سمیر اسلیم کا بلاگ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کےلیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے درمیان بھارت جانے کا معاملہ حل نہ ہوا تو اس کا انجام بنگلہ دیشی ٹیم کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے پر یوا۔ بنگلہ دیش نے بھارت میں اپنی ٹیم کیلئے جن سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا وہ مضبوط بنیادوں پر تھیں۔اگر بھارت کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں آ کر میچز کھیلنے میں سیکورٹی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، آئی سی سی ان کے لئے نیوٹرل مقام پر میچز کا اہتمام کر سکتی ہے تو ویسے ہی خدشات کی بنا پر بنگلہ دیش کے لیے بھی نیوٹرل وینیو کا بندوست کیا جا سکتا تھا۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب دیگر انٹرنیشنل کرکٹ ٹیمیں سیکیورٹی خدشات حتیٰ کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی دوسری ٹیم یا اس ملک میں جا کر کھیلنے سے انکاری ہو گئیں تاہم آئی سی سی نے کسی ملک کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک نہ کیا جو بنگلہ دیش کے ساتھ ہوا۔ اگر ماضی کی چند مثالوں پر نظر ڈالیں تو سب سے پہلے ورلڈکپ میں نہ کھیلنے کا واقعہ 1996 میں پیش آیا جس کی میزبانی بھارت، پاکستان اور سری لنکا کر رہے تھے۔ مگر سری لنکا میں جاری خانہ جنگی کے باعث آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم ان کو ورلڈ کپ کھیلنے سے محروم نہیں کیا گیا تھا جس طرح آج بنگلہ دیش کو کیا ہے۔
نیوزی لینڈ نے 2003 کے ورلڈ کپ میں کینیا میں بم دھماکوں کو جواز بنا کر جبکہ انگلینڈ نے سیاسی وجوہات کی بنا پر زمبابوے میں کھیلنے سے صاف انکار کیا تھا۔ کرکٹ بہت پہلے ہی سیاست کی نذر ہو گئی تھی۔ زمبابوے نے برطانیہ سے سیاسی تعلقات میں کشیدگی کے باعث 2009 میں انگلینڈ کی میزبانی میں ہونے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں وہاں جانے پر رضامند نہ ہوا۔ 2016 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی ٹیم نے سیکیورٹی خدشات کے باعث شرکت سے معذرت کر لی۔ گذشتہ برس کا واقعہ تو سب کو یاد ہوگا جب آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت نے پاکستان آنے سے صاف انکار کیا۔جس پر آئی سی سی نے پاکستان کے ہائبرڈ نظام حکومت سے متاثر ہو کر کرکٹ میں بھی ہائبرڈ ماڈل کا سلسلہ شروع کر دیا اور یوں پاک بھارت میچز یو اے ای منتقل کر دیئے۔
پاکستان نے سمارٹ گیم کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کھیلنے کا فیصلہ ضرور کیا ہے تاہم پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ نئے برادرانہ تعلقات کے باعث یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 فروری کو بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے قواعد وضوابط کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان کے نیٹ رن ریٹ پر اثر پڑے گا۔ مگر پاکستان کا یہ فیصلہ آئی سی سی اور بھارت پر بجلی بن کر گرا ہے۔ عالمی کرکٹ میں اس وقت ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا کی سکرینیں پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں تو آئی سی سی پاکستان کو میچ کا بائیکاٹ کرنے کی سنگین نتائج کی دھمکیاں لگا رہا ہے ۔ آئی سی سی چاہتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی سی بی اپنے ملک میں کرکٹ کے لیے اہم اور طویل مدتی مضمرات پر غور کرے کیونکہ اس سے کرکٹ کو عالمی سطح پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو آئی سی سی پاکستان پر نہ صرف بھاری مالی جرمانے عائد کر سکتا ہے بلکہ ٹورنامنٹ کے آئندہ ایڈیشن پر پابندی لگانے پر بھی غور کر سکتا ہے۔ اس بات کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کرکٹ کے دیگر سرکردہ ممالک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز کھیلنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ جن دیگر ممکنہ نتائج کا ذکر کیا جا رہا ہے ان میں آئی سی سی غیر ملکی کھلاڑیوں کی پی ایس ایل میں شرکت پر پابندی بھی عائد کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ آئی سی سی پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سے بھی آؤٹ کر سکتا ہے یا اس حوالے سے نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آئی سی سی کے بگ تھری جن میں بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ شامل ہیں، کرکٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا 75 فیصد کماتے ہیں، پاک بھارت میچ ان کیلئے ریونیو کمانے کا بڑا ذریعہ ہے۔ آئی سی سی اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کی کرکٹ کو پہنچنے والے نقصان بارے ڈرا دھمکا رہا ہے تاکہ پاکستان اپنا فیصلہ بدل دے۔انڈیا پاکستان کا میچ تجارتی لحاظ سے سب سے زیادہ منافع بخش میچ سمجھا جاتا ہے۔ آئی سی سی اور بھارت کے بزنس مین خاص طور پر امبانی گروپ اس سے بہت متاثر ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارتی چینلز کو 3 ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اسی دباؤ کے باعث اب آئی سی سی کہہ رہا ہے کہ پاکستان اس مسئلے کا حل تلاش کرے جو باہمی طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف نہ کھیل کر جو بم آئی سی سی پر گرایا ہے اس کی چیخیں ابھی سے بھارتی چینلز پر بھی سنائی دے رہی ہیں۔





