• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, جون 16, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home بلاگ

ایران امریکا کے درمیان ڈیل پاکستان کے لئے بڑا موقع

by ویب ڈیسک
جون 16, 2026
in بلاگ
0
ٹیکنالوجی سیکٹر کو بڑا جھٹکا ، ایچ ون بی ویزے کی فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


سمیرا سلیم کا بلاگ

جہاں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے بعد 28 فروری سے جاری جنگ کا باقاعدہ خاتمہ عالمی سطح پر اقتصادی ریلیف کا باعث بنا ہے، وہیں امن معاہدے میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کو بھی عالمی رہنماؤں نے خوب سراہا ہے۔دنیا انتظار میں تھی کہ کب یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرے تاکہ آبنائے ہرمز سے تیل و گیس کی ترسیل کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس دیے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچ سکے۔ جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں عالمی کساد بازاری کے خدشات جنم لے رہے تھے، اس لیے ایران اور امریکا کے مابین امن معاہدے کی خبر سنتے ہی آسٹریلیا، ترکی، قطر، جاپان، کویت، اٹلی، ہالینڈ اور برطانیہ کے رہنماؤں نے تاریخی معاہدے تک پہنچنے میں پاکستان کے کردار کو اہم اور مبارکباد کا مستحق قرار دیا۔دنیا کو تباہی سے بچانے پر پاکستان کو نوبیل امن انعام (نوبل پیس پرائز) کا حقیقی حقدار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت کو گزشتہ سال جنگ میں شکست دینے کے بعد پاکستان کی عالمی افق پر یہ دوسری بڑی کامیابی ہے۔ہمارے حکمران اگر حکمت سے کام لیں تو یہ معاہدہ سفارتی کامیابی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران سے پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ہم پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بحال ہونے سے سستی گیس حاصل کر سکتے ہیں، جس سے معیشت کا پہیہ چلے گا۔مگر بات پھر نیت کی ہے۔ ایران تو پہلے ہی معاہدے کے تحت پاک ایران سرحد تک اپنے حصے کی گیس پائپ لائن بچھا چکا ہے، اب پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کب اپنے حصے کی پائپ لائن بچھاتا ہے تاکہ بند صنعتوں کا پہیہ پھر سے چلنے لگے اور 18 ارب ڈالر کے جرمانے سے بھی بچا جا سکے۔عالمی سطح پر اس معاہدے کا بڑی بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بھی بڑا جھٹکا لگا۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے سے تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ جیسا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد پٹرول کی قیمتیں چٹان کی مانند گر جائیں گی۔عالمی منڈی میں اس وقت پٹرول 80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے، جو اس جنگ کے آغاز سے قبل 70 ڈالر فی بیرل تھا۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنیوا میں معاہدے پر دستخط ہوتے ہی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی۔ادھر اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلق رکھنے والے فیصل واڈا نے ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں اپنے انکشاف سے سنسنی پھیلا دی ہے کہ جنیوا میں 100 ارب کی لاگت سے کسی بڑے کا "محل” تعمیر ہو رہا ہے۔ فیصل واڈا اگر نام بھی بتا دیتے تو عوام کی کچھ رہنمائی ہو پاتی۔خیر، عوامی پیسوں کی لوٹ مار کی اس داستان پر پھر بات کریں گے، ابھی تو بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستانی صارفین کو پٹرول پمپ پر یہ بڑا ریلیف ملنے میں کتنا عرصہ لگے گا؟ آیا عوام کو مکمل ریلیف دیا بھی جائے گا یا نہیں؟عوام اگر بھولی نہیں تو جنگ سے قبل پاکستان میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 253 سے 258 روپے کے درمیان تھی۔

آبنائے ہرمز، جو کہ ایک اسٹریٹجک چوک پوائنٹ ہے، اس کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو تین مہینوں تک بری طرح متاثر کیا، اور اب یہ ڈیل عالمی سطح پر سکون کا باعث بنی ہے۔ مگر پاکستانی عوام کے لیے اس میں راحت کا کچھ سامان ہے یا نہیں، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔پاکستان میں ٹیکس کے نام پر عوام کا خون نچوڑنے کی سوچ کے حامل حکمرانوں کا طرزِ عمل تو یہی بتاتا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کو عالمی منڈی کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے سستا بیچنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بجٹ میں جتنی پیٹرولیم لیوی بڑھا دی گئی ہے، اس کے بعد عوام کو مکمل ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لیوی کی مد میں اکٹھا کیا جانے والا اربوں روپیہ وفاقی قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہیں ہوتا، جسے نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کے تحت صوبوں کے ساتھ تقسیم کرنا لازمی ہوتا ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت کی چاندی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ کر کے اپنا ریونیو بڑھانے کا ایک آسان طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔عالیشان محلات میں رہنے اور عوامی پیسوں پر لگژری جہازوں میں نگر نگر گھومنے والے اپنی رعایا کی تکلیف سے مکمل طور پر بے حس ہو گئے ہیں۔ ماضی میں کہیں عوام کے ووٹوں کا کچھ بھرم رکھا جاتا تھا، موجودہ نظام میں اس تکلف کو بھی گوارا نہیں کیا گیا۔ حکمرانی کے لیے رعایا کے ووٹوں کی ضرورت باقی نہیں رہی، سو عوام چیخیں یا چلائیں، ان پر کچھ اثر ہونے والا نہیں، ملک یونہی چلتا رہے گا۔

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In