• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, ستمبر 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home دنیا

آخر حوثی چاہتے کیا ہیں؟

by ویب ڈیسک
ستمبر 16, 2026
in دنیا
0
آخر حوثی چاہتے کیا ہیں؟
0
SHARES
152
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مترجم : زاہد بلوچ

شمالی یمن کے پہاڑوں سے اٹھنے والی نسبتاً چھوٹی باغی تحریک آج اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ نہ صرف ایک بین الاقوامی جنگ پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کو خطرے میں ڈالنے اور سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کی پوزیشن میں بھی ہے۔

حوثیوں کے اثر و رسوخ میں ڈرامائی اضافہ اس وقت مزید اہم ہوگیا ہے جب بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں ان کی حالیہ پیش قدمی نے انہیں باب المندب کے اطراف میں زیادہ اثر و رسوخ فراہم کیا ہے۔باب المندب وہ تنگ سمندری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں شدید خلل پیدا ہونے کے بعد بحیرہ احمر کا راستہ توانائی کی ترسیل کے لیے مزید اہم ہوگیا ہے یوں جغرافیہ حوثیوں کے لیے طاقت کا ذریعہ بن گیا ہے۔

باغیوں سے علاقائی طاقت تک

2000ء کی دہائی کے آغاز میں حوثی شمالی یمن میں مرکزی حکومت کے خلاف لڑنے والی ایک باغی تحریک تھے دو دہائیوں بعد وہ دارالحکومت صنعاء سمیت شمالی یمن کے وسیع علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ایسی فوجی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں جس کے ذریعے وہ یمن کے ساحلوں سے بہت دور موجود بحری جہازوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔حوثیوں نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے خلاف کئی سال تک جنگ کا سامنا کیا اور اس کے باوجود اپنی طاقت برقرار رکھی بعد ازاں 2023ء میں بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے شروع کرکے انہوں نے عالمی بحری تجارت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت بھی ثابت کردی۔دی نیویارک ٹائمز نے حوثیوں کی اس تبدیلی کو ایک ’’بے قاعدہ چھوٹی ملیشیا‘‘ سے ایک غیر متوقع علاقائی طاقت بننے سے تعبیر کیا ہے۔ان کی یہ پیش قدمی ایسے وقت میں ہوئی جب انہیں کہیں زیادہ فوجی اور مالی وسائل رکھنے والے مخالفین کا سامنا تھا۔

آخر حوثی چاہتے کیا ہیں؟

ایران کے ساتھ حوثیوں کا اتحاد اہم ہےلیکن صرف ایران کے ساتھ تعلقات ان کے تمام عزائم کی وضاحت نہیں کرتے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق بحیرہ احمر کے اطراف میں بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی حوثیوں کی صلاحیت نے تہران کو امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی میں اضافی دباؤ کا ذریعہ بھی فراہم کیا ہے۔تاہم حوثیوں کے اپنے بھی واضح مقاصد ہیں۔حوثی خود کو یمن کی جائز اتھارٹی کے طور پر پیش کرتے ہیں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو شکست دینے یا اسے کمزور کرنے کے خواہاں ہیں،اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ریاض حوثیوں کے یمنی مخالفین کی حمایت ختم کرے،حوثیوں کے مطالبات میں یمن کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی اور کئی سال جاری رہنے والی جنگ کے حوالے سے سعودی عرب سے معاوضہ بھی شامل ہے،یمن میں حوثیوں کی حالیہ علاقائی پیش قدمیاں ان تینوں مقاصد کے حصول کے لیے ان کی سودے بازی کی پوزیشن مزید مضبوط کرسکتی ہیں۔

باب المندب نے صورتحال کیوں بدل دی؟

حوثیوں کو اثرانداز ہونے کے لیے امریکا جیسی طاقتور بحریہ یا سعودی عرب جیسی بڑی معیشت کی ضرورت نہیں،ان کے پاس جغرافیہ ہے،باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان سفر کرنے والے بحری جہازوں کو یمن اور افریقہ کے ہارن کے درمیان واقع اس تنگ سمندری راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔جب دنیا کی ایک اور اہم گزرگاہ، آبنائے ہرمز، بھی متاثر ہو تو باب المندب کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔حوثی پہلے ہی ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ بحری کمپنیوں کو بحیرہ احمر کے راستے استعمال کرنے کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ان کی تازہ علاقائی پیش قدمی انہیں نہ صرف یمن کے اندر بلکہ سمندری تجارت پر انحصار کرنے والی علاقائی طاقتوں کے مقابلے میں بھی اضافی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔

حوثی اپنے سیاسی، علاقائی اور معاشی مقاصد رکھتے ہیں اور موجودہ صورتحال کو ان مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس وقت سعودی عرب کو مشکل فیصلے کا سامناہے،ریاض کے لیے حوثیوں کے خلاف دوبارہ محاذ کھولنا بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔سعودی عرب نے 2015ء میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے والے اتحاد کی قیادت کی تھی لیکن کئی سال کی جنگ اس تحریک کو ختم کرنے میں ناکام رہی ،یہ تنازعہ سعودی عرب کے لیے سیاسی و مالی طور پر بھی مہنگا ثابت ہوااس کے باوجود حوثی پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر ابھرے۔دی نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی عرب کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ایک اور فوجی محاذ وہ نتائج حاصل کرسکتا ہے جو گزشتہ مہم حاصل نہیں کرسکی۔یہ فیصلہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ سعودی عرب اس وقت اپنی معیشت اور سیاحت کے شعبوں میں بڑے منصوبوں پر توجہ دے رہا ہے، جن میں ایکسپو 2030 اور 2034ء کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی شامل ہے۔حوثی یمن میں سیاسی غلبہ، معاشی وسائل اور سعودی عرب سے مراعات چاہتے ہیں۔

جغرافیہ حوثیوں کا سب سے بڑا ہتھیار بن گیا

حوثیوں کے عروج سے یہ وسیع تر سبق سامنے آتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا تعین صرف فوجی قوت سے نہیں ہوتا۔ایک نسبتاً چھوٹا گروہ اگر کسی اہم بحری گزرگاہ کے قریب موجود ہو تو وہ اس سے کہیں بڑی ریاستوں کے لیے بھی مشکلات اور اضافی اخراجات پیدا کرسکتا ہے۔ایران بھی طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کے گرد اپنی جغرافیائی پوزیشن کو اسی طرح استعمال کرتا آیا ہے۔ اب حوثی باب المندب کے حوالے سے اسی اصول کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
بشکریہ: گلف نیوز

ویب ڈیسک

ویب ڈیسک

Next Post
عمران خان پر بننے والی فلم ’کرکٹر‘ جو مکمل نہ ہو سکی: ’مجھے اِس کردار کے لیے 35 سال قبل ڈیڑھ لاکھ روپے ایڈوانس ملا تھا‘

عمران خان پر بننے والی فلم ’کرکٹر‘ جو مکمل نہ ہو سکی: ’مجھے اِس کردار کے لیے 35 سال قبل ڈیڑھ لاکھ روپے ایڈوانس ملا تھا‘

ٹیکنالوجی سیکٹر کو بڑا جھٹکا ، ایچ ون بی ویزے کی فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر

امریکیوں کی قیمت 5 ہزار ڈالر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In