تحریر : رافعہ زاہد
پاکستان میں فروری کا مہینہ بہار کی آمد کا پیامبر سمجھا جاتا ہے، مگر گذشتہ چند سالوں سے یہ مہینہ معصوم عورتوں کے خون سے سرخ ہو رہا ہے۔ دو روز قبل جب لاہور کے علاقے شادمان سے 30 سالہ بختاور کے ذبح ہونے کی خبر آئی، تو ذہن چار سال پیچھے چلا گیا۔ آج سے ٹھیک چار سال پہلے، فروری ہی کے مہینے میں، اسلام آباد کی ایک عدالت نے ملک کے سب سے سفاک قاتل ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی۔ لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ وہ قاتل آج بھی زندہ ہے، اور اس کے نتیجے میں معاشرے کو "اسماعیل” (بختاور کا قاتل) کی شکل میں ایک اور ظاہر جعفر مل گیا ہے۔تاریخ خود کو دہرا رہی ہے ۔
حقائق پر نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 24 فروری 2022 کو جب ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے نور مقدم کے قاتل کو سزائے موت کا حکم سنایا، تو پوری قوم نے سکون کا سانس لیا تھا۔ مگر چار سال گزر جانے کے بعد، فروری 2026 میں ہم وہیں کھڑے ہیں۔ نور مقدم کو ذبح کیا گیا تھا، اور اب بختاور کو بھی اسی بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کیس میں قاتل "دوست” تھا اور دوسرے میں "محافظ شوہر”۔
بختاور کا قتل محض ایک اور خبر نہیں بلکہ اس طویل فہرست میں ایک نئے نام کا اضافہ ہے جس کا لہو ہمارے نظامِ عدل کے دامن پر گرا ہے۔ یہ فہرست صرف نور مقدم اور بختاور تک محدود نہیں، بلکہ اس میں سارہ انعام، ثنا یوسف (ٹک ٹاکر)، مائرہ ذوالفقار، قرۃ العین، سدرہ بی بی اور معصوم اقراء جیسے بے شمار نام شامل ہیں۔ یہ تمام بیٹیاں اس لیے ذبح ہوئیں کیونکہ ریاست نےظاہر جعفر جیسے درندوں کو عبرت کا نشان بنانے کے بجائے چار سال تک عدالتی اپیلوں اور مصلحتوں کی پناہ گاہ فراہم کی۔جب تک قاتلوں کو ان کے جرائم کی فی الفور سزا نہیں ملے گی، تب تک یہ خونی فروری ختم نہیں ہوگا۔ بختاور کا لہو آج ہم سے یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا اس کا قاتل اسماعیل بھی اگلے چار سال تک ظاہر جعفر کی طرح نظام کا مہمان بنا رہے گا یا اب کی بار انصاف اپنی پوری قوت کے ساتھ نافذ ہوگا؟
نور مقدم کیس کے فیصلے میں شامل بعض اضافی ریمارکس، جیسے کہ جسٹس علی باقر نجفی کا وہ نوٹ جس میں اس واقعے کو "سماجی بے راہ روی” اور "اخلاقی زوال” سے جوڑا گیا، قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کے ماہرین کے لیے بحث کا باعث بنے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر ابھرا کہ ایسی آبزرویشنز سے مجرم کی درندگی کے بجائے مقتولہ کے طرزِ زندگی پر توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
اگر انصاف فراہم کرنے والے ادارے جرم کی وجوہات مقتولہ کے افعال میں تلاش کرنا شروع کر دیں، تو اس سے وہ مائنڈ سیٹ مضبوط ہوتا ہے جو عورت پر تشدد کو کسی نہ کسی "جواز” کے تحت درست قرار دیتا ہے۔ بختاور کا قتل محض ایک واردات نہیں بلکہ اس سرد مہری کا نتیجہ ہے جو ہمارے نظامِ انصاف کا حصہ بن چکی ہے۔
مئی 2025 میں سپریم کورٹ سے سزائے موت برقرار رہنے کے باوجود، قانونی موشگافیوں اورریویو پٹیشنز نے قاتل کو اب تک تختہ دار سے بچا رکھا ہے۔ بختاور کے شوہر اسماعیل نے اپنی بیوی کو قتل کر کے اسے ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ یہ وہی کور اپ کی کوشش ہے جو ظاہر جعفر کے خاندان نے بھی کی تھی۔
جب مجرم یہ دیکھتا ہے کہ ریاست سزائے موت کے اعلان کے چار سال بعد بھی قاتل کو مہمان بنا کر جیل میں رکھتی ہے، تو اس کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ بھی قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بچ نکلے گا۔
پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بختاور کیس میں رپورٹ تو طلب کر لی ہے، مگر کیا یہ صرف ایک اور فائل بنے گی؟ پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد کے راستے میں بین الاقوامی دباؤ اور پیچیدہ عدالتی مراحل حائل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان مصلحتوں کی قیمت بختاور جیسی ماؤں اور بیٹیوں کے خون سے چکائی جائے گی؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں "فیمیسائیڈ” (عورتوں کا قتل) کا یہ سلسلہ رکے، تو ہمیں عدالتی فیصلوں کو صرف کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ انصاف کی کرسی پر بیٹھے منصفوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ "Justice delayed is Justice denied”
آج بختاور کا لہو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اگر چار سال پہلے انصاف کی تلوار چل جاتی، تو آج اس کے بچے یتیم نہ ہوتے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے، تو کل فروری کے کسی اور دن، کوئی اور "نور” یا "بختاور” کسی اور درندے کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز سے اپیل ہے جو نہ صرف پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں بلکہ خود ایک بیٹی اور ماں بھی ہیں، یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مقتولہ بیٹیوں کے مقدمات میں ذاتی دلچسپی لیں۔اگر آپ کے دورِ اقتدار میں بھی بختاور جیسی بیٹیاں اپنے ہی گھروں میں ذبح ہوتی رہیں اور قاتل برسوں جیلوں میںمہمان بنے رہے، تو تاریخ آپ کے اس منصب کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔





