واشنگٹن: امریکی خبر رساں ویب سائٹ Axios نے دو امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی حمایت فراہم کی۔
رپورٹ میں دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے حملوں سے قبل واشنگٹن کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا اور ممکنہ بڑے تصادم کے خدشے کے پیش نظر امریکی حمایت طلب کی۔ حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں کارروائی کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔
Axios کے مطابق پیر کے روز سعودی عرب کی جانب سے صنعاء ایئرپورٹ پر حملہ اور اس کے بعد حوثیوں کے جوابی میزائل و ڈرون حملے 2022 کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سب سے بڑی سرحد پار عسکری کشیدگی ہیں، جو چار سال سے جاری غیر اعلانیہ جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کو خدشہ ہے کہ حوثیوں کے ساتھ تنازع ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے لیے انہیں نہ صرف امریکی فوجی بلکہ سفارتی حمایت بھی درکار ہوگی۔
Axios کے مطابق گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں سعودی سفیر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جس کے بعد روبیو نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں جمعہ کو صدر ٹرمپ اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں حوثیوں کے خلاف کارروائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم صدر ٹرمپ کے ایران مخالف حالیہ بیانات کا حوالہ دیا، جبکہ واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے بھی اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
Axios کے مطابق حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب تقریباً ایک دہائی بعد ایران کی ماہان ایئر کی ایک پرواز حوثیوں کے زیرِ کنٹرول صنعاء پہنچی اور حوثی رہنماؤں کے ایک وفد کو ایران لے گئی، جہاں انہوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب کو خدشہ تھا کہ ان پروازوں کے ذریعے حوثیوں تک اسلحہ، میزائلوں کے پرزے اور ایرانی فوجی ماہرین منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر پیر کے روز سعودی فوج نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملہ کیا، جس کے باعث ایرانی طیارہ اپنا رخ تبدیل کرکے الحدیدہ میں اترا۔
رپورٹ کے مطابق اس حملے کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا اور بین الاقوامی ایئرلائنز کو خبردار کیا کہ جب تک صنعاء ایئرپورٹ کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، سعودی فضائی حدود استعمال نہ کریں۔
Axios کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ مکمل جنگ چھڑ گئی تو اس سے نہ صرف یمن بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی بھی مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔

