سمیرا سلیم کا بلاگ
چند برس قبل جب بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2 سے 5 روپے تک اضافہ ہوتا تو میڈیا سکرینیں چیخ چیخ کر پاگل ہو جاتیں، رپورٹرز اور اینکرز مائیک لیکر پیڑول پمپس پہنچ جاتے اور لوگوں کے تاثرات لائیو کور کرتے۔ پرائم ٹائم ٹاک شوز میں پٹرول کی قیمت بڑھنے پر بحث ہوتی، اب حالات یہ ہیں کہ آئے روز 5 سے 10 روپے فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنا معمول بن چکا ہے اور میڈیا چینلز کے لئے اب یہ بڑی خبر نہیں رہی۔ شاید ہم لوگ ٹیکسوں میں اضافے ، بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخوں میں بڑے بڑے اضافے کے عادی ہو گئے ہیں۔ رمضان المبارک کا آغاز ہونے کو ہے اور اشیائے خورونوش کے نرخ مزید آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ کچھ کمی رہ گئی تھی تو وہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا کر پوری کردی۔ عام شہری بھی اس بات کو جانتا ہے کہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے کھانے پینے سمیت ہر چیز مہنگی ہوتی ہے۔ عوام کو کچھ ریلیف دینا حکومتی ترجیحات کا حصہ نہیں ۔
ہر صیح غلط میں حکومت کا ساتھ دینے والی پیپلز پارٹی بھی ایسے مواقع پر محض گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کیلئے تنقیدی نشتر لیئے میدان میں اتر آتی ہے۔کہتے ہیں کہ حکومت کا یہ فیصلہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ عوام کو بیوقوف بنانے کی اس اداکاری پر ان حکمرانوں کو آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے۔
ہمارے حکمران جس بے دردی سے ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں اس کی مثال کسی مہذب ملک میں دیکھنے میں نہیں آتی۔ امیر ممالک میں عوام کے ٹیکسز کی ایک ایک پائی امانت سمجھ کر عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاتی ہے اور اس کا حساب بھی دیا جاتا ہے مگر یہاں کا دستور ہی نرالا ہے۔ یہاں تو ٹیکس دہندگان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کا پیسہ کہاں گیا، کہاں استعمال ہوا، اور کس کے لئے استعمال ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف عوام کے خرچ پر سرکاری جہاز لیئے نگر نگر یوں گھوم رہےہیں جیسے کولمبس کی طرح کسی نئی سرزمین کی کھوج میں ہوں۔فرق بس بحری جہاز اور ذاتی اخراجات کا ہے۔ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا تو جوابا ہمارے وزیراعظم اسی امریکہ کے طاقتور ترین شخص کو رام کر چکے ہیں اور آج پھر درشن کیلئے امریکہ موجود ہیں ۔ وزیراعظم 21 ماہ میں دنیا بھر کے تقریبا 36 دورے کرچکے ہیں مگر بیرونی سرمایہ کاری میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہوا الٹا بیرونی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی ہے ۔ اب تو یہ ہو رہا ہے کہ ادھر شہباز شریف غیر ملکی دورے پر ہوتے ہیں تو دوسری طرف ملک سے غیر ملکی سرمایہ کار اپنا بوریا بستر لپیٹ کر کے نکل جاتے ہیں۔ وزیراعظم ویانا سے لندن اور پھر وہاں سے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں اور ادھر مٹسوبشی اپنے بچے کھچے حصص بھی فروخت کر کے جا رہی ہے۔
جس پارلیمنٹ تک پہنچنے کے لئے یہ سیاستدان سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہوتے ہیں، یہاں تک اقتدار کیلئے پھانسی چڑھ جاتے ہیں یا جیل کی چکی پیستے ہیں۔ اقتدار ملتے ہی ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو ایمان کا حصہ قرار دینے والوں کا دل پھر اس پارلیمنٹ میں نہیں لگتا۔ اجلاسوں میں شرکت کیلئے وقت نہیں ملتا۔ گذشتہ دنوں فافن نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایوان میں حاضری سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق وزیراعظم صرف 6 نشتوں میں موجود رہے اور وزیراعظم نے ایوان سے دوسرے سال میں صرف 3 بار خطاب کیا۔جمہوریت، پارلیمنٹ کے تقدس اور اس کی بالادستی کو سب سے زیادہ نقصان انہیں رویوں نے پہنچایا ہے، پھر پوچھتے پھرتے ہیں کہ ہمیں کیوں نکالا۔
ادھر پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے وی آئی پی ٹرانسپورٹ کے لیے ایک لگژری طیارہ خریدنے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔پنجاب حکومت کی ترجمان، بیوروکریسی ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ ڈان اخبار نے آج ہی دعویٰ کیا ہے کہ تقریبا 42 ملین ڈالر مالیت کے اس لگثرری طیارے بارے پنجاب کے حکام سے رابطہ کیا گیا مگر عظمیٰ بخاری صاحبہ سمیت دیگر متعلقہ لوگ ہونٹوں سئے ہوئے ہیں۔ ویسے ہم بھی کمال کے لوگ ہیں، ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا کہ ہم پر لادے گئے بھاری بھرکم ٹیکسوں کے ذریعے حاصل ہونے والے پیسے حکمرانوں کے بیرون ملک سیر سپاٹوں پر خرچ ہو رہے ہیں تو کہیں ان کیلئے پرآسائش نئے طیارے کی خریداری پر۔
اشرافیہ کی عیاشیوں کا بوجھ بھی عوام پر لاد دیا جاتا ہے۔ 2019 میں، سویڈن میں سب سے زیادہ آمدنی والے افراد نے 57.19 فیصد ٹیکس ادا کیا جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ تھا۔ نارڈک ممالک ٹیکس دہندگان کا پیسہ سب سے زیادہ صحت اور تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ یہاں ایف بی آر کی ناکامیوں ،لائن لاسز، بجلی چوری ، غیر ملکی دورے ، بیڈ گورننس اور صنعتکاروں کو ریلیف کا بوجھ بھی عوام اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حکمران عوام کو تعلیم اور شعور دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اگر 25 کروڑ عوام میں شعور آ گیا تو وہ اپنے حقوق پر پڑھنے والے ڈاکے کا حساب کتاب لے گی، اور حساب کتاب دینا ہماری حکمرانوں کی ڈکشنری میں نہیں۔
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کا شہباز سرکار خوب فائدہ اٹھا رہی ہے۔اسے یقین ہے کہ سیم پیج کا یہ معاملہ یونہی چلتا رہے گا اس لیئے کارکردگی جیسی بھی ہو اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ۔ وہ بھول گئے کہ جب جنرل باجوہ اور ن لیگ میں لڑائی تھی تو عمران خان بھی ایسا ہی سوچتے تھے۔سیم پیج کا خوب شور تھا کہ پھر بازی پلٹ گئی اور اسی کے نتیجے میں وہ عمران خان کو 2022 میں ہٹا کر خود اقتدار میں آگئے۔ اگرچہ اس وقت حکومتی نالائقی کے باوجود سیم پیج کو بچانے کیلئے خزانہ، خارجہ اور دفاع کا بوجھ بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس سیم پیج کی خاطر حکومتی ناکامیوں کا بوجھ وہ کب تک اٹھاتے ہیں





