سمیرا سلیم کا بلاگ
مشرق وسطی میں کئی دہائیوں سے اس اندیشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے،یہ اندیشہ اب حقیقت میں بدل گیا ہے۔ بالآخر اسرائیل کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے امریکا نے ایران پر دوبارہ جنگ مسلط کر دی ہے۔ مشترکہ حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کو شہید کر کے اپنا اہم ٹارگٹ حاصل کر لیا ہے۔ سپریم لیڈر کی شہادت مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔ مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ سی آئی اے کو رہبر معظم کی اتنی ایگزیکٹ لوکیشن کیسے معلوم ہوئی، سی آئی اے کا خامنائی کے روزمرہ معمولات اور خفیہ ٹھکانوں تک رسائی ہونا ایرانی انٹیلیجنس کی واضح ناکامی ہے۔ تہران میں واقع قیادت کمپاؤنڈ میں ہونے والے خفیہ اجلاس کی اطلاع ملتے ہی اسرائیل اور امریکا نے مزید انتظار کئے بغیر بڑی آسانی سے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اور کئی اعلیٰ عہدیداران کو راستے سے ہٹا دیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سیٹلائٹ سے سپریم لیڈر کی لوکیشن کا سو فیصد درست اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ جس طرح سے امریکا اور اسرائیل نے دن کی روشنی میں سپریم لیڈر کے گھر پر 30 میزائل داغے ہیں اس سے یہ inside job معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے تو کیا جا سکتا ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔
ایک ایسے وقت میں جب امریکا کسی بھی وقت حملہ کرسکتا تھا ، خامنہ ای کو ان کے دفتر و رہائش گاہ پر رکھنا بہت بڑا سیکیورٹی لیپس تھا۔ان کو کسی خفیہ ٹھکانے یا بنکر میں منتقل کیوں نہیں کیا گیا یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ تاہم ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنا گھر یا دفتر نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، بلکہ یہ بات بھی سامنے آئی رہی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آیت اللہ خامنائی کو ذاتی طور پر فون کر کے روس منتقل ہونی کی دعوت دی تھی، جسے قبول نہیں کیا گیا۔ خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف امریکا کے خلاف ایران کو متحد کر دیا ہے بلکہ مزاحمت میں نئی روح پھونک دی ہے۔
امریکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران اور اس کی اعلیٰ قیادت پر دوبارہ حملے کی پلاننگ گزشتہ برس دسمبر سے ہو رہی تھی، جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دسمبر کے آخر میں امریکی صدر کی Mar-a-Lago رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے فالو اپ کے بارے میں بات چیت کی اور ایران پر دوبارہ حملے پر زور دیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی اپنی تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا کہ امریکی انٹیلیجنس نے اپنی حکومت کیلئے جو جائزہ رپورٹ تیار کی اس میں واضح طور پر بتایا کہ ایران کی افواج اگلی دہائی تک امریکی سرزمین کیلئے خطرہ نہیں۔ ان رپورٹس کے باوجود 90 ملین سے زائد آبادی والے ملک پر حملہ کر کے ایران کی مرکزی قیادت کو شہید کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ پینٹاگون نے ٹرمپ کی امیدوں کے برعکس کانگریس کو بتایا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ایران پہلے امریکا کی ائیر بیس پر حملہ کرنے والا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے بھی یہی رپورٹ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ٹرمپ پر دباؤ برقرار رکھا تاکہ امریکا اسرائیل کی جنگ لڑے۔ اب مارکو روبیو بھی میدان میں آ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نے امریکہ کو حملہ کرنے کے لئے influence کیا۔
دیکھا جائے تو امریکا مکمل طور پر اسرائیل کی پراکسی بن چکا ہے۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی امریکی ملٹری طاقت کے گرد گھوم رہی ہے۔ اب تک ٹرمپ ایران، صومالیہ ، نائجیریا ، عراق ، شام اور وینزویلا کے صدر کو اٹھانے کے لئے ملٹری آپریشن کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے خودمختار ریاستوں کے سربراہان کا قتل کر کے ایک نئی روایات ڈالی ہے جو بہت خطرناک ہے۔ مگر ایک ہم ہیں کہ ابھی بھی ایسے سر پھرے انسانیت کے دشمن کو نوبل انعام سے نوازا نا چاہتے ہیں۔ اگر ابھی بھی موقع ملا تو ہم ٹرمپ کو نوبل انعام کے لئے ضرور منتخب کریں گے۔ چاہیے ٹرمپ سپریم لیڈر کو قتل کرے یا اسکول کی 108 بچیوں کو۔
امریکہ ،برطانیہ نے 2003 میں عراق پر جوہری اور کیمیائی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر حملہ کیا جو بعد ازاں غلط ثابت ہوا جس کا اعتراف اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹومی بلیئر نے خود کیا تھا۔اس ایک فیصلے نے بے گناہ ہزاروں عراقی عوام کی جانیں لیں۔ امریکہ صدام حسین کو پھانسی دلوانے میں تو کامیاب ہوگیا مگر اس کے بعد سے عراق سنبھل نہ سکا اور آج تک عدم استحکام کا شکار ہے۔امریکا نے اسرائیل کی خطے میں چودھراہٹ کو برقرار رکھنے کے لئے تاریخی بلنڈر مارا ہے، یہ جنگ اب ٹرمپ کے ہاتھوں میں نہیں رہی۔
اب جو لوگ حیران و پریشان ہو رہے تھے کہ ایران سعودی عرب ، بحرین، یو اے ای یا دیگر خلیجی ممالک پر حملے کیوں کر رہا ہے ان کو سمجھ آ جانی چاہیے، کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران نے انتقام لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب ان تمام خلیجی ممالک کے ہوٹلز ، ائیرپورٹس، بندرگاہوں، کاروباری مراکز اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے کرے گا جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا یے، اور وہ علاقائی انرجی انفراسٹرکچر پر حملے کر رہا ہے ، جس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو گا بلکہ خطے میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
امریکا کے دباؤ پر مودی نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے روس سے تیل کی خریداری بہت کم کر دی تھی۔ اب آبنائے ہرمز کی بندش سے بھارت کو بھی شدید انرجی کرائسس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جہاں پاکستان 90 فیصد تیل اور ایل این جی اسی راستے سے درآمد کرتا ہے وہیں بھارت بھی 50 فیصد تیل اور 60 فیصد ایل این جی آبنائے ہرمز کے راستے سے درآمد کرتا ہے۔ یہاں تک کے بھارت ایل پی جی بھی 80 سے 85 فیصد خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور وہ بھی آبنائے ہرمز کے راستے بھارت تک پہنچتی ہے۔ ہندوستان کے پاس ایل پی جی کے کوئی اسٹریٹجک ذخائر نہیں ہیں، یعنی کوئی بھی رکاوٹ فوری طور پر بھارتی گھرانوں کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ اہم گزرگاہ کی بندش خطے کے لئے تباہی کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ امریکا کی لگائی گئی یہ آگ دیکھیں کہاں کہاں تک پھیلتی ہے۔
ایران کی بظاہر حکمت عملی یہ ہے کہ خلیجی ممالک کو معاشی طور پر تکلیف دی جائے تاکہ جنگ کی حدت یہ تمام ممالک بھی محسوس کریں، اور ٹرمپ پر جنگ بندی کے لئے دباؤ ڈالیں۔ دوسری طرف سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ کی شہادت کے بعد امریکہ و اسرائیل یہ توقع رکھے ہوئے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ جائے گی اور حکومت تبدیلی کا عمل مکمل ہو جائے گا، مگر ٹرمپ کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے، اسرائیل اور امریکا بنیادی ہدف حاصل نہیں کر پائے۔ بلکہ ایران دشمن کے خلاف مزید متحد ہو گیا ہے۔ ایران نے جس طرح سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت پیغام دیا ہے ، اس سے لگتا ہے کہ ایران ایک لمبی جنگ لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔جنگ اگر طوالت پکڑ گئی تو یہ ہم جیسے بہت سے ممالک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گی۔





