ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک امام کی ٹرین میں ہلاکت کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں پولیس نے ابتدائی طور پر حادثہ قرار دیے گئے کیس میں اب قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہار کے ضلع سیوان سے تعلق رکھنے والے امام توصیف رضا مظہری یوگ نگری رشی کیش ایکسپریس کے جنرل کوچ میں سفر کر رہے تھے جب وہ پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے۔ ان کی اہلیہ تبسم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر کو ان کی مذہبی شناخت، داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
تبسم کے مطابق مظہری اپریل کے آخری ہفتے میں بریلی ایک مذہبی تقریب (عرس) میں شرکت کے لیے آئے تھے اور 26 اپریل کی رات بریلی جنکشن سے واپسی کے لیے ٹرین میں سوار ہوئے۔ ایف آئی آر کے مطابق ٹرین میں سوار ہونے کے چند منٹ بعد ہی انھوں نے اپنی اہلیہ کو فون کر کے بتایا کہ انہیں کوچ کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اگلے اسٹیشن پر پولیس کی مدد کا انتظام کیا جائے۔
اہلیہ کا کہنا ہے کہ کال کے دوران ویڈیو بھی منسلک ہوئی جس میں وہ اپنے شوہر کو مبینہ طور پر پٹتے ہوئے دیکھ سکیں جبکہ دیگر مسافر مدد کے لیے آگے نہیں آئے۔ کچھ دیر بعد فون بند ہو گیا اور اگلی صبح پولیس نے انھیں شوہر کی ہلاکت کی اطلاع دی جسے ابتدا میں حادثہ قرار دیا گیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس کیس میں اس وقت پیش رفت ہوئی جب مبینہ آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے: ’تبسم، فوراً پولیس کو کال کرو، یہ لوگ مجھے بری طرح مار رہے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم میں چہرے، کندھے اور سینے پر متعدد زخموں کے علاوہ کھوپڑی اور پسلیوں کے فریکچر کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ موت کی وجہ شدید خون بہنا اور کوما بتائی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، امام کے سفر کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور بریلی جنکشن سمیت مختلف مقامات کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کی بھی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ مزید تفتیش کے لیے ایک ٹیم کو سیوان بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

