعمل دیا کہ وہ امریکا کے اس خطے میں قائم انفراسٹرکچر کو تباہ کرے گا۔ ایران تو کہہ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا ہے ماسوائے دشمنوں اور اس کے اتحادیوں کے۔ اب ایران نے جنگ میں ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کیلئے بہترین چال چلی ہے۔ ایران بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے 20 لاکھ ڈالر چارج کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکا بھی آبنائے ہرمز اور ممکنہ طور پر جزیرہ خرگ، جو ایران کا تیل برآمد کرنے کا اہم مرکز ہے، پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 4500 میرینز، انفنٹری بٹالین، F-35s ہیلی کاپٹر اور بکتر بند لینڈنگ وہیکل بھیج رہا ہے۔ ایک طرف ٹرمپ اپنے میڈیا کو یہ بتاتا رہا ہے کہ امریکا کے پاس بےپناہ ہتھیار موجود ہیں لیکن دوسری جانب ٹرمپ کو جنوبی کوریا سے اپنے ہتھیار مڈل ایسٹ شفٹ کرنا پڑے۔ ٹرمپ اس وقت میڈیا پر بھی شدید برہم ہیں۔گذشتہ دنوں ٹرمپ نے میڈیا کو خوب جھاڑا کہ تم لوگ ایران کے ساتھ مل کر فیک نیوز پھیلا رہے ہو۔جبکہ ہم ایران کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں ۔ ہم نے تو ایران کی ملٹری صلاحیت کو 100 فیصد تباہ کر دیا ہے اور تہران ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ ایران جنگ سے متعلق امریکی صدر اپنی ہی عوام اور میڈیا سے مسلسل جھوٹ بولنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ میڈیا بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ ٹرمپ کی سیاست کا آغاز ہی امریکی صدر باراک اوباما کی جائے پیدائش بارے جھوٹ بولنے سے شروع ہوا۔ ٹرمپ اس قدر کنفیوژ ہو چکا ہے کہ ایک ایسی جنگ میں پھنس چکا ہے، جو امریکا کے اپنے وجود کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ ٹرمپ کی تباہ کن ملٹری ،معاشی اور خارجہ پالیسیاں ایک نئے ورلڈ آرڈر کو جنم دے رہی ہیں۔ حالات بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کے بطور تنہا سپر پاور رہنے کے دن گنے جا چکے ہیں۔





