• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 12, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر۔۔ہارڈلائنر کی فتح؟

by ویب ڈیسک
مارچ 12, 2026
in بلاگ
0
مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر۔۔ہارڈلائنر کی فتح؟
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیراسلیم کا بلاگ
ایران کو نیوکلیئر پاور بننے سے روکنے اور رجیم چینج کرنے کے لئے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کی رہائشگاہ پر میزائلوں سے حملہ کیا، بھاری بمباری کے نتیجے میں آیت اللہ خامنہ اور ان کے اہل خانہ کے کچھ افراد شہید ہو گئے۔ مغربی میڈیا کے مطابق اس حملے میں نئے سپریم لیڈر اور آیت اللہ خامنہ کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے، اور اس وقت بھی وہ زخمی ہیں، اور انھیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ، تاہم وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو اس خوش فہمی میں گرفتار ہوگئے کہ وہ وینزویلا کی طرح چند  گھنٹوں میں رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایران میں گزشتہ دو ماہ قبل داخلی انتشار اور پرتشدد مظاہروں کے بعد ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران کی ٹاپ قیادت کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد ایرانی عوام خوشی کے گیت گاتے ہوئے سڑکوں پر جشن منانے نکل آئیں گے ، مگر ایسا نہ ہوا۔ ہزاروں ایرانی سڑکوں پر نکلے ضرور ،مگر وہ اپنے روحانی ،مذہبی اور ملکی سربراہ  کی شہادت کے غم میں امریکا اور اسرائیل سے بدلہ لینے کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکلے۔ سب کا ایک ہی نعرہ تھا، "امریکا کی موت”. آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی عوام کے اندر اتحاد کی ایک نئی روح پھونک دی۔ 

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی ایران ڈٹا ہوا ہے اور قیادت کا فقدان کہیں نظر نہیں آیا۔ ایران اپنے محدود وسائل کے باوجود سامراجی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہے۔ ٹرمپ ایران میں اپنی چوائس کے مطابق ایک کٹھ پُتلی حکومت لانے میں ناکام ہو گئے ہیں، اور بظاہر ٹرمپ کی یہ خواہش مستقبل قریب میں پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ ٹرمپ کی دوسری سٹریٹیجی یہ تھی کہ ایران اور عراق میں موجود کردوں کو ایرانی حکومت کے خلاف کھڑا کیا جائے۔ ٹرمپ عراق میں کرد پارٹی کے سربراہ سے بھی رابطے کئے۔ کہا جاتا ہے کہ سی آئی اے کرد ملیشیا کو ہتھیار سپلائی کر رہی ہے تاکہ داخلی انتشار پیدا کر کے فتح حاصل کر سکے۔ ایران نے بھی کردوں کو سخت وارننگ دی ہے کہ ایسی کسی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اب جبکہ ایران ایک ایسے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر چکا ہے، جسے سخت گیر سمجھا جاتا ہے اور ان کو ہارڈ لائنر کی سپورٹ بھی حاصل ہے، ٹرمپ کا رجیم چینج کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایک ہفتے کی جنگ میں امریکا 100 ارب ڈالر خرچ  کر بیٹھا ہے۔ مگر ٹرمپ انا کے ہاتھوں مجبور ہار ماننے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر تقرری پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ اب ٹرمپ انتظامیہ ہاری ہوئی جنگ جیتنے کے لئے ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امریکا کو ایسا کرنا کتنا مہنگا پڑے گا۔ مگر دباؤ کے باعث ایک طرف ٹرمپ کہتا ہے کہ عملی طور پر ایران میں کچھ نہیں بچا جسے تباہ کیا جا سکے تو دوسری طرف فوجیں اتارنے اور نئی قیادت کو مارنے کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ 

مرحوم رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بارے جو معلومات سامنے آرہی ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی امریکا اور اسرائیل مخالف مزاحمت کو نئی راہ مل گئی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہائی اسکول کے بعد ہی IRGC کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنا شروع کر دیے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ میں متعدد کارروائیوں کے دوران فورس کی حبیب بٹالین میں خدمات سر انجام دیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو تھیوریٹک اسٹیبلشمنٹ گزشتہ کئی برسوں سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھ رہی تھی، آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی حلقوں میں انھیں ایک اسٹار کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم عوامی سطح پر جانشینی کے معاملے پر کبھی چرچا نہیں کیا گیا۔ وہ لو پروفائل میں رہے اور کبھی کسی مذہبی اور سیاسی اجتماع سے خطاب نہیں کیا۔  یہاں تک ایرانیوں کی اکثریت نے کبھی ان کی آواز تک نہیں سنی۔ تاہم مجتبیٰ خامنہ ای پاسداران انقلاب اور اپنے والد کے قریبی حلقوں میں گہرا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ  ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے درمیان اتحاد اور اتفاق کو برقرار رکھنے کے لئے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنایا گیا، تاکہ جنگی حالات میں یکجہتی برقرار رہے۔ 

مغربی میڈیا میں مجتبیٰ خامنہ ای پر ماضی میں ایرانی حکومت مخالف مظاہروں کو سختی سے دبانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، خاص طور پر 2009 کی گرین موومنٹ، متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا۔ اس کے علاؤہ مغربی میڈیا نے ان پر متعدد ممالک میں جائیدادیں اور اقتصادی سلطنت قائم کرنے کے الزامات بھی عائد کئے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت عوام کی اکثریت سمیت تمام سیکورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہے۔  سیکیورٹی فورسز نے خون کے آخری قطرے تک اپنے نئے کمانڈر انچیف کی خدمت کرنے کا عہد کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ روس نے سب سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی جو کہ امریکا اور صہیونی حکومت کے لئے ایک اہم اور واضح پیغام تھا۔ تاہم خلیجی ممالک پر ایران کی جانب سے حملوں کی مذمت کے لئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد میں روس خاموش ہی رہا۔ روس اور چین چاہتے تو ایران کے حق میں سامنے آ سکتے تھے، دونوں پاور فل ممالک ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ سیکیورٹی کونسل امریکا اور اسرائیل کے خلاف مذمتی قرارداد نہیں لے کر آئی جنہوں نے ایک خودمختار ملک پر غیر قانونی جنگ مسلط کی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ لیگ آف نیشنز کی طرح اقوام متحدہ بھی ایک فلیور ہے، یہ بین الاقوامی ادارہ اپنی ساکھ اور حیثیت کھو بیٹھا ہے۔ بظاہر تو یہ اقوام عالم کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ یہاں بھی طاقتور کا راج ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کے قیام پر غور کرے۔

مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے سائے میں دہائیوں تک ان کے ساتھ کام کرتے رہے، بلکہ وہ اپنے والد کے پرنسپل ایڈوائزر تھے اور پردے کے پیچھے رہ کر اپنی خدمات سر انجام دیں۔ بیرونی خطرات سے کیسے نمٹنا ہے اس بارے وہ بخوبی واقف ہیں۔ مجتبیٰ خامنائی کیلئے یہ جنگ ناصرف ایران کے بقا کیلئے ہے بلکہ اسرائیل اور اس کے سرپرست اعلیٰ امریکا سے اپنے والد آیت اللہ خامنہ ای ، اپنی والدہ ، بیوی اور بچے کی شہادت کا بدلہ کی بھی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے آڈیو بیان میں شہداء کا بدلہ لینے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران مزاحمت کا استعارہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے لئے ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جو جوہری ہتھیار بنانے کے خلاف تھے اور انھوں نے اس بارے  فتویٰ دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو حرام قرار دیا تھا، تاہم اس وقت  جن چند سکالرز نے آیت اللہ خامنہ ای کے اس فتویٰ پر مزاحمت کی تھی ان میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای جنہیں ہارڈ لائنر سمجھا جاتا ہے، کا بطور سپریم لیڈر منتخب ہونا اس سوچ کے حامی لوگوں کی فتح ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ مجتبیٰ خامنائی نے آتے ہی تمام بین الاقوامی معاہدوں سے نکل جانے کا اعلان کیا ہے جو ایران نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کئے تھے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں اہم تبدیلی کرنے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کو منظر سے ہٹا کر سنگین غلطی کی ہے۔ اب  اس کا سامنا ایک ایسی سخت گیر قیادت سے ہے جو جوہری ہتھیاروں کو ایران کی بقاء کے لئے لازم تصور کرتی ہے۔ 

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
خود کش بٹالین سے خود کش ڈرونز تک

خود کش بٹالین سے خود کش ڈرونز تک

امریکی فورسز کے ساتھ خدمات انجام دینے والے افغان شخص محمد نذیر کی ICE حراست میں چند گھنٹوں کے اندرپراسرار موت

امریکی فورسز کے ساتھ خدمات انجام دینے والے افغان شخص محمد نذیر کی ICE حراست میں چند گھنٹوں کے اندرپراسرار موت

آسٹریلیا میں پناہ ملنے کے باوجود ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی 6 کھلاڑیوں کی ایران واپسی ،فیصلہ تبدیل کرنے کی وجہ کیا بنی؟

آسٹریلیا میں پناہ ملنے کے باوجود ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی 6 کھلاڑیوں کی ایران واپسی ،فیصلہ تبدیل کرنے کی وجہ کیا بنی؟

ٹیکنالوجی سیکٹر کو بڑا جھٹکا ، ایچ ون بی ویزے کی فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر

امریکی میڈیا ٹرمپ کے نشانے پر 

ٹیکنالوجی سیکٹر کو بڑا جھٹکا ، ایچ ون بی ویزے کی فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر

امریکہ زوال کی طرف گامزن؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In