تحریر : رافعہ زاہد
امریکی قدامت پسند مبصر اور سابق Fox News میزبان ٹکر کارلسن نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ قطر اور سعودی عرب میں مبینہ موساد ایجنٹس کو بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ رات قطر اور سعودی عرب میں حکام نے مبینہ طور پر موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا جو ان ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اب یہ عجیب بات ہے، اس کی کوئی منطقی وضاحت سمجھ نہیں آتی۔ اسرائیلی آخر کیوں دو خلیجی ممالک میں بم دھماکے کریں گے، جبکہ انہی ممالک پر ایران بھی حملے کر رہا ہے؟ کیا وہ ایک ہی فریق میں نہیں ہیں؟ نہیں۔۔ سابق فاکس نیوز میزبان نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ ساتھ قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، عمان اور کویت کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے، اور وہ اس میں کامیاب ہو چکا ہے۔
سابق امریکی جنرل ویسلے کلارک نے یہ بیان 2 مارچ 2007 کو دیا تھا، جس میں انہوں نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد تقریباً 20 ستمبر کو پینٹاگون کے دورے کے دوران سنا کہ ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت اگلے پانچ برسوں میں جنگ کے ذریعے سات مسلم ممالک، جن میں عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور آخر میں ایران کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر آج 2026 میں پچیس سالہ تناظر میں دیکھا جائے تو ان میں سے چھ ممالک کسی نہ کسی شکل میں جنگ، مداخلت یا عدم استحکام کا شکار ہو چکے ہیں، اور اب ایران کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ جنرل کلارک کے بقول انہیں اس منصوبے پر شدید حیرت اور صدمہ ہوا تھا کہ 9/11 کے محض چند دن بعد ایسی حکمتِ عملی تیار کی گئی۔
سوال یہ بھی ہے کہ مستقبل قریب میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ مذاکرات کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سخت پالیسی کی وجہ سے خود سیاسی نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث ایران پر اب ان کا اعتماد باقی نہیں رہا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ نے پہلے بھی دو بار دھوکہ دیا اور پچھلی مذاکراتی کوششیں ناکام رہیں، جبکہ اس بار مذاکرات مکمل ہو چکے تھے اور معاہدہ تیار تھا۔
ایسے میں اگر دوبارہ مذاکرات ہوں تو انہیں قابلِ عمل بنانے کے لیے بین الاقوامی گارنٹرز کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ حالات میں چار سے پانچ ممالک اور شخصیات یہ کردار ادا کر سکتے ہیں، جن میں ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، چین، روس اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان شامل ہو سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں عمان کا بھی اعتماد ٹوٹ چکا ہے، کیونکہ گزشتہ دو سال کے دوران بطور گارنٹر دھوکہ دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ بھی مذاکرات کے عمل میں خود کو کمزور اور محتاط سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے یہ ممالک اور رہنما ثالث کا کردار ادا کر کے مذاکرات کے عمل کو دوبارہ قابلِ عمل بنا سکتے ہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی گزشتہ روز بیان دیا کہ ٹرمپ کسی ممکنہ ڈیل کے خواہاں تھے جو تیار بھی تھی، لیکن نیتن یاہو نے اسے ہائی جیک کر لیا، جس سے ان کی کریڈیبیلٹی صفر ہو گئی۔ ٹرمپ کا قائم کردہ بورڈ آف پیس بھی ایران کے خلاف کارروائی میں دفن ہو چکا ہے، اور ٹرمپ کا سیاسی زوال شروع ہو چکا ہے۔
اس وقت سب سے مضبوط گارنٹر چین ہو سکتا ہے، کیونکہ چین کے پاس فوجی اور اقتصادی قوتیں دونوں موجود ہیں اور وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کروانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس ماہ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کر رہے ہیں، اور موجودہ حالات میں انہیں چین کی حمایت کی شدید ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ پہلے ہی چین کے ساتھ ٹیرف کی جنگ میں ہار چکے ہیں، جس کے باعث ان کے لیے چین کی حمایت حاصل کرنا اس وقت انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے بعض خطوں میں تباہی دیکھنے میں آ چکی ہے۔ چین مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ تقریباً 5 ملین بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے، زیادہ تر آبِ ہرمز کے راستے، اس لیے وہ مذاکرات میں بطور گارنٹر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر سکتی ہیں، جو عالمی منڈی میں رسد کی ممکنہ رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے رسک پریمیم کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے باعث دنیا نئے تیل یعنی کریٹیکل منرلز کی طرف تیزی سے جا رہی ہے۔
اکیسویں صدی میں کریٹیکل منرلز وہی اہمیت رکھتے ہیں جو بیسویں صدی میں تیل کو حاصل تھی۔ لیتھیم، کوبالٹ اور ریئر ارتھ ایلیمنٹس جدید ٹیکنالوجی، دفاعی سازوسامان اور سبز توانائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چین نے اپنی دور اندیش حکمتِ عملی کے ذریعے ان کی پروسیسنگ اور ریفائننگ کی تقریباً 90 فیصد صلاحیت پر قبضہ کر رکھا ہے، جس سے وہ عالمی سپلائی چین میں برتری رکھتا ہے اور دنیا کی ہائی ٹیک صنعتیں اس پر منحصر ہیں۔
آج کی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ جو طاقت اور اثر کبھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس تھا، وہ اب چین کے ہاتھ میں زیادہ مضبوط اور مؤثر انداز میں نظر آ رہا ہے۔ توانائی کی سپلائی چین، عالمی منڈی میں رسد پر اثر اور مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے کردار کے ساتھ چین کے پاس وہ تمام عوامل موجود ہیں جو ٹرمپ کے لیے کبھی کارڈ کی شکل میں تھے۔ عالمی سیاست میں ٹرمپ کا اثر و رسوخ محدود ہوتا جا رہا ہے، جبکہ چین نہ صرف مذاکرات کو شکل دے سکتا ہے بلکہ اپنی اقتصادی اور فوجی طاقت کے ذریعے اس کارڈ کو سب سے مضبوط مؤقف میں استعمال کر رہا ہے۔





