سمیرا سلیم کا بلاگ
ریڈ لائن تو افغانستان ٹی ٹی پی کو مکمل حمایت دے کر پہلے ہی کراس کر چکا تھا، مگر بات اب خودکش بٹالین سے خود کش ڈرونز تک پہنچ گئی ہے ۔ افغان حکومت نے اپنی خود کش بٹالین کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کے بعد خودکش ڈرونز کا سہارا لیا ہے، یہ سب ان کو کافی مہنگا پڑنے والا ہے۔ پاک فوج نے پہلے ہی ایک کارروائی میں قندھار ایئر فیلڈ آئل اسٹوریج سائٹس تباہ کر دی گئیں ہیں ۔افغان حکومت کے ڈرونز حملوں کے بعد پاکستان مزید سخت جوابی کارروائی کرے گا، اسی خوف سے افغان رجیم کے کرتا دھرتا کابل سے فرار ہو کر پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ڈرون حملوں کے جواب میں پاکستان نے قندھار میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کر کے کچھ اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن پاکستان جیسے مضبوط عسکری طاقت رکھنے والے ملک کو ڈرونز آسلام آباد کی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دینے چاہیے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ جو ڈرونز پاکستان کے دارالحکومت کی جانب فائر کیے گئے وہ کچھ زیادہ sophisticated نہیں تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ پھر بھی بنیادی ساختہ ڈرونز اپنے ہدف کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ افغان حکومت تو پہلے ہی دھمکی دے چکی تھی کہ وہ اپنی خود کش بٹالین یا دیگر طریقوں سے اسلام آباد اور دیگر شہروں میں حملے کریں گے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو الرٹ رہنا چاہیے تھا ۔آسلام آباد کے 109 میں سے 74 انٹری پوائنٹس کو بلاک کرنے سے دارالحکومت کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا سوائے اس کے کہ اس فضول ایکسرسائز سے شہری لمبی قطاروں میں کھڑے اذیت سے دو چار ہونگے۔ ہمیں اپنے ائیر ڈیفنس سسٹم اور انٹیلیجنس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
طالبان حکومت وہی ہے جو ٹی ٹی پی بارے کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہتی، قطر میں مذاکرات ہوئے اور بار بار ان کو خبردار کیا گیا کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،افغان طالبان نے پاکستان کی ایک نہ سنی۔ ایک کمزور ملک ہوتے ہوئے افغان رجیم نے بھائی چارے کے ساتھ رہنے، اپنی زمین کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کی بجائے امریکی اسلحہ ٹی ٹی پی کے سپرد کر دیا، کہ اب اس اسلحے سے پاکستان کو، خاص طور پر خیبرپختونخوا کو فتح کرو۔ امریکی انخلاء کے بعد کابل پر قبضہ کر کے افغان طالبان کی خود اعتمادی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ طالبان اپنے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی بجائے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر ملیشیا گروپوں کی حمایت کرنے میں لگے رہے۔ ملک میں خوفناک دہشتگردی کی لہر نے پاکستان کے فیصلہ سازوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی آپشن نہ چھوڑا کہ وہ افغان سر زمین پر دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں۔
سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بھی ٹھان لیا ہے کہ جب تک تمام اہداف پورے نہیں ہوتے آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔ اس سخت موقف پر ہمارا دوست ملک چین کافی پریشان ہے۔ چین کے اسٹریٹجک مفادات اس خطے کے استحکام سے جڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے متحرک ہو گیا ہے۔ اسی ضمن میں چین کے خصوصی نمائندہ افغانستان یو شیاؤ یونگ کابل کے دورے پر تھے۔ افغانستان پر بھی زور ڈالا جا رہا ہے کہ معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ قطر ، ترکی، سعودی عرب کے بعد اب چین کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح افغانستان اور پاکستان کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لا سکے۔ چینی مندوب کا ایک قدم کابل میں تو دوسرا آسلام آباد میں ہے مگر اطلاعات کے مطابق ابھی بات بن نہیں رہی۔ اس معاملے پر پاکستان نے چین سے معذرت کر لی ہے۔ پاکستان نے چین پر واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت سرحد پار سے دہشتگرد گروہوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے لہٰذا پاکستان کے پاس فوجی کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اوپر سے جو بلنڈر افغان حکومت نے ڈرونز بھیج کر کیا ہے، اب اس کے بعد تو پاکستان کو جواز مل گیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول تک یہ آپریشن جاری رکھے۔
اس وقت یہ پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے ۔ ایک طرف ٹرمپ جب سے برسرِ اقتدار آیا ہے اس نے اپنی جارحانہ پالیسی سے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی کا دوست نہیں۔ نیتن یاہو وہ واحد شخصیت ہے جس کی دوستی اور صہیونی لابی نے ٹرمپ کو اسرائیل کی جنگ لڑنے پر قائل کیا۔اس دوستی میں ٹرمپ اپنے جنرلز کی نصیحت بھی پس پشت ڈال دی۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ٹرمپ کو خدشات بارے آگاہ کیا تھا کہ ایران سے جنگ مہنگی پڑے گی۔ لیکن ٹرمپ نے ان کی بھی نہ سنی اور اسرائیل کی پراکسی بن گیا۔ دوسری طرف افغان رجیم ٹی ٹی پی کی پراکسی بن کر سامنے آئی ہے، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پاکستان کے تمام تر احسانات کو قربان کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکا اپنی جنگ لڑ رہا ہے اور نہ ہی افغانستان۔
مسلم امہ کبھی متحد نہ رہی اور نہ ہی ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی، بلکہ ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیرونی طاقتیں بڑی آسانی سے اپنے مفادات کے لئے مسلم ممالک کو استعمال کرتی رہیں۔ان طاقتوں نے جب چاہا اپنے مفادات کے لئے مسلم ممالک پر جنگوں کو مسلط کیا۔ قرآن پاک کی سورت المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مسلمانوں کو تنبیہ کر دی تھی کہ” اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں”۔ اب یہود ونصاریٰ کا مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ ہے وہ ڈھکا چھپا نہیں. عرب ممالک نے اپنے اقتدار و علاقائی سلامتی اور تحفظ کیلئے امریکا بہادر پر تکیہ کیا۔ اپنی سرزمین پر اسے قائم کرنے کی اجازت دی ۔ اربوں ڈالرز کے ہتھیار اور ڈیفنس سسٹم امریکا سے الگ خریدا۔ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں میں یہ راز آشکار ہوا کہ یہ سب اڈے تو درحقیقت اسرائیل کے تحفظ کیلئے تھے۔ امریکی تو عرب ممالک میں قائم اپنے ملٹری اڈوں کو ایرانی میزائلوں سے نہ بچا سکے تو انھوں نے عربوں کا کیا تحفظ کرنا تھا۔ ہم نے بھی ماضی میں امریکا کی جنگ لڑ کر اپنا بڑا نقصان کیا۔ عمران خان کا جنرل مشرف دور میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی امریکی جنگ پر پہلے دن سے ہی یہی موقف تھا کہ یہ جنگ ہماری نہیں۔ ہمیں اس سے دور رہنا چاہیئے ۔اب تو وزیر دفاع خواجہ آصف بھی بارہا کہہ چکے کہ ہم نے افغانستان میں امریکا کی جنگ غلط لڑی۔ افغانستان میں سپر پاورز کی جنگ سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا یہ ڈرٹی گیم امریکا کے لئے کھیلا گیا۔ عجیب بات ہے کہ ہم کھلے عام یہ اقرار بھی کرتے ہیں مگر ماضی سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار بھی نہیں۔ امریکا کی جنگ نے پاکستان میں دہشتگردی کی وہ آگ لگائی ہے جو بجھ نہیں رہی، رہی سہی کسر افغانستان میں امریکا کے چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں نے پوری کر دی جس سے ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیم پاکستان کی امن اور سلامتی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہو کر نیٹو کی طرز پر ایک ایسا الائنس بنائیں جو انھیں طاقتوروں سے تحفظ فراہم کرے ورنہ یہود ونصاریٰ کی دوستی مسلمانوں کے لیے مسلسل خسارے کا باعث بنی رہے گی۔




