سمیر اسلیم کا بلاگ
امریکا میں ہونے والے 2026 کے مڈٹرم الیکشن کا جو دھماکہ خیز نتیجہ سامنے آیا ہے، اس نے ٹرمپ کو رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگرچہ مختلف سروے اشارہ دے رہے تھے کہ امیگریشن پالیسی، ٹیرف، ایران جنگ اور پھر ایران جنگ کے نتیجے میں گیس کی قیمتیں اور مہنگائی کے طوفان سے ٹرمپ کی پاپولیرٹی کا گراف بہت حد تک گر چکا ہے، مگر شکست کا یہ پیمانہ اتنا وسیع ہوگا، یہ ریپبلکنز کے لیے بہت بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ڈیموکریٹس کی شاندار فتح کی قابلِ ذکر کہانی کے چرچے دنیا بھر میں ہو رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ کنساس، ساؤتھ کیرولائنا اور ٹیکساس میں فتوحات کے جھنڈے گاڑھ دیے ہیں، جس کا ایک سال پہلے کچھ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔افسوس کہ ایلون مسک کے تقریباً 500 ملین ڈالرز بھی ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بدترین شکست سے نہ بچا سکے، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جمہوریت پسند معاشروں میں ایک مقبول لیڈر کو اپنے غلط فیصلوں اور پالیسیوں سے غیر مقبول ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔جس عوام نے بھرپور حمایت سے ٹرمپ کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا تھا، جب وہ ان کی توقعات پر پورا نہ اترا تو اسی عوام نے تاریخی سبق سکھا دیا۔ ٹرمپ نے نئی جنگ شروع نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر اقتدار حاصل کرتے ہی وعدہ خلافی کر دی، جس کی عوام نے خوب سزا دی۔
ٹرمپ دوسری دفعہ اقتدار میں آتے ہی ایک جمہوری لیڈر کی بجائے ایک ڈکٹیٹر کا روپ دھار چکے تھے اور ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے من مانی کر رہے تھے۔ وفاقی قانون اور آئین کے ساتھ کھلواڑ ان کا شوق بن گیا تھا۔ جہاں وہ امیگریشن، ڈیپورٹیشن، سول سوسائٹی اور جنگوں کے معاملے میں طاقت کا استعمال کر رہے تھے، وہیں وہ پاکستان میں رائج نظام کی طرح الیکشن سسٹم کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے، مگر وہاں کی آزاد عدالت نے ٹرمپ کے الیکشن کنٹرول کرنے کے خواب کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔
ٹرمپ کے فیصلوں نے تاریخ کے اوراق کو پلٹ دیا، جو اپوزیشن بہت غیر مقبول تھی، آج ان کا طوطی بول رہا ہے، جبکہ ریپبلکنز اس شکست کی ذمہ داری ٹرمپ پر ڈال رہے ہیں۔ دوسری طرف اس ہنگامہ خیزی میں ٹرمپ کو قربانی کے بکرے کی تلاش ہے۔ اطلاعات آ رہی ہیں کہ اس شرمناک شکست کا ملبہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز پر گرنے والا ہے۔اس سخت اور تلخ انتخابات کے بعد اسٹاف کو تبدیل کرنے کا سوچا جا رہا ہے، تاہم یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق جس طرح 2026 میں ایران جنگ غیر مقبول رہی ہے، اسی طرح 2006 کے وسط مدتی انتخابات میں عراق جنگ کی عوامی مخالفت کے باعث ریپبلکنز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ جارج ڈبلیو بش نے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔اسی طرح، 2010 میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ملنے والی بدترین شکست کے بعد باراک اوباما نے اپنے سینئر مشیر ڈیوڈ ایکسلروڈ کو تبدیل کر دیا تھا۔ تو اس بار بھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ وزیر دفاع کو جانا پڑے گا۔ کچھ استعفوں کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے، جس میں پہلا جسٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہرمیت ڈیلون کا آیا ہے۔پارٹی کے اندر تو سول وار شروع ہو چکی ہے، مگر اب دیکھتے ہیں کہ دونوں ایوانوں میں ٹرمپ کے پر کٹنے کے بعد کیا صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔ان وسط مدتی انتخابات کے بعد اب بھی بڑی تشویش ایران جنگ ہے کہ آیا ٹرمپ دوبارہ یہ غیر مقبول جنگ اپنی انا کی تسکین کے لیے شروع کر سکتے ہیں یا نہیں۔ تاہم ایران میں رجیم چینج کے دونوں داعیوں، ٹرمپ اور نیتن یاہو، کو ان کی اپنی عوام نے سیاسی طور پر دفنا دیا ہے۔


