سمیرا سلیم کا بلاگ
ایران پر امریکہ و اسرائیل کی غیر قانونی جنگ کا پہلا براہ راست دھچکا مہنگائی کی ماری پاکستانی عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں یک مشت 55 روپے کے بڑے اضافے سے لگا ہے۔ ابھی یکم مارچ کو ہی حکومت نے پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی تھیں کہ امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کا جواز بنا کر عوام پر ایک اور پٹرول بم گرا دیا گیا ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قوم کو تسلیاں دیتے رہے کہ ملک میں 28 دن کا پٹرول موجود ہے، تو دوسری طرف عوام ساتھ دھوکہ دہی کر کے اچانک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت تو گھات لگائے بیٹھی ہوتی ہے کب انھیں موقع ملے اور یہ عوام کا خون نچوڑیں۔ عوام پہلے ہی فی لیٹر پٹرول پر 82 روپے پیٹرولیم لیوی کے نام پر ٹیکس ادا کر رہی تھی۔ بجائے مشکل حالات میں عوام پر ٹیکس کی شرح کو کم کر کے ریلیف دیا جاتا ، حکومت نے لگے ہاتھوں پٹرولیم لیوی 82 روپے سے بڑھا کر 105 روپے کر دی تاکہ ریونیو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ حکومت نے جو تیل عالمی منڈی میں ایک ماہ قبل 60 ڈالر فی بیرل پر خریدا تھا، اسے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کر کے عوام کیلئے 55 روپے فی لیٹر قیمت مزید بڑھا دی۔ کوئی عوام کے درد میں گھلی اس حکومت سے پوچھے کہ کیا آبنائے ہرمز کی بندش سے صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو متاثر ہوا ہے؟ خطے کے دیگر ممالک کی حکومتوں نے تو یہ ظلم اپنی عوام پر نہیں کیا۔ ہم نے اس جنگ کے نام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 21 فیصد بڑھا دیں۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت جس کے ساتھ ہم اپنا موازنہ کرتے ہیں ، نے ابھی تک پٹرولیم مصنوعات میں کوئی اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ افغانستان نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں ۔ بنگلہ دیش نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 فیصد، نیپال نے 2.15فیصد، سری لنکا نے 1.37 فیصد اور ترکی نے 4.8 فیصد اضافہ کیا یے۔ ایران جسے نا صرف امریکی و اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے بلکہ اس کی آئل ریفائنریز اور انفرااسٹرکچر کو دشمن میزائلوں سے اڑا رہا ہے، اس نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں صرف 6.6 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح سے سعودی عرب نے 6.4 فیصد ، یو اے ای 4.6فیصد، چین نے 5 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اگر یورپ اور امریکہ کی بات کریں تو برطانیہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9.3 فیصد اضافہ کیا ہے، جبکہ آج ہی برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے یہ انکشاف کیا ہے کہ یوکے کے پاس صرف ڈیڑھ دن کی گیس باقی ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک میں جرمنی نے پیٹرولیم مصنوعات میں 3.8 فیصد اضافہ کیا یے۔ مشرق وسطیٰ کو آگ میں دھکیلنے والے امریکا میں پٹرول کی قیمتیں 5.8 فیصد بڑھی ہے۔ پاکستان جہاں غربت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اس کے حکمرانوں نے پٹرولیم مصنوعات میں 21 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
اگر عالمی منڈی میں ہونے والے ان سات دنوں کےاضافے کو مدنظر رکھا جائے تب بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والے اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ عالمی منڈی میں ابھی تیل کی فی بیرل قیمت 92 ڈالر ہے۔ لیکن وہی بات کہ موقع چاہئے تھا کہ مہنگائی کی چکی میں پسی عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تو اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے کئے تھے، اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی موصوف نے عوام کے کپڑے تو کیا ان کی کھال بھی اتارنا شروع کر دی ہے۔
مستقبل میں پٹرولیم کی قیمتیں کم ہو بھی گئی تو بیڈ گورننس کی وجہ سے اس کا اثر مہنگائی میں کمی کا سبب نہیں بنے گا۔ عوام پر پٹرول بم گرنے کا سلسلہ اب ہفتہ وار شروع ہو گیا ہے۔ یہ بھی اطلاعات آ رہی ہیں کہ اگلے ہفتے پٹرول 40 روپے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا جائے گا۔ لگتا ہے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد نے یہ ٹھان لی ہے کہ انرجی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے خلل کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے گا۔ حکومت اگر عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہوتی تو پٹرولیم لیوی میں اضافے کے بجائے اس میں کچھ کمی کی جاسکتی تھی،اس سے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اس حد تک ظالمانہ اضافہ کرنے کی نوبت نہ آتی۔مگر حکومت نے ایف بی آر کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے آسان راستہ چنا اور پٹرولیم لیوی بڑھا کر 105 روپے کر دی۔
گزشتہ برس آئی ایم ایف نے حکومت کو کہا تھا کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تقریباً 400 ارب روپے مختص کرے۔ آج ملک کو ایسی ہی صورتحال درپیش ہے مگر حکومت نے ان پیسوں کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کرنے کے بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا۔ ایسی عوام جو غریت اور بے روزگاری کی بلند ترین سطح سے نبردآزما ہو رہی تھی، اب جنگ کی قیمت بھی ادا کرے گی۔ حکمران، وزراء ، بیوروکریٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے منصفوں کو گاڑیاں،ماہانہ کئی سو لیٹر مفت پٹرول،بجلی اور دیگر مراعات ملتی ییں ، اس طرف حکمرانوں کا دھیان نہیں ۔قربانی کا بکرا بننا صرف عام شہریوں کی قسمت میں لکھا ہے۔
معاشی حالات کا رونا رونے والے ان حکمرانوں کا طرز حکمرانی دیکھیں کہ ایف بی آر کے ان بابوز کو اربوں روپے کی گاڑیاں خریدنے کی اجازت دے دی جن سے ٹیکس اکھٹا کرنے کا ہدف بھی پورا نہیں ہو پاتا۔غالباً اب گاڑیاں خریدنے کا یہ عمل جاری ہے۔ بات صرف وفاق تک ہی محدود نہیں رہی، پنجاب حکومت نے بھی حال ہی میں اپنے اعلیٰ صوبائی بیوروکریٹس اور وزراء کے لیے 1 ارب 14 کروڑ مالیت کی 108 گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر ہے جب سی ایم صاحبہ گلف سٹریم لگثرری G500 جیٹ کے بغیر سفر نہیں کر سکتیں تو وزراء کا اتنا تو حق بنتا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں پر تھوڑی سی عیاشی وہ بھی کر لیں۔ بات صرف 11 ارب روپے کے جہاز کی خریداری پر ہی نہیں رکی بلکہ دو گورے پائلٹ بھی بھاری بھرکم تنخواہوں، مراعات اور فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھے جانے کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ ان غیر ملکی پائلٹس کا چار ماہ کا خرچ 18، کروڑ روپے بتایا جا رہا ہے۔ ووٹ کو عزت دو کا جنازہ نکال کر جس طریقے یہ اقتدار میں آئے ہیں اب انھیں عوامی غم و غصے کی بھی پرواہ نہیں رہی ۔ انھیں فکر ووٹ کی گنتی کرنے والی طاقتوں کی ہے، بس وہ راضی رہیں باقی ستے خیراں ہے۔





