احمد آباد:گجرات میں ایک افسوسناک واقعے نے نظامِ انصاف اور صحت کے شعبے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں سڑک پر آوارہ کتے کے اچانک آ جانے سے ہونے والے حادثے کے بعد ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار کی موت ہوگئی، اور حیران کن طور پر اسی شخص کو اپنی ہی موت کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
یہ واقعہ پیج گاؤں، واسو تعلقہ کے 32 سالہ رہائشی ہتیش مستری سے متعلق ہے، جو 30 جنوری کو احمد آباد سول اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گیا۔ مرحوم کے چھوٹے بھائی روی مستری نے واسو پولیس اسٹیشن میں درخواست دائر کرتے ہوئے واقعے کی قانونی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست کے مطابق، 26 جنوری کی شام ہتیش مستری ندیاد سے پیج گاؤں موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ ٹنڈیل گاؤں کے قریب شری جی ولا سوسائٹی کے پاس ایک آوارہ کتا اچانک سڑک پر آ گیا۔ کتے سے بچنے کی کوشش میں موٹر سائیکل پھسل کر سڑک سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں ہتیش مستری کے بائیں پیر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں آئیں۔
حادثے کے بعد انہیں ندیاد کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے سی ٹی اسکین کے لیے الگ مرکز بھیجا گیا اور بعدازاں دوبارہ اسی اسپتال میں داخل کیا گیا۔ 29 جنوری کو ان کے بائیں پیر کا آپریشن کیا گیا، تاہم آپریشن کے فوراً بعد اس کی حالت اچانک بگڑ گئی اور اسے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں اسے احمد آباد سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ علاج میں تاخیر اور مبینہ غفلت نے اس سانحے کو جنم دیا۔

