کے ایچ ایم گروپ کے سی ای او خالد نواز نے کہا ہے کورونا وبا ختم ہوتے ہی کے ایچ ایم گروپ کی کمپنی شالان اینڈ جی ایل نے کورونا وبا کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان اور دیگر ممالک میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ 18.28 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں جس سے ملکی ذخائر مستحکم رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس زرمبادلہ کو لانے کا سب سے بڑا ذریعہ اوورسیز پروموٹرز ہیں جو اپنی ذاتی کاوشوں کی بنیاد پر اور لگن سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں تاہم کورونا وبا کے باعث مسلسل 8 ماہ سے ان کا کام بند ہے۔
خالد نواز نے بتایا کہ اوورسیز پروموٹرز شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، ان میں سے بہت سے اپنے دفاتر بند کر چکے ہیں جبکہ باقی حکومت وقت سے ریلیف ملنے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ جس طرح انہوں نے تعمیراتی شعبے کو ریلیف مہیا کیا ہے اسی طرح اوورسیز پروموٹرز کو بھی ریلیف دیا جائے اور انہیں بلاسود قرضوں سمیت دیگر سہولتیں مہیا کی جائیں۔
کے ایچ ایم گروپ کے سی ای او کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے ہزاروں پاکستانیوں کو بیرون ملک اچھی ملازمتیں دلائی ہیں، یہی وجہ ہے کہ شالان اینڈ جی ایل بہت کم وقت میں پاکستان کے 5 ہزار پروموٹرز میں ٹاپ فائیو پوزیشن میں شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے بھی ہمارے شفاف اور موثر طریق کار کو سراہا ہے اور اس پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی ہے۔ ہمارا سیلیکشن پراسیس ہمیں دوسرے پروموٹرز سے ممتاز کرتا ہے۔
خالد نواز نے مزید کہا کہ ہمیشہ کی طرح ہم مستقبل میں بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک موجود ہماری ٹیمیں مکمل طور پر فعال ہو چکی ہیں اور ہمارے کلائنٹس سے رابطے میں ہیں، اس وقت بھی ہمارے پاس سینکڑوں آسامیوں کے آرڈرز آ چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں ہمارے پاس بہت زیادہ آسامیاں آنے کی توقع ہے۔