تحریر : سمیرا سلیم
قیام پاکستان سے لیکر اب تک نصف سے زائد عرصہ ملک پر عسکری قیادت نے حکومت کی مگر قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی ، داخلہ و خارجہ سیکیورٹی اور معیشت کے محاذ پر سب کے نتائج تقریباً ایک جیسے ہی رہے۔ سویلین حکمرانی کے ادوار میں بھی اقتدار کا پہیہ عام طور پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہی گھومتا رہا۔ بنیادی مسائل پر کسی نے توجہ نہ دی محض ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر کام جاری رہا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، جس کے خوفناک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وطن عزیز ایک بار پھر دہشتگردی کی زد میں ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے جوان اور سویلینز کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اب بات صرف ضم شدہ قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہی،بلوچستان ، خیبرپختونخوا، پنجاب اور دارالحکومت اسلام آباد تک ان کی دسترس میں ہیں.دہشتگردوں کا نیٹ ورک ملک بھر میں خوف پھیلانے میں بظاہر کامیاب نظر آتا ہے۔ دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ظہور قبائلی علاقوں خاص طور پر فاٹا ریجن میں 2002 سے شروع ہونے والے ملٹری آپریشنز کے بعد ہوا ۔ آج یہ ملکی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ملک میں ہونے والے ہر دہشت گرد حملے کے بعد تاویل دی جاتی تھی کہ پاک افغان سرحد بہت طویل ہے جس کے باعث سرحد پار سے آنے والے دہشتگرد گروہوں کی نقل و حرکت کو روکنا بہت مشکل ہے۔ اس کا حل اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ دیا کہ اگر پاک افغان سرحد پر باڑ لگا دی جائے تو دہشت گردوں کا ملک میں داخلہ ناممکن ہو جائے گا۔سو پاکستانی عوام کے اربوں روپے باڑ لگانے پر لگائے گئے کہ بارڈر محفوظ ہو سکے۔ 96 فیصد تک باڑ کا کام مکمل ہو چکا ہے مگر حیرت ہے کہ دہشتگرد اب بھی بھاری بھرکم گولہ بارود کے ساتھ جب اور جس جگہ چاہیں حملہ آور ہو جاتے ہیں۔آئے دن پولیس ، ایف سی اور فوج کے افسر و جوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں ضلع کچہری پر حملے کے بعد جس طرح مسجد میں خود کش حملہ کیا گیا اس نے ہماری انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارکردگی پر بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب اخبار کے فرنٹ پیج پر ٹی ٹی پی یا بی ایل اے کی خوفناک دہشتگردانہ کاروائیوں میں جوانوں کی شہادت کی خبر نہ چھپی ہو۔ گذشتہ دن کوہاٹ میں ڈی ایس پی سمیت پانچ جوانوں کو شہید کردیا گیا۔ بھکر میں بھی خود کش حملہ ہوا جس میں دو سپاہی شہید ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل ٹی ٹی پی نے خیبرپختونخوا کے بہادر خیل ایریا میں پہلے پولیس کے جوانوں پر حملہ کیا اور پھر دوسرا حملہ ان زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر کر کے ان کو ذندہ جلا دیا گیا۔ ہر ماہ پچاس پچاس دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں اور وزیراعظم کہیں نظر نہیں آ رہے۔ سب کی توجہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے پر ہے ملک میں کیا چل رہا ہے کسی کو فکر نہیں۔
2010 کے بعد سے دہشتگردی نے پاکستان میں ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ اب ان کو اکھاڑنا چیلنج بن کر رہ گیا ہے۔ کراچی ائیرپورٹ پر حملہ ہوا تو آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا، اربوں روپے کا نقصان ہوا، شمالی وزیرستان میں 10 لاکھ سے زائد لوگ دربدر ہوئے۔پھر 2014 میں اے پی ایس کا اندوہناک واقعہ ہوا جس نے سول و ملٹری قیادت کو اس عفریت سے نمٹنے کیلئے سر جوڑنے پر مجبور کیا۔ نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا جس کے بعد 2016 کے اوائل میں دعویٰ کیا گیا کہ دہشتگردوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اسی سال مارچ 2016 میں ہی دہشتگردوں نے اپنے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے لاہور پارک میں خود کش حملہ کر کے 70 لوگ شہید کر دیئے۔ چند ماہ نہیں گزرے تھے کہ اگست 2016 کوئٹہ میں بلوچستان بار کے صدر کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ میت کوئٹہ ہسپتال میں لائی گئی جہاں وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ اس وقت وکیلوں پر خودکش حملہ ہوا جس میں 75 لوگ شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ 2018 میں دہشت گردوں نے مستونگ میں الیکشن کمپین کے دوران حملہ کیا جس میں تقریباً ڈیڑھ سو لوگ شہید ہوئے۔
امریکہ نے2021 میں افغانستان سے فوجی انخلا کیا تو طالبان واپس اقتدار پر قابض ہوگئے ۔ ہم نے خوشی کے شادیانے بجائے کے ہمارے افغان طالبان بھائی دوبارہ حکومت میں آگئے ہیں۔ کابل کے سرینا ہوٹل میں چائے پیتے تصویر فخر سے جاری کی گئی گویا دنیا کو پیغام دیا گیا کہ افغانستان میں اب ہماری اپنی ہی حکومت ہے۔ آج 4 سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت میں ٹی ٹی پی نے افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنائے، خود کو مزید مضبوط اور منظم کیا، اور اس سب میں ان کو طالبان حکومت کی سپورٹ رہی۔
پاکستان میں حالیہ سالوں میں دہشتگردی میں امریکی اسلحے کا کردار بھی بہت اہم رہا ہے۔ افغانستان میں 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا امریکی اسلحہ اور فوجی سامان اب ٹی ٹی پی کے ہتھے چڑھ چکا ہے، کچھ عرصہ قبل جو امریکی رپورٹ سامنے آئی اس کے مطابق امریکا نے افغان فورسز کے لیے 96 ہزار زمینی گاڑیاں، 4 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہتھیار، 17 ہزار 400 نائٹ ویژن ڈیوائسز، اور کم از کم 162 طیارے خریدے تھے، جولائی 2021 تک افغان فضائیہ کے پاس 131 آپریشنل امریکی فراہم کردہ طیارے تھے۔ امریکا خود تو چلا گیا مگر اپنے جدید ہتھیار اور انٹیلیجنس ڈیوائسز پاکستان کی عوام ،فوج اور پولیس کے خلاف استعمال کے لئے چھوڑ گیا۔
پاکستانی قوم، حکومت اور عسکری قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ افغانستان سے سرگرم چھ ہزار جنگجووں پر مشتمل کالعدم ٹی ٹی پی بلا روک ٹوک خون کی ہولی کھیل رہی ہے اور ہم بےبس ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو ہم نے کسی اور کام میں الجھا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو بیرون ملک دوروں سے فرصت ہی نہیں۔ ان کا جہاز پاکستان کا رخ کرنے سے کیوں گھبراتا ہے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی میدان میں بھی سب اچھا نہیں ہے۔ چاول کی برآمدات 40 فیصد جبکہ مجموعی طور پر فوڈ گروپ کی برآمدات 35 فیصد کم ہو گئی ہیں۔ امپورٹ میں اضافہ ہو رہا یے، ٹیکس جینے نہیں دیتے۔قرضوں پہ ملک چل رہا ہے۔ اپنے ملک میں امن نہیں اور ہم چلے ہیں غزہ میں امن فورس کا حصہ بننے۔بیرونی سرمایہ کار ایک ایک کرکے بھاگ رہے ہیں ۔ایک ایسے ملک میں کوئی کیونکر سرمایہ کاری کرے گا جہاں انصاف ناپید ہو اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خدشات بھی ہوں۔ ادھر ہمارے حکمرانوں کے شوق ہی نرالے ہیں، چچا جہاز سے اتر نہیں رہے اور بھتیجی نے اپنی سواری کیلئے 11 ارب روپے مالیت کا نیا لگثرری جہاز خرید لیا ہے۔اب ان کی بلا سے سویلینز شہید ہوں یا فوجی ان کے شوق تو پورے ہو رہے ہیں۔





