• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, فروری 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

مقروض عوام کے ارب پتی حکمران

by ویب ڈیسک
جنوری 31, 2026
in بلاگ
0
قومی اسمبلی میں امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کیخلاف قرارداد منظور، سنی اتحاد کی مخالفت
0
SHARES
23
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سمیرا سلیم کا بلاگ

ارب پتی سیاستدانوں کے مالیاتی راز پر پردہ پوشی کے لئے چند دن قبل قومی اسمبلی سے ایک بل متفقہ طور پر منظور ہوا، دلچسپ بات ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اثاثوں کی تفصیلات مخفی رکھنے پر یک زباں نظر آئے۔ ذاتی سیکیورٹی اور پرائیویسی کے تحفظ کی آڑ میں منظور کردہ اس قانون پر تحریک انصاف نے بھی یہ سوال اٹھانا مناسب نہیں سمجھا کہ آخر یہ کیسی ذاتی سیکیورٹی ہے جو اثاثوں کو عوام کی نظروں سے چھپا کر ہی حاصل ہونی ہے۔ جمہوریت اور شفافیت کا راگ الاپنے والے ہمارے سیاستدانوں نے جو لولی لنگڑی جمہوریت بچی تھی اس کو بھی دفن کر دیا ہے۔ 

جس برطانوی جمہوریت سے ہم متاثر ہیں یا جہاں سے جمہوریت اخذ کی گئی وہاں تو شفافیت کو یقینی بنانے اور مفادات کے تصادم کو روکنے کے لیے تمام ایم پیز اور ممبر آف لارڈز کو مالیاتی مفادات کے عوامی رجسٹر میں زمین/جائیداد، ڈائرکٹر شپ، ملازمت حتیٰ کہ تحائف سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ یہاں ہمارے ملک کے ڈھنگ ہی نرالے ہیں ۔ خود ساختہ بادشاہ اور ان کے وزیر آئے روز ذاتی پروٹیکشن کے لئے نئے نئے فرمان جاری کر رہے ہیں۔ ان طاقتور ارب پتی اکابرین نے تاحیات استشنی سے اثاثوں کو ڈکلیئر نہ کرنے کے تک کا سفر بخوبی طے کیا ہے۔

اگر کسی بھی فرد کے اثاثے جائز ہوں اور دولت کے مطابق ٹیکس کی ادائیگیاں کی گئیں ہوں تو پھر ایسے استشنی کی ضرورت نہ پڑتی۔ دل میں کوئی چور ہو تو ہی انسان اس طرح کے سہارے ڈھونڈتا ہے۔شفافیت تو نظام پہلے بھی اتنا مثالی نہیں مگر پھر بھی  الیکشن کمیشن ہر سال سیاستدانوں کے اثاثہ جات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھ دیتا تھا۔اس طرح حلقے کی عوام کو اپنے عوامی نمائندوں کی آمدن و اثاثوں میں غیر معمولی اضافے اور ٹیکس کی مد میں جمع کرائی گئی رقوم بارے آگاہی ہو جاتی۔ اگر ان اثاثوں میں غیرمعمولی اصافی دیکھنے میں آتا تو اس پر سوال اٹھایا جا سکتا تھا۔ اب احتساب اور شفافیت کا یہ دروازہ بھی بند کر دیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ گزشتہ چند برسوں میں ممبرانِ پارلیمان کے اثاثوں میں 110 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ 

1066 ممبر پارلیمان کے اثاثے 110 فیصد کے بڑے اضافے کے بعد 130 ارب ہو گئے ہیں، جبکہ عوام کی فی کس آمدن 15 فیصد کم ہو گئی۔ان ممبران پارلیمان میں سے 101 ممبران ایسے ہیں جو ارب پتی ہیں، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری بھی اس ارب پتی کلب کا حصہ ہیں۔ حکمران امیر سے امیر تر جبکہ عوام غریب سے غریب تر ہو رہی ہے۔ آج کسان اپنی حالت پر تو رہا ہے۔ لاگت زیادہ منافع صفر۔ دوسری حکمران اشرافیہ قرض لے لےکر شاہ خرچیاں کر رہی ہے، اور قرضوں کا سارا بوجھ عوام کے کاندھوں پر ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت ہر پاکستانی 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہے۔

چالیس سالوں سے برسرِ اقتدار دو خاندان ملک کی تباہی کا سبب بن گئے۔ ملکی ادارے بیچے، قرضوں کے انبار لگائے، کک بیکس اور کمیشن کی خاطر غلط معاہدے کئے جس کی سزا آج بھی عوام بھگت رہی ہے، ملکی کاروبار ٹھپ جبکہ ان کے کاروبار چمک رہے ہیں۔ملکی معیشت تباہ کرنے کے بعد مریم نواز نے ملکی ایکسپورٹ بڑھانے کا ایک مضحکہ خیز فارمولا پیش کیا ہے کہ” پاکستان کی اگر ایکسپورٹس بڑھانی ہیں، تو سب سے بہترین ایکسپورٹ، ہمارے Brilliant Brains ہیں، جنہیں ہم ایکسپورٹ کر سکتے ہیں”، ویسے مریم نواز صاحبہ نے تو آخیر ہی کر دی ہے۔ کوئی ان کو بتائے کہ ملک تو پہلے ہی برین ڈرین کا شکار ہے ، 2024 اور 2025 کے درمیان، تقریباً 5ہزار ڈاکٹرز، 11 ہزار انجینئرز، 13 ہزار اکاؤنٹنٹس اور لاکھوں دیگر ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد ملک چھوڑ گئے ہیں۔ یہ فخر کی بات نہیں ہے۔ جس ملک کے بہترین دماغ ملک میں نہ رہیں وہاں نہ جدت تقویت پاتی ہے، نہ ایجادات ہوتی اور نہ ہی ملک ترقی کرتے ہیں۔ یہ کیسے حکمران ہم پر مسلط ہیں ان کی ذہانت سمجھ سے بالاتر ہے۔ 

حکمرانوں اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دبئی لیکس اور پانامہ لیکس کے بعد ایک آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ کے جواعداد و شمار سامنے آئے ن میں سے ایک درجن سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی افسران اور انکے خاندان، بینکرز اور بیوروکریٹس بھی دبئی کے مہنگے اور اعلیٰ درجے کے علاقے میں جائیدادوں کے مالک نکلے۔۔ یورپ میں جائیدادوں کی کہانی تو آپ خواجہ آصف کی زبانی سن ہی چکے ہیں۔ ایک طرف یہ رولنگ ایلیٹ پاکستان کے قومی خزانے سے سرکاری مراعات اور تنخواہوں میں بے پناہ اضافے سے بھی لطف اندوز ہو رہی ہے، تو دوسری طرف بیوی، بچے ،کاروبار اور جائیدادیں بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں۔ ان کا اصل گھر پاکستان نہیں ، ورنہ یہ ملک کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کرتے۔ 

اب یہ جو وارادت ڈالی گئی ہے، اس کے بعد اسپیکر قومی وصوبائی اسمبلیوں کے متعلقہ اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو مالیاتی اثاثوں اور گوشواروں کی تفصیلات شائع کرنے یا نہ کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ ارکان پارلیمان کو عوامی اور عدالتی احتساب سے مکمل استثنی دے دی گئی ہے۔ اب سپریم کورٹ نہیں بلکہ آئینی عدالت الیکشن قوانین کی تشریح اور انتخابی تنازعات کا حل نکالے گی۔ اس لئے تو غریب ملک کی امیر وفاقی حکومت آئینی عدالت کے ججز کے لئے 6 کروڑ کی پانچ لگثرری گاڑیاں خرید رہی ہیں، ظاہر ہے ججز کو بھی تو ذاتی تحفظ اور سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ۔۔کلیئرنس آپریشن کی تفصیلات

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ۔۔کلیئرنس آپریشن کی تفصیلات

ایف آئی اے کراچی کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری

ایف آئی اے کراچی کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری

عمران خان سےکوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، جو ڈی چوک آئےگا وہ گرفتار ہوگا: محسن نقوی

پاکستان کا انکار، بھارت اور آئی سی سی گھبراہٹ کا شکار

پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو مہم میں فنڈنگ دی تھی، جیفری ایپسٹین کا دعویٰ

پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو مہم میں فنڈنگ دی تھی، جیفری ایپسٹین کا دعویٰ

وفاقی دارالحکومت میں پہلی جنگ عظیم کی برطانوی یادگار مسمار

وفاقی دارالحکومت میں پہلی جنگ عظیم کی برطانوی یادگار مسمار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In