مانسہرہ کے نواحی گاؤں میں 4 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم کے خاندان کو علاقے سے نکال دیا گیا ہے جبکہ مظاہروں کے بعد کشیدگی پھیل گئی اور گاؤں میں پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔
تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم دھوکے سے بچی کو ایک کھیتوں میں لے گیا اور اس کے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔
ملزم کے بھائی نے رپورٹرز کو بتایا ہے کہ ہماری فیملی نے خود ملزم کو پولیس کے حوالے کیا ہے، اگر میرے بھائی نے یہ حرکت کی ہے تو ہم کبھی اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔
اس دوران مختلف اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ اکٹھے ہونا شروع ہوئے جو بعد ازاں مظاہروں کی شکل اختیار کر گئے، مظاہرین نے ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔
مشتعل طلبہ کی جانب سے ایبٹ آباد روڈ سے ختم نبوت چوک تک جلوس نکالا گیا، جہاں طلبہ کی قیادت نے خطاب بھی کیا۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس مسئلے کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔
یاد رہے کہ ملک میں زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ ماہ کراچی میں ایک 5 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا اور اس کی لاش کو مسخ کرکے ایک خالی پلاٹ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔