سمیر اسلیم کا بلاگ
یہ بات فروری 2025 کی ہے جب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں محفوظ پنجاب وژن کے تحت ایک خصوصی فورس بنائی گئی۔ اس خصوصی فورس کو سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کا نام دیا گیا۔پولیس کے اس یونٹ کا بنیادی کام ڈکیتی ، ڈاکہ زنی، قتل اور ریپ جیسے سنگین نوعیت کے جرائم سے نمٹنا تھا۔ ایک سال کے دوران ان جرائم میں کمی تو نہ آ سکی البتہ جس طریقہ کار سے سی سی ڈی آپریٹ کر رہی ہے اس پر نہ صرف اندرون ملک سے آوازیں اٹھ رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی میڈیا بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن نے چند روز قبل ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ سی سی ڈی نے صرف 8 ماہ کے اندر 900 سے زائد افراد کو پولیس مقابلوں میں قتل کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل 2025 سے لیکر دسمبر 2025 تک کم از کم 670 انکائونٹرز ہوئے جس کے نتیجے میں 924 مشتبہ اموات ہوئیں۔ ان ہلاکتوں کو ہیومن رائٹس کمیشن نے ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
الجزیرہ نے اس اہم رپورٹ سے ایک دل خراش واقعے کی کہانی کچھ یوں بیان کی ہے کہ سی سی ڈی نے بہاولپور شہر کی رہائشی زبیدہ بی بی کے گھر پر چھاپا مارا، اس کے بیٹوں کو پکڑا اور جاتے ہوئے بیٹی کا جہیز ، موبائل ، نقدی ،طلائی زیورات وغیرہ سب ساتھ لے گئے۔ زبیدہ بی بی پر قیامت تب ٹوٹی جب 24 گھنٹوں کے اندر اندر مختلف پولیس مقابلوں میں ان کے گھر کے پانچ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں دو داماد اور تین بیٹے شامل تھے جن کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔ جو ملزم قتل کر دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں پر یہ دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے کہ اسے جلدی دفنایا جائے، اگر گھر والوں نے زیادہ آواز اٹھائی تو گھر کے باقی افراد کو بھی قتل کر دیا جائے گا۔ یہ ہیں سی سی ڈی کے کارنامے۔ پنجاب پولیس کا یہ وحشیانہ کلچر کوئی آج کی بات نہیں یہ 1960 سے چلا آ رہا ہے۔اس میں نیا خوفناک عنصر یہ ہے کہ اب یہ گھناؤنا کھیل منظم حکومتی پالیسی کے تحت کھیلا جا رہا ہے۔
ماضی میں بھی پنجاب حکومت پر جعلی پولیس مقابلے کے ذریعے مخالفین کو قتل کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ شہباز شریف پر وزارت اعلی کے دوران 1998 میں پانچ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا حکم دینے پر مقدمہ بھی ہوا، 2008 میں ناکافی ثبوتوں کے باعث شہباز شریف کو اینٹی ٹیررزم کورٹ نے بری کر دیا یوں ان کے دوبارہ پنجاب پر حکمرانی کے راستے میں حائل رکاوٹ صاف ہو گئی۔ فواد چوہدری نے چند برس قبل لاہور کے کرائم رپورٹر احمد فراز کی کتاب Encounter Cops کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ شہباز شریف کے بطور وزیر اعلی دور اقتدار میں سب سے زیادہ جعلی پولیس مقابلے ہوئے جس میں مبینہ طور پر تقریباً 5500 افراد کی ماورائے عدالت ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ انتہائی خطرناک ٹرینڈ پولیس نظام میں خرابی کی بڑی وجہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تفتیش اور پراسیکیوشن کے نظام کو بہتر کیا جاتا، جوڈیشل ریفارمز کئے جاتے مگر ارباب اختیار بادشاہوں کا طرز اختیار کرتے ہوئے اس اپاہج نظام انصاف کو بھی دفن کر دیا ہے۔ اب انصاف کی عظیم عمارتیں ضرور موجود ہیں مگر رکھوالے گہری نیند میں ہیں۔
عوام کی جان ،مال ،عزت و آبرو کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے مگر عجب دور آیا ہے کہ سارا زور ناقدین کو خاموش کرانے پر ہے۔ کبھی پیکا قانون کو اپنے ناقدین اور مخالفین کے لئے استعمال کرتے ہیں، تو کبھی پولیس مقابلوں میں بہت سارے بے گناہ شہری مار دیئے جاتے ہیں۔ عام آدمی کی جان کی وقعت ہی نہیں رہی، زندگی کا تحفظ اب ریاست کی زمہ داری نہیں رہی۔ ہارڈ اسٹیٹ کے نام پر حکمرانوں کو کھلی چھوٹ میسر ہے۔ خود عوام سے جھوٹ بولیں تو سیاست ۔اگر کوئی صحافی انھیں آئینہ دکھائے تو پیکا کا قانون حرکت میں آجاتا ہے یہاں تک کہ زبان پھسلنے کا خمیازہ بھی صحافی ہی بھگتتے ہیں۔ عظمیٰ بخاری صاحبہ دن بھر کیمرے کے سامنے جو کچھ فرماتی ہیں اگر پیکا والے تھوڑی توجہ ادھر بھی دیں تو قوم کا بھی بھلا ہو جائے گا۔بات وہی ہے کہ قانون بنانے اور توڑنے والی اشرافیہ احتساب سے مبرا ہے۔
المیہ یہ کہ کہ اگر عوام باشعور ہوتی تو آپ کے اور میرے ٹیکسوں پر یہ عیاشیاں کیسے کرتے؟ جس ملک میں غربت 11 سال کی بلند ترین سطح پر، بیروزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر اورآمدن میں عدم مساوات 27 سال کی بلند ترین سطح پر ہو، وہاں کے حکمرانوں کو عوام کے پیسے پر عیاشیاں زیب نہیں دیتی۔ ملک بھر میں غربت عروج پر ہے، پنجاب میں بھی آدھی عوام غربت کی چکی میں پس رہی ہے مگر بے حس حکمران طبقہ اپنی مستی میں ہے۔ جب حکمران قانون اور احتساب سے بالاتر ہو جائیں تو پھر ایسے میں پنجاب کی چیف منسٹر کا 11 ارب کے گلف سٹریم جی 500 ماڈل لگژری جیٹ پر گھومنا پھرنا تو بنتا ہے۔





