لاس اینجلس: معروف امریکی اینتھالوجی سیریز Good American Family کا دوسرا سیزن 1990 کی دہائی کے سب سے زیادہ چرچے میں رہنے والے اور متنازع فوجداری مقدمات میں سے ایک، لورینا اور جان بوبٹ کیس کو موضوع بنائے گا۔
امریکی میڈیا ادارے ڈیڈ لائن کے مطابق اسٹریمنگ پلیٹ فارم ہولو نے لورینا اور جان بوبٹ کی زندگی اور ان سے جڑے مشہور کیس پر مبنی محدود سیریز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سیریز کیٹی رابنز کی تخلیق کردہ Good American Family کی دوسری قسط ہوگی۔
1993 میں ایک واقعے نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی
لورینا اور جان بوبٹ کا کیس 1993 میں اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آیا جب لورینا بوبٹ نے اپنے شوہر جان بوبٹ پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سو رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق لورینا نے باورچی خانے کی چھری سے جان بوبٹ کا عضوِ تناسل کاٹ دیا، جس کے بعد وہ گاڑی میں وہاں سے روانہ ہوگئیں اور اسے گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس سے رابطہ کرکے اس مقام کی نشاندہی کی جہاں انہوں نے اسے پھینکا تھا۔
حکام نے کاٹا گیا عضو تلاش کرلیا، جسے اسپتال منتقل کیا گیا اور ڈاکٹروں نے طویل اور پیچیدہ سرجری کے ذریعے اسے دوبارہ جوڑ دیا۔
لورینا نے شوہر پر برسوں کے تشدد کا الزام لگایا
واقعے کے بعد شروع ہونے والی عدالتی کارروائی نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ لورینا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے شوہر کی جانب سے کئی برس تک جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا کرتی رہی تھیں۔
لورینا نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ واقعے کی رات جان بوبٹ نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ تاہم جان بوبٹ نے ان الزامات کی تردید کی۔
لورینا کے خلاف جان بوجھ کر شدید جسمانی نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، تاہم 1994 میں عدالت نے انہیں عارضی ذہنی عدم توازن کی بنیاد پر قصوروار نہ ہونے کا فیصلہ سنایا۔
دوسری جانب جان بوبٹ کے خلاف ازدواجی جنسی زیادتی کے الزام میں بھی مقدمہ چلایا گیا، لیکن وہ اس مقدمے میں بری ہوگئے۔
ایک عدالتی کیس جو عالمی میڈیا کا تماشا بن گیا
بوبٹ کیس محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں رہا بلکہ اس نے امریکی معاشرے میں گھریلو تشدد، جنسی زیادتی، صنفی تعلقات اور متاثرین کے ساتھ برتاؤ پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔
اس کیس کی میڈیا کوریج اتنی غیر معمولی تھی کہ لورینا اور جان بوبٹ کی ذاتی زندگی ایک عالمی تماشے میں تبدیل ہوگئی۔ ٹیلی وژن پروگراموں، اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں اس واقعے کو مسلسل زیر بحث لایا جاتا رہا۔
Good American Family کا نیا سیزن اسی پہلو کو بھی نمایاں کرے گا کہ کس طرح ایک حقیقی انسانی المیے اور مبینہ گھریلو تشدد کے معاملے کو میڈیا نے سنسنی خیز تفریح میں تبدیل کردیا۔
سیریز کے ابتدائی خلاصے کے مطابق یہ کہانی ایک ایسے ورجینیا کے جوڑے سے متاثر ہے جس نے "میڈیا میں ایسا طوفان برپا کردیا جس نے صدمے کو تفریح میں تبدیل کردیا اور صنفی بحث کو مزید ہوا دی۔”
پہلے سیزن کی کامیابی کے بعد نئی کہانی
Good American Family کے پہلے سیزن میں نٹالیہ گریس کا متنازع کیس پیش کیا گیا تھا۔ یوکرین میں پیدا ہونے والی نٹالیہ، جو ایک نایاب قسم کے بونے پن کا شکار تھیں، کو ایک امریکی خاندان نے گود لیا تھا۔
پہلے سیزن میں نٹالیہ کی عمر، گود لینے کے عمل اور ان کے گود لینے والے والدین کے ساتھ تعلقات سے متعلق متضاد دعوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا۔
پہلے سیزن میں ایلن پومپیو، مارک ڈوپلاس اور امیجن فیتھ ریڈ نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ آٹھ اقساط پر مشتمل پہلے سیزن کے فائنل نے ہولو اور ڈزنی پلس پر ابتدائی چھ دنوں کے دوران دنیا بھر میں 63 لاکھ ویوز حاصل کیے۔
ایلن پومپیو پردۂ اسکرین پر نہیں ہوں گی
پہلے سیزن میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اور ایگزیکٹو پروڈیوسر ایلن پومپیو نئے سیزن کے ساتھ بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر وابستہ رہیں گی، تاہم ان کے اس بار اسکرین پر نظر آنے کی توقع نہیں ہے۔
سیریز کی خالق اور مصنفہ کیٹی رابنز بھی نئے سیزن کے لیے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گی۔
لورینا بوبٹ کیس پر مبنی نئے سیزن کی کاسٹ اور ریلیز کی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی، تاہم 1990 کی دہائی کے اس غیر معمولی کیس کو دوبارہ ڈرامائی انداز میں پیش کیے جانے کی خبر نے شائقین اور امریکی میڈیا میں دلچسپی پیدا کردی ہے۔
یہ سیزن صرف ایک چونکا دینے والے فوجداری واقعے کو دوبارہ بیان کرنے کے بجائے اس سوال کا بھی جائزہ لے گا کہ گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور انسانی صدمے کو میڈیا کس طرح پیش کرتا ہے اور کب ایک حقیقی المیہ عوامی تفریح کا حصہ بن جاتا ہے۔

