• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 10, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

سیاہ کاری اور کاروکاری۔۔دور جاہلیت کا سفر جاری

by ویب ڈیسک
مئی 9, 2026
in بلاگ
0
امریکی ویزا مسترد ہونے کا دکھ ،بھارتی خاتون ڈاکٹر نے مبینہ طور پر اپنی جان لے لی ، ملازمہ نے کیا دیکھا ؟ 
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

پاکستان میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ ایک ایسی کڑوی حقیقت ہے جو دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ عوامی مذمت اور قانونی اصلاحات بھی اس ظالمانہ اور فرسودہ رسم، روایت اور سوچ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ آج بھی خاندان کی ‘عزت’ کے دفاع کی خاطر خواتین اور بعض اوقات مرد اپنے رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہتے ہیں۔ ملک میں معصوم بچیوں اور خواتین کا کاروکاری اور سیاہ کاری کے نام پر قتل اب معمول بن چکا ہے۔ بس ایک الزام اور پوری انسانیت دفن۔ چاہے وہ ٹنڈو مستی کی روبینہ چانڈیو ہو، سکھر کی گلاں بھارو یا پھر ڈیگاری کی بانو۔ اس ماں جیسی ریاست میں بربریت کی بھینٹ چڑھنے والوں کا تحفظ خواب بن چکا ہے۔ مجھے تو اس وقت حیرت نے گھیر لیا جب یہ پڑھا کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں کچھ قبرستانوں کو "کاریوں کے قبرستان” کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں کاروکاری کے الزام میں قتل ہونے والوں کو اکثر بغیر کفن کے ہی دفن کر دیا جاتا ہے۔ میت کو کاندھا تک نہیں دیا جاتا۔ سندھ، ایک آکسفورڈ سے پڑھے لکھے روشن خیال نوجوان لیڈر بلاول بھٹو زرداری کے ہوتے ہوئے بھی، عورتوں کے لیے قبرستان بن چکا ہے۔ بلاول کی تعلیم اور روشن خیالی سندھ کے اندھیرے دور نہ کر سکی۔ سندھ حکومت پر جاگیردارانہ اثرورسوخ کے باعث غیرت کے نام پر قتل کو legitimize کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سندھیانی تحریک کے مرکزی صدر عمرہ سامون نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت نے "جان بوجھ کر سندھ کو خواتین کے لیے قتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے”، جبکہ حکمران جماعت سے وابستہ بااثر جاگیردار شخصیات نے غیرت کے نام پر قتل کو ایک "کاروبار” بنا لیا ہے۔

شیری رحمان نے روبینہ چانڈیو کے دن دھاڑے سینکڑوں لوگوں کے سامنے قتل کی مذمت تو کر دی مگر کیا اتنا کافی ہے؟ وہ خود اس نظام کا حصہ ہیں ، جو دہائیوں سے پروان چڑھ رہا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد اور غیرت کے نام پر قتل میں شریک ایک فرد نہیں بلکہ یہ پورا سماج ہے، جس نے ان گھناؤنے جرائم کی پشت پناہی میں حصہ ڈالا۔ ریاست اور حکومت تو ایک طرف ، ماں باپ اپنے ہی لخت جگر کے ساتھ یہ سب کیسے کر لیتے ہیں، سمجھ سے بالاتر ہے ۔ اب تو آئے روز اخبار کالے ہوئے پڑے ہیں ایسے واقعات سے۔ سندھ میں ابھی روبینہ چانڈیو اور گلاں بھارو کے قتل کا شور تھما نہ تھا کہ سانگھڑ میں ایک باپ نے اپنی 15 سالہ بچی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا، اور لاش گھر میں ہی دفنا دی۔ ادھر واہ کینٹ میں بھی ایک باپ نے 16سال کی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ یہ سفاکیت ، بربریت اور جہالت معصوم زندگیوں کو لقمہ اجل بنا رہی ہے۔ ایک 15 سال کی بچی کو کیا معلوم کہ اس کے لیے صحیح اور غلط کیا یے۔ یہ والدین ہی تو ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر ان کو صحیح راستہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، نہ کہ بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی اور جاگیر دارانہ نظام کی جڑیں طاقت کے ایوانوں میں اس حد تک مضبوط ہو چکی ہیں کہ اس سے چھٹکارا اب آسان نہیں رہا۔ یہ جو کاروکاری اور سیاہ کاری کے فتوے دیتے ہیں ، اگر ان سے طاقت کا لحاف اتار دیا جائے تو معلوم پڑے کہ یہ خود کیا گل کھلا رہے ہیں۔ سندھ کی گلاں بھارو اور بلوچستان کی بانو۔۔یہ جبر کی ایک طویل داستان کے چند کردار ہیں، یہاں آئے روز غیرت کے نام پر قتل عام ایک کاروبار بن چکا ہے۔گذشتہ سال بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں ایک جوڑے کا لرزہ خیز قتل اور گلاں بھارو کے قتل میں مماثلت دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح عزت کا واسطہ اور تحفظ کا یقین دلا کر واپس لایا جاتا ہے تاکہ ان کا خون بہا کر اپنی جنونیت کی تسکین کی جا سکے۔ 

قرآن ہاتھ میں تھامے کھڑی بانو اور اس کے الفاظ کے بس مجھے گولی مار دو لیکن میرے قریب مت آؤ اور دو بچوں کی ماں گلاں بھارو کے الفاظ کے "مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا” ان سفاکیت میں ملبوس خاندان کے افراد کے ضمیر کو جھنجھوڑ نہ سکے اور موت ان کا مقدر بن گئی۔ اب ان بچوں کی قسمت دیکھیں کہ وہ بچے اپنی ہی ماں کے قاتلوں کے گھر پروان چڑھنے پر مجبور ہیں۔ آگے کن کٹھن حالات کا سامنا ان دو معصوم جانوں کو کرنا پڑے گا یہ سوچ کر روح ہی کانپ جاتی ہے۔ مگر ہماری حکومتوں کی بے حسی بیان سے باہر ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کو اب نجی خاندانی معاملات کے طور پر سمجھنا اور قبول کرنا معاشرے کو مزید تباہی کی طرف لے جانے کے مترادف ہے۔ مرد کے سو گناہ معاف اور عورت کو ناقابل معافی ٹھہرانا ایک سماجی مسلہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کا مضبوط نفاذ اور غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں عدالتوں کے ذریعے تیز ترین انصاف وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مگر افسوس کہ حالات مایوس کن اور امید کا دیا بھی بجھا ہوا سا ہے۔

گزشتہ چھ برسوں میں بلوچستان میں 232 افراد غیرت کے نام پر قتل ہو گئے جبکہ سندھ میں 2022 سے 2025 کے درمیان 595 افراد کو کارو کاری کے الزام میں موت کی نیند سلا دیا گیا۔ گلاں بھارو یا بانو وہ بدقسمت خواتین جن کے قتل کی داستان سوشل میڈیا عوام میں لے آیا وگرنہ ملک بھر میں ایسے واقعات ایک بڑی تعداد رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ ہماری پولیس ،تفتیشی اور  عدالتی نظام کی کمزوریاں ہیں۔ یاد کریں جب بانو اور اس کے شوہر کو قتل کیا گیا تو وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے یقین دہانی کروائی تھی کہ اس کیس میں انصاف ہو گا۔ انصاف کیا خاک ہونا تھا، اب ہر سو سناٹا چھایا یے، یہ کیس بھی فائلوں کی نظر ہو چکا، اور عدالت نظام کے کمال دیکھیں کہ جرگے میں جس شخص نے قتل کا حکم دیا تھا وہ سردار سرباز ستکزئی ضمانت پر رہا ہو چکا ہے۔ فرسودہ روایت ، رسم اور جاہلیت جیت گئی، قانون ہار گیا۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
کیمپ ختم، مہاجر شہر میں: افغان کیمپوں کی بندش کے بعد خیبرپختونخوا میں نئی آبادیاتی تبدیلی شروع

کیمپ ختم، مہاجر شہر میں: افغان کیمپوں کی بندش کے بعد خیبرپختونخوا میں نئی آبادیاتی تبدیلی شروع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In